<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:41:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:41:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی معاشی بے یقینی اور اوپیک پلس کی ممکنہ پیداواری توسیع کے خدشات پر تیل کی قیمتیں 17 ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277639/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتیں بدھ کے روز 17 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں، مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن سے عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا جبکہ اوپیک پلس کی جانب سے آئندہ ماہ پیداوار میں اضافے کی متوقع منصوبہ بندی کے باعث مارکیٹ میں تیل کی رسد بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک برینٹ کروڈ کے دسمبر کے سودے 72 سینٹس یا 1.1 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 65.31 ڈالر پر آ گئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 68 سینٹس یا 1.1 فیصد کی کمی سے 61.69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کی قیمت 4 جون کے بعد کی کم ترین بندش کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 30 مئی کے بعد کی کم ترین سطح پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی پٹرولیم فیوچرز بھی ستمبر 2024 کے بعد کی کم ترین بندش کی سمت میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹاد کے تجزیہ کار جنیو شاہ کے مطابق تاجر توقع کر رہے ہیں کہ اوپیک پلس نومبر میں تیل کی پیداوار میں تقریباً اتنا ہی اضافہ کرے گا جتنا ستمبر میں، یعنی یومیہ 5 لاکھ بیرل، اگرچہ امریکہ اور ایشیا میں طلب میں کمی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک پلس یعنی تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس جیسے اس کے اتحادی پیداواری ممالک، نومبر میں پیداوار میں 5 لاکھ بیرل یومیہ تک اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو کہ اکتوبر کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے مارکیٹ شیئر بحال کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اوپیک نے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا ہے کہ پیداوار میں 5 لاکھ بیرل یومیہ اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹس گمراہ کن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OPECSecretariat/status/1973051647468216735"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ اُس وقت بڑھا جب گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں توقع سے کہیں زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق 26 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں نے 1.8 ملین بیرل خام تیل ذخائر میں شامل کیا، جو کہ رائٹرز کے سروے میں تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش گوئی کیے گئے 1.0 ملین بیرل اضافے سے کہیں زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک روز قبل امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) نے اپنے ذرائع سے بتایا تھا کہ مذکورہ ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 3.7 ملین بیرل کی کمی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلین کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں اضافہ برآمدات میں کمی کے بعد سامنے آیا، جو توقعات کے مطابق نہیں رہیں، اور یہ طلب میں ممکنہ کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے… اس سے پہلے ہی مارکیٹ میں بڑی فروخت دیکھنے میں آئی تھی کیونکہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث معیشت کے سست روی کا شکار ہونے اور طلب متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن، مزدور منڈی کی کمزوری کے آثار اور ایشیا و روس میں طلب و رسد کے خدشات نے تیل کی عالمی منڈی پر دباؤ بڑھا دیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز امریکی حکومت نے فنڈنگ معاہدے پر کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان شدید سیاسی اختلافات کے باعث اپنی بیشتر سرگرمیاں معطل کر دیں۔ حکومتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں ستمبر کی روزگار رپورٹ سمیت متعدد اہم اعداد و شمار کی اشاعت متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نجی شعبے میں امریکی پرائیویٹ پے رولز میں ستمبر کے دوران غیر متوقع کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ لیبر مارکیٹ میں کمزوری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا جو دنیا کا سب سے بڑا تیل استعمال کرنے والا خطہ ہے، وہاں بھی صنعتی سرگرمیوں میں سست روی دیکھی گئی، جہاں ستمبر کے دوران بیشتر بڑی معیشتوں میں مینوفیکچرنگ کا سکڑاؤ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ایندھن کی طلب سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روس میں سپلائی اور برآمدات میں خلل پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔ پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس ورگا کے مطابق، یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روسی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے، اگرچہ بعض علاقے قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں روس کے یارو سلاول ریجن میں ماسکو کے شمال مشرق میں واقع ایک بڑی آئل ریفائنری میں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ مقامی ایمرجنسی حکام نے واضح کیا ہے کہ آگ کا واقعہ یوکرینی ڈرونز سے متعلق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درایں اثناء، امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری سے متعلق اگلا دورِ مذاکرات موسم خزاں کے اختتام سے قبل متوقع ہے، جیسا کہ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سرکاری خبررساں ایجنسی تاس کو بتایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتیں بدھ کے روز 17 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں، مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن سے عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا جبکہ اوپیک پلس کی جانب سے آئندہ ماہ پیداوار میں اضافے کی متوقع منصوبہ بندی کے باعث مارکیٹ میں تیل کی رسد بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>بینچ مارک برینٹ کروڈ کے دسمبر کے سودے 72 سینٹس یا 1.1 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 65.31 ڈالر پر آ گئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 68 سینٹس یا 1.1 فیصد کی کمی سے 61.69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔</p>
