<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 20:16:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 20:16:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انجینئرنگ بورڈ نے درآمدی اور مقامی گاڑیوں کیلئے نئے حفاظتی و ماحولیاتی معیارات جاری کر دئیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277680/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے لیے نئے حفاظتی، کوالٹی اور ماحولیاتی معیارات کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے تاکہ صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ بورڈ نے وضاحت کی ہے کہ یہ معیارات ان گاڑیوں پر لاگو ہوں گے جو پانچ سال سے کم پرانی ہیں اور تجارتی بنیادوں پر درآمد کی جائیں گی، جبکہ مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر بھی یہ ضابطے لاگو ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجے گئے علیحدہ نوٹیفکیشنز میں ای ڈی بی نے بتایا کہ چار درجن سے زائد معیارات اور شرائط مقامی طور پر تیار شدہ اور درآمدی گاڑیوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ تجارتی بنیادوں پر گاڑیاں درآمد کرنے والی کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ ہوں اور گاڑیوں کی درآمد ان کا بنیادی کاروبار ہو۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں کا کم از کم سرمایہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے ان کے کاروبار کے حجم کے مطابق طے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، یہ کمپنیاں صرف بینکنگ چینل کے ذریعے گاڑیاں درآمد کریں گی اور مکمل ریکارڈ رکھنے کی پابند ہوں گی۔ ساتھ ہی ان پر لازم ہوگا کہ وہ گاڑیوں کے پرزہ جات کی دستیابی اور فروخت کے بعد سروس فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کریں۔ درآمدی گاڑیوں کے لیے شپمنٹ سے قبل معائنہ  بھی لازم قرار دیا گیا ہے جو جاپان آٹوموٹو اپریزل انسٹی ٹیوٹ (جے اے اے آئی)، جاپان ایکسپورٹ وہیکل انسپیکشن سینٹر (جی ای وی سی آئی)، کوریا ٹیسٹنگ لیبارٹری (کے ٹی ایل) یا چین آٹوموٹو انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی اے ای آر آئی) جیسے اداروں سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرٹیفیکیشن لازماً درج کرے گا کہ گاڑی کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئی، اوڈومیٹر تبدیل یا چھیڑا نہیں گیا، اندرونی حالت صاف ستھری ہے، انجن درست حالت میں ہے اور ماحولیاتی اخراج مقررہ حدود سے کم ہیں۔ مزید برآں گاڑی میں ایئر بیگز موجود ہوں اور ونڈ اسکرین یا شیشوں میں کوئی شگاف یا ٹوٹ پھوٹ نہ ہو۔ ہر گاڑی کا شپمنٹ کے بعد بھی تیسری پارٹی کے ذریعے معائنہ کیا جائے گا جس کے اخراجات درآمد کنندہ ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی اسمبلرز کے لیے ای ڈی بی نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کی اقتصادی کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) کے ڈبلیو پی29 ریگولیشنز پہلے ہی پاکستان میں تیار شدہ گاڑیوں پر لاگو ہیں۔ ان میں بریکنگ سسٹم، سیٹ بیلٹ اینکرجز، ایئر بیگز، ہیڈ ریسٹ، روشنی کے آلات، انجن شور اور گاڑیوں کی سائیڈ و فرنٹل ٹکراؤ میں مسافروں کے تحفظ جیسے اہم معیارات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان میں گاڑیوں کے معیار کو عالمی سطح کے قریب لانے اور صارفین کو بہتر تحفظ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف غیر معیاری گاڑیوں کی درآمد پر قابو پایا جائے گا بلکہ مقامی انڈسٹری کو بھی بہتر پیداوار پر توجہ دینے کی ترغیب ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں صارفین بارہا گاڑیوں کی کوالٹی اور سیکیورٹی فیچرز پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ماحول دوست اور محفوظ گاڑیوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے لیے نئے حفاظتی، کوالٹی اور ماحولیاتی معیارات کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے تاکہ صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ بورڈ نے وضاحت کی ہے کہ یہ معیارات ان گاڑیوں پر لاگو ہوں گے جو پانچ سال سے کم پرانی ہیں اور تجارتی بنیادوں پر درآمد کی جائیں گی، جبکہ مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر بھی یہ ضابطے لاگو ہوں گے۔</strong></p>
<p>وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجے گئے علیحدہ نوٹیفکیشنز میں ای ڈی بی نے بتایا کہ چار درجن سے زائد معیارات اور شرائط مقامی طور پر تیار شدہ اور درآمدی گاڑیوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ تجارتی بنیادوں پر گاڑیاں درآمد کرنے والی کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ ہوں اور گاڑیوں کی درآمد ان کا بنیادی کاروبار ہو۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں کا کم از کم سرمایہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے ان کے کاروبار کے حجم کے مطابق طے کیا جائے گا۔</p>
<p>مزید برآں، یہ کمپنیاں صرف بینکنگ چینل کے ذریعے گاڑیاں درآمد کریں گی اور مکمل ریکارڈ رکھنے کی پابند ہوں گی۔ ساتھ ہی ان پر لازم ہوگا کہ وہ گاڑیوں کے پرزہ جات کی دستیابی اور فروخت کے بعد سروس فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کریں۔ درآمدی گاڑیوں کے لیے شپمنٹ سے قبل معائنہ  بھی لازم قرار دیا گیا ہے جو جاپان آٹوموٹو اپریزل انسٹی ٹیوٹ (جے اے اے آئی)، جاپان ایکسپورٹ وہیکل انسپیکشن سینٹر (جی ای وی سی آئی)، کوریا ٹیسٹنگ لیبارٹری (کے ٹی ایل) یا چین آٹوموٹو انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی اے ای آر آئی) جیسے اداروں سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ سرٹیفیکیشن لازماً درج کرے گا کہ گاڑی کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئی، اوڈومیٹر تبدیل یا چھیڑا نہیں گیا، اندرونی حالت صاف ستھری ہے، انجن درست حالت میں ہے اور ماحولیاتی اخراج مقررہ حدود سے کم ہیں۔ مزید برآں گاڑی میں ایئر بیگز موجود ہوں اور ونڈ اسکرین یا شیشوں میں کوئی شگاف یا ٹوٹ پھوٹ نہ ہو۔ ہر گاڑی کا شپمنٹ کے بعد بھی تیسری پارٹی کے ذریعے معائنہ کیا جائے گا جس کے اخراجات درآمد کنندہ ادا کرے گا۔</p>
<p>مقامی اسمبلرز کے لیے ای ڈی بی نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کی اقتصادی کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) کے ڈبلیو پی29 ریگولیشنز پہلے ہی پاکستان میں تیار شدہ گاڑیوں پر لاگو ہیں۔ ان میں بریکنگ سسٹم، سیٹ بیلٹ اینکرجز، ایئر بیگز، ہیڈ ریسٹ، روشنی کے آلات، انجن شور اور گاڑیوں کی سائیڈ و فرنٹل ٹکراؤ میں مسافروں کے تحفظ جیسے اہم معیارات شامل ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان میں گاڑیوں کے معیار کو عالمی سطح کے قریب لانے اور صارفین کو بہتر تحفظ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف غیر معیاری گاڑیوں کی درآمد پر قابو پایا جائے گا بلکہ مقامی انڈسٹری کو بھی بہتر پیداوار پر توجہ دینے کی ترغیب ملے گی۔</p>
<p>یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں صارفین بارہا گاڑیوں کی کوالٹی اور سیکیورٹی فیچرز پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ماحول دوست اور محفوظ گاڑیوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277680</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 10:42:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0210410196595db.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0210410196595db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
