<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی بلڈوزرکی مغربی کنارے میں کارروائیاں، فلسطینی ریاست کے امکانات مزید کمزور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277691/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے غزہ کی جنگ ختم کرنے کا ایک منصوبہ پیش کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے ممکنہ قیام کی تجویز دی، لیکن مغربی کنارے کے گاؤں بیت اُر الفوقا کے رہائشی اشرف سمارة نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اسرائیلی بلڈوزر اس امید کو دفن کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی سیکیورٹی گارڈز کی نگرانی میں بھاری مشینری نئی یہودی بستیوں کے لیے سڑکیں بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی دیہات اور زرعی زمینوں تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔ سمارة، جو مقامی کونسل کے رکن ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اہلِ گاؤں کو اپنی زمینوں تک پہنچنے اور ان سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے ہے اور اس سے فلسطینی آبادی کو ان کے رہائشی علاقوں تک محدود کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے بننے والی ہر نئی سڑک فلسطینیوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرتی ہے، جو ان راستوں کے استعمال سے عموماً محروم رہتے ہیں۔ نتیجتاً قریبی شہروں، کھیتوں اور ملازمتوں تک ان کی رسائی مشکل تر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب برطانیہ اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے دوران بستیوں کی توسیع تیزی سے جاری ہے۔ بیشتر ممالک اور فلسطینی ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں، تاہم اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ کی رکن ہگیت اوفران کے مطابق یہ نئی سڑکیں زمینی حقائق قائم کرنے اور مزید زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں سڑکوں کی تعمیر پر 7 ارب شیکل (2.11 ارب ڈالر) مختص کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی جبکہ ان کے وزرا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے ریاستِ فلسطین کے تصور کو دفن کر دیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا منصوبہ اگرچہ ایک راستہ تجویز کرتا ہے لیکن اس کے شرائط اتنے سخت ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے غزہ کی جنگ ختم کرنے کا ایک منصوبہ پیش کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے ممکنہ قیام کی تجویز دی، لیکن مغربی کنارے کے گاؤں بیت اُر الفوقا کے رہائشی اشرف سمارة نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اسرائیلی بلڈوزر اس امید کو دفن کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اسرائیلی سیکیورٹی گارڈز کی نگرانی میں بھاری مشینری نئی یہودی بستیوں کے لیے سڑکیں بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی دیہات اور زرعی زمینوں تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔ سمارة، جو مقامی کونسل کے رکن ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اہلِ گاؤں کو اپنی زمینوں تک پہنچنے اور ان سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے ہے اور اس سے فلسطینی آبادی کو ان کے رہائشی علاقوں تک محدود کر دیا جائے گا۔</p>
<p>مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے بننے والی ہر نئی سڑک فلسطینیوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرتی ہے، جو ان راستوں کے استعمال سے عموماً محروم رہتے ہیں۔ نتیجتاً قریبی شہروں، کھیتوں اور ملازمتوں تک ان کی رسائی مشکل تر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب برطانیہ اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے دوران بستیوں کی توسیع تیزی سے جاری ہے۔ بیشتر ممالک اور فلسطینی ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں، تاہم اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ کی رکن ہگیت اوفران کے مطابق یہ نئی سڑکیں زمینی حقائق قائم کرنے اور مزید زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں سڑکوں کی تعمیر پر 7 ارب شیکل (2.11 ارب ڈالر) مختص کیے ہیں۔</p>
<p>نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست کبھی نہیں بنے گی جبکہ ان کے وزرا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے ریاستِ فلسطین کے تصور کو دفن کر دیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا منصوبہ اگرچہ ایک راستہ تجویز کرتا ہے لیکن اس کے شرائط اتنے سخت ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277691</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 12:55:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/02125304a73f14c.webp" type="image/webp" medium="image" height="658" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/02125304a73f14c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