<p>برینٹ کی قیمت 4 جون کے بعد کی کم ترین بندش کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 30 مئی کے بعد کی کم ترین سطح پر ہے۔</p>
<p>ادھر امریکی پٹرولیم فیوچرز بھی ستمبر 2024 کے بعد کی کم ترین بندش کی سمت میں ہیں۔</p>
<p>ریسٹاد کے تجزیہ کار جنیو شاہ کے مطابق تاجر توقع کر رہے ہیں کہ اوپیک پلس نومبر میں تیل کی پیداوار میں تقریباً اتنا ہی اضافہ کرے گا جتنا ستمبر میں، یعنی یومیہ 5 لاکھ بیرل، اگرچہ امریکہ اور ایشیا میں طلب میں کمی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔</p>
<p>اوپیک پلس یعنی تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس جیسے اس کے اتحادی پیداواری ممالک، نومبر میں پیداوار میں 5 لاکھ بیرل یومیہ تک اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو کہ اکتوبر کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے مارکیٹ شیئر بحال کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔</p>
<p>تاہم اوپیک نے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا ہے کہ پیداوار میں 5 لاکھ بیرل یومیہ اضافے سے متعلق میڈیا رپورٹس گمراہ کن ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OPECSecretariat/status/1973051647468216735"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>امریکی تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ اُس وقت بڑھا جب گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں توقع سے کہیں زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق 26 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں نے 1.8 ملین بیرل خام تیل ذخائر میں شامل کیا، جو کہ رائٹرز کے سروے میں تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش گوئی کیے گئے 1.0 ملین بیرل اضافے سے کہیں زیادہ تھا۔</p>
<p>اس سے ایک روز قبل امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) نے اپنے ذرائع سے بتایا تھا کہ مذکورہ ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 3.7 ملین بیرل کی کمی ہوئی تھی۔</p>
<p>پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلین کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں اضافہ برآمدات میں کمی کے بعد سامنے آیا، جو توقعات کے مطابق نہیں رہیں، اور یہ طلب میں ممکنہ کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے… اس سے پہلے ہی مارکیٹ میں بڑی فروخت دیکھنے میں آئی تھی کیونکہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث معیشت کے سست روی کا شکار ہونے اور طلب متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔</p>
<p>امریکی حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن، مزدور منڈی کی کمزوری کے آثار اور ایشیا و روس میں طلب و رسد کے خدشات نے تیل کی عالمی منڈی پر دباؤ بڑھا دیا</p>
<p>بدھ کے روز امریکی حکومت نے فنڈنگ معاہدے پر کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان شدید سیاسی اختلافات کے باعث اپنی بیشتر سرگرمیاں معطل کر دیں۔ حکومتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں ستمبر کی روزگار رپورٹ سمیت متعدد اہم اعداد و شمار کی اشاعت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ادھر نجی شعبے میں امریکی پرائیویٹ پے رولز میں ستمبر کے دوران غیر متوقع کمی ریکارڈ کی گئی، جو کہ لیبر مارکیٹ میں کمزوری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔</p>
<p>ایشیا جو دنیا کا سب سے بڑا تیل استعمال کرنے والا خطہ ہے، وہاں بھی صنعتی سرگرمیوں میں سست روی دیکھی گئی، جہاں ستمبر کے دوران بیشتر بڑی معیشتوں میں مینوفیکچرنگ کا سکڑاؤ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ایندھن کی طلب سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے۔</p>
<p>ادھر روس میں سپلائی اور برآمدات میں خلل پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔ پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس ورگا کے مطابق، یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روسی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے، اگرچہ بعض علاقے قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں روس کے یارو سلاول ریجن میں ماسکو کے شمال مشرق میں واقع ایک بڑی آئل ریفائنری میں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ مقامی ایمرجنسی حکام نے واضح کیا ہے کہ آگ کا واقعہ یوکرینی ڈرونز سے متعلق نہیں۔</p>
<p>درایں اثناء، امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری سے متعلق اگلا دورِ مذاکرات موسم خزاں کے اختتام سے قبل متوقع ہے، جیسا کہ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سرکاری خبررساں ایجنسی تاس کو بتایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277639</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Oct 2025 22:30:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/01105534f19a02c.gif" type="image/gif" medium="image" height="675" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/01105534f19a02c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
