<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 01:47:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 01:47:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹونی بلیئر کی مشرقِ وسطیٰ میں واپسی پر پرانے زخم ہرے، نئے سوالات سامنے آگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277649/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹو نی بلیئر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے سب سے پیچیدہ تنازع کو حل کرنے کی کوشش کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم کمیٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کی ممکنہ شمولیت نے فلسطینی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں میں حیرت اور ناراضی پیدا کر دی ہے، جبکہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے سالانہ اجلاس میں بھی ان کے کردار پر تنقید سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹونی بلیئر کی ساکھ عراق پر 2003 کی امریکی قیادت میں ہونے والی جنگ کی حمایت کے باعث سخت متاثر ہو چکی ہے۔ حماس نے ان کا کوئی بھی کردار مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اپنی قسمت کے خود مالک ہیں اور غیر ملکی سرپرستی قبول نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں ٹونی بلیئر کا نام شامل ہے، جس کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے بعد ایک بین الاقوامی ”بورڈ آف پیس“ غزہ کے معاملات دیکھے گا۔ ٹونی بلیئر کے دفتر نے تفصیل دینے سے انکار کیا لیکن اس منصوبے کو جرأت مندانہ اور دانشمندانہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹونی بلیئر 2007 میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے فوراً بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے چار فریقی ایلچی مقرر ہوئے تھے، مگر ان کی کوششیں دو ریاستی حل میں کوئی پیش رفت نہ کر سکیں۔ فلسطینی حلقے آج بھی انہیں اسرائیل نواز سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اور سابق سفارتکاروں کے مطابق ٹونی بلیئر کی امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قبولیت انہیں منفرد بنا سکتی ہے، جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ ان کا ماضی انہیں ناقابلِ قبول شخصیت بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کِم جانسن نے کہا کہ بلیئر کی شمولیت قابلِ نفرت اور غلط ہے، کیونکہ امن قائم کرنے کے لیے وہ بالکل درست انتخاب نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹو نی بلیئر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے سب سے پیچیدہ تنازع کو حل کرنے کی کوشش کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم کمیٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کی ممکنہ شمولیت نے فلسطینی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں میں حیرت اور ناراضی پیدا کر دی ہے، جبکہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے سالانہ اجلاس میں بھی ان کے کردار پر تنقید سامنے آئی۔</strong></p>
<p>ٹونی بلیئر کی ساکھ عراق پر 2003 کی امریکی قیادت میں ہونے والی جنگ کی حمایت کے باعث سخت متاثر ہو چکی ہے۔ حماس نے ان کا کوئی بھی کردار مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اپنی قسمت کے خود مالک ہیں اور غیر ملکی سرپرستی قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p>ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں ٹونی بلیئر کا نام شامل ہے، جس کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے بعد ایک بین الاقوامی ”بورڈ آف پیس“ غزہ کے معاملات دیکھے گا۔ ٹونی بلیئر کے دفتر نے تفصیل دینے سے انکار کیا لیکن اس منصوبے کو جرأت مندانہ اور دانشمندانہ قرار دیا۔</p>
<p>ٹونی بلیئر 2007 میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے فوراً بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے چار فریقی ایلچی مقرر ہوئے تھے، مگر ان کی کوششیں دو ریاستی حل میں کوئی پیش رفت نہ کر سکیں۔ فلسطینی حلقے آج بھی انہیں اسرائیل نواز سمجھتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین اور سابق سفارتکاروں کے مطابق ٹونی بلیئر کی امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قبولیت انہیں منفرد بنا سکتی ہے، جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ ان کا ماضی انہیں ناقابلِ قبول شخصیت بناتا ہے۔</p>
<p>برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کِم جانسن نے کہا کہ بلیئر کی شمولیت قابلِ نفرت اور غلط ہے، کیونکہ امن قائم کرنے کے لیے وہ بالکل درست انتخاب نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277649</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 12:45:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/011243116f16951.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/011243116f16951.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
