<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعلقات کی بہتری کے بعد پاکستان کی نظریں امریکی سرمایہ کاری پر مرکوز، بلومبرگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277660/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں واشنگٹن میں ایک سرمایہ کار کانفرنس کا منصوبہ بنارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں بلومبرگ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ شعبے بہت واضح ہیں جہاں ہم ان کی سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور جہاں ہمیں سرمایہ کاری کی واضح گنجائش نظر آرہی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اس وقت آپ نے اس عمل کا آغاز ہی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جنوبی ایشیائی ملک نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بعد خطے میں سب سے کم 19 فیصد ٹیرف حاصل کیا، جس سے برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی ملاقات کی جس میں وسیع پیمانے پر مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات سے قبل امریکی صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف آصف منیر کو عظیم شخصیات قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا دو طرفہ اقتصادی روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ، پاکستان اور امریکہ نے 50 کروڑ ڈالر مالیت کے مفاہمتی یادداشت (ایم یو او) پر دستخط کیے جس کا مقصد اہم معدنیات کی پیداوار میں تعاون ہے۔ یہ ایم او یو امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) اور پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے درمیان طے پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نیوز سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پیش رفت امریکہ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے بعد ہوئی جس میں 19 فیصد ٹیرف طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیرف کی وجہ سے پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ ہوا اور ملک کو بحران سے نکلنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ تھی کہ تجارتی مساوات کو حل کیا جائے، جو اب ہو چکی ہے۔ میری نظر میں پاکستان کی ہر ایک صنعت میں برآمدی جزو ہونا چاہیے، کیونکہ یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم اس بوم اینڈ بسٹ کے چکر سے نکل سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ 7 ارب ڈالر کے پروگرام کا جائزہ مقررہ معیار کے مطابق بڑے پیمانے پر پٹری پر ہے، اور اس بات کا ذکر کیا کہ پاکستان نے منگل کو واجب الادا 500 ملین ڈالر کا یورو بانڈ واپس کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور آئی ایم ایف نے پیر کو 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا، جن میں مالی کارکردگی اور حکمرانی میں اصلاحات پر بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل، فِچ اور موڈیز شامل ہیں نے اس سال پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں اضافہ کیا اور اس اقدام کی وجوہات میں مضبوط مالیاتی حالات اور آمدنی میں اضافے کو شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ  پاکستان کے ڈالر بانڈز اور ایکویٹیز کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی مضبوط ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے بانڈز نے اس سال تقریباً 22 فیصد منافع دیا جبکہ بینچ مارک اسٹاک انڈیکس میں اس سال 44 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ دونوں ایشیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں واشنگٹن میں ایک سرمایہ کار کانفرنس کا منصوبہ بنارہا ہے۔</strong></p>
<p>محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں بلومبرگ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ شعبے بہت واضح ہیں جہاں ہم ان کی سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور جہاں ہمیں سرمایہ کاری کی واضح گنجائش نظر آرہی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اس وقت آپ نے اس عمل کا آغاز ہی کیا ہے۔</p>
<p>حالیہ مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جنوبی ایشیائی ملک نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بعد خطے میں سب سے کم 19 فیصد ٹیرف حاصل کیا، جس سے برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی ملاقات کی جس میں وسیع پیمانے پر مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات سے قبل امریکی صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف آصف منیر کو عظیم شخصیات قرار دیا۔</p>
<p>دریں اثنا دو طرفہ اقتصادی روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ، پاکستان اور امریکہ نے 50 کروڑ ڈالر مالیت کے مفاہمتی یادداشت (ایم یو او) پر دستخط کیے جس کا مقصد اہم معدنیات کی پیداوار میں تعاون ہے۔ یہ ایم او یو امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) اور پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے درمیان طے پایا۔</p>
<p>بلومبرگ نیوز سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پیش رفت امریکہ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے بعد ہوئی جس میں 19 فیصد ٹیرف طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیرف کی وجہ سے پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ ہوا اور ملک کو بحران سے نکلنے میں مدد ملی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ تھی کہ تجارتی مساوات کو حل کیا جائے، جو اب ہو چکی ہے۔ میری نظر میں پاکستان کی ہر ایک صنعت میں برآمدی جزو ہونا چاہیے، کیونکہ یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم اس بوم اینڈ بسٹ کے چکر سے نکل سکیں گے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ 7 ارب ڈالر کے پروگرام کا جائزہ مقررہ معیار کے مطابق بڑے پیمانے پر پٹری پر ہے، اور اس بات کا ذکر کیا کہ پاکستان نے منگل کو واجب الادا 500 ملین ڈالر کا یورو بانڈ واپس کردیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور آئی ایم ایف نے پیر کو 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا، جن میں مالی کارکردگی اور حکمرانی میں اصلاحات پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل، فِچ اور موڈیز شامل ہیں نے اس سال پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں اضافہ کیا اور اس اقدام کی وجوہات میں مضبوط مالیاتی حالات اور آمدنی میں اضافے کو شامل کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ  پاکستان کے ڈالر بانڈز اور ایکویٹیز کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی مضبوط ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے بانڈز نے اس سال تقریباً 22 فیصد منافع دیا جبکہ بینچ مارک اسٹاک انڈیکس میں اس سال 44 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ دونوں ایشیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277660</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 15:44:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/01152549fe3eb00.webp" type="image/webp" medium="image" height="850" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/01152549fe3eb00.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
