<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:18:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:18:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا حماس کو پیغام: غزہ امن منصوبے پر جواب دینے کے لیے ”3 یا 4 دن“ کی مہلت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277623/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو حماس کو ان کے منصوبے پر جواب دینے کے لیے ”تین یا چار دن“ کی مہلت دی، جب کہ فلسطینی گروپ نے اسرائیل کے حمایت یافتہ اس مجوزہ منصوبے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں جنگ بندی، حماس کی جانب سے 72 گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریجی انخلا شامل ہے، جس کے بعد جنگ کے بعد عبوری اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی طاقتوں بشمول عرب اور مسلم ممالک نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا، تاہم حماس نے ابھی تک اپنا ردِ عمل جاری نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ”ہم تقریباً تین یا چار دن دیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے انکار کیا تو انہیں شدید نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوانٹیکو، ورجینیا کے ایک فوجی اڈے پر حاضر امریکی جرنیلوں اور ایڈمرلز سے مخاطب ہو کر ٹرمپ نے کہا کہ ”ہمارے پاس ایک دستخط باقی ہے اور اگر وہ دستخط نہیں کریں گے تو انہیں بہت برا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد غزہ کے لیے اپنا مجوزہ امن منصوبہ باضابطہ طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں شامل اہم نکات درج ذیل ہیں: 72 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی، حماس کی جانب سے تمام یرغمالیوں کی رہائی، مکمل غیر مسلح  ہونا ( ڈس آرمامینٹ) اور اسرائیلی افواج کا تدریجی انخلا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے بعد ایک عبوری انتظامیہ کا قیام، جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کی حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، تاہم پرامن بقائے باہمی پر آمادہ افراد کے لیے عام معافی دی جائے گی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حماس کی اندرونی و بیرونی قیادت میں مشاورت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایک فلسطینی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ”حماس نے منصوبے پر غور و خوض کا آغاز کر دیا ہے، جس میں اس کی سیاسی اور عسکری قیادت، اندرونِ فلسطین اور بیرونِ ملک، شامل ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید کہا کہ ”معاملے کی پیچیدگیوں کے باعث حتمی رائے قائم کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر اور ترکی کا اجلاس، امید کے اشارے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، جہاں حماس کی جلا وطن قیادت موجود ہے، نے تصدیق کی ہے کہ وہ منگل کو ترک حکام اور حماس نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ”فی الوقت کسی حتمی ردِعمل کی بات کرنا قبل از وقت ہے، مگر ہم پرامید ہیں کہ یہ منصوبہ، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا، ایک جامع منصوبہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کا موقف: عمل درآمد پر زور&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”منصوبے پر اتفاق اور اس پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہو جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق انہوں نے ایک بار پھر ”فوری اور مستقل جنگ بندی“ کی اپیل دہرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’انجام آنسوؤں میں ہوگا‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صدر ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر علاقوں میں موجود رہے گی، اور انہوں نے واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کے دوران فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی اتفاق نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو زندہ اور محفوظ بازیاب کرائیں گے، جبکہ (اسرائیلی فوج) غزہ پٹی کے بیشتر حصوں میں موجود رہے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود اسرائیلی وزیرِ خزانہ اور نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے رکن، بیزالیل سموٹریچ نے اس منصوبے کو ”واضح سفارتی ناکامی“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”میری رائے میں یہ انجام کار آنسوؤں میں ختم ہوگا۔ ہمارے بچوں کو ایک بار پھر غزہ میں لڑنا پڑے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے منصوبے میں ایک ”عارضی بین الاقوامی استحکام فورس“ کی تعیناتی اور ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے، اور اس میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے اس بات پر شک ظاہر کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی کے مراکز کی علامتی نگرانی کرنے والی فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی حکمرانی میں کوئی کردار دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے نشاندہی کی کہ ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کی، اگرچہ امریکی منصوبے میں اس کے لیے گنجائش رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے کہا کہ ”میں غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے آپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہوں، جو ہمارے جنگی مقاصد حاصل کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر حماس نے آپ کے منصوبے کو مسترد کیا، جناب صدر، یا وہ اسے ظاہری طور پر قبول کر کے عملی طور پر اس کے خلاف اقدامات کرے، تو اسرائیل تنہا اپنا کام مکمل کرے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے اس معاہدے کو تسلیم نہ کیا، تو اسرائیل کو اس اقدام کے لیے ان کی ”مکمل حمایت“ حاصل ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم عرب اور مسلم ممالک، بشمول ثالثی کرنے والے مصر اور قطر، نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اس معاہدے کی ”مخلصانہ کوششوں“ کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی شامل ہیں، نے بھی بھرپور حمایت کا اظہار کیا جبکہ چین اور روس نے بھی اس منصوبے کی تائید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’غیر حقیقی‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم غزہ میں عوام اس منصوبے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں واقع ایک پناہ گاہ سے 39 سالہ ابراہیم جودہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”یہ واضح ہے کہ یہ منصوبہ غیر حقیقی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اسے ایسی شرائط کے ساتھ تیار کیا گیا ہے جن کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل بخوبی جانتے ہیں کہ حماس انہیں کبھی قبول نہیں کرے گی۔ ہمارے لیے اس کا مطلب ہے کہ جنگ اور مصائب کا سلسلہ جاری رہے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم، جو پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور جنوبی شہر رفح سے تعلق رکھتے ہیں، جو مئی میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی میں تباہ ہو چکا ہے، نے یہ بات گہرے دکھ کے ساتھ کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق منگل کو بھی اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری مختلف علاقوں میں جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی افواج پورے غزہ میں کارروائیاں کر رہی ہیں، خصوصاً غزہ شہر میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر فلسطینی اتھارٹی نے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو ”مخلص اور پُرعزم اقدامات“ قرار دیتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حماس کے اتحادی گروہ اسلامک جہاد نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے خلاف مزید جارحیت کو ہوا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامک جہاد کے بیان میں کہا گیا کہ ”اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل—امریکہ کی مدد سے، وہ کچھ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہ کر سکا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جس کے اعداد و شمار کو اقوامِ متحدہ مستند مانتی ہے، اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 66,097 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو حماس کو ان کے منصوبے پر جواب دینے کے لیے ”تین یا چار دن“ کی مہلت دی، جب کہ فلسطینی گروپ نے اسرائیل کے حمایت یافتہ اس مجوزہ منصوبے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>منصوبے میں جنگ بندی، حماس کی جانب سے 72 گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریجی انخلا شامل ہے، جس کے بعد جنگ کے بعد عبوری اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔</p>
<p>عالمی طاقتوں بشمول عرب اور مسلم ممالک نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا، تاہم حماس نے ابھی تک اپنا ردِ عمل جاری نہیں کیا۔</p>
<p>صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ”ہم تقریباً تین یا چار دن دیں گے۔“</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے انکار کیا تو انہیں شدید نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>کوانٹیکو، ورجینیا کے ایک فوجی اڈے پر حاضر امریکی جرنیلوں اور ایڈمرلز سے مخاطب ہو کر ٹرمپ نے کہا کہ ”ہمارے پاس ایک دستخط باقی ہے اور اگر وہ دستخط نہیں کریں گے تو انہیں بہت برا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔“</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد غزہ کے لیے اپنا مجوزہ امن منصوبہ باضابطہ طور پر پیش کیا۔</p>
<p>منصوبے میں شامل اہم نکات درج ذیل ہیں: 72 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی، حماس کی جانب سے تمام یرغمالیوں کی رہائی، مکمل غیر مسلح  ہونا ( ڈس آرمامینٹ) اور اسرائیلی افواج کا تدریجی انخلا</p>
<p>جنگ کے بعد ایک عبوری انتظامیہ کا قیام، جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے</p>
<p>مستقبل کی حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، تاہم پرامن بقائے باہمی پر آمادہ افراد کے لیے عام معافی دی جائے گی</p>
<p><strong>حماس کی اندرونی و بیرونی قیادت میں مشاورت</strong></p>
<p>منگل کو ایک فلسطینی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ”حماس نے منصوبے پر غور و خوض کا آغاز کر دیا ہے، جس میں اس کی سیاسی اور عسکری قیادت، اندرونِ فلسطین اور بیرونِ ملک، شامل ہے۔“</p>
<p>ذرائع نے مزید کہا کہ ”معاملے کی پیچیدگیوں کے باعث حتمی رائے قائم کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔“</p>
<p><strong>قطر اور ترکی کا اجلاس، امید کے اشارے</strong></p>
<p>قطر، جہاں حماس کی جلا وطن قیادت موجود ہے، نے تصدیق کی ہے کہ وہ منگل کو ترک حکام اور حماس نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔</p>
<p>قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ”فی الوقت کسی حتمی ردِعمل کی بات کرنا قبل از وقت ہے، مگر ہم پرامید ہیں کہ یہ منصوبہ، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا، ایک جامع منصوبہ ہے۔“</p>
<p><strong>اقوام متحدہ کا موقف: عمل درآمد پر زور</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”منصوبے پر اتفاق اور اس پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہو جائیں۔“</p>
<p>ترجمان کے مطابق انہوں نے ایک بار پھر ”فوری اور مستقل جنگ بندی“ کی اپیل دہرائی۔</p>
<p><strong>’انجام آنسوؤں میں ہوگا‘</strong></p>
<p>تاہم صدر ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر علاقوں میں موجود رہے گی، اور انہوں نے واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کے دوران فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی اتفاق نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو زندہ اور محفوظ بازیاب کرائیں گے، جبکہ (اسرائیلی فوج) غزہ پٹی کے بیشتر حصوں میں موجود رہے گی۔“</p>
<p>اس کے باوجود اسرائیلی وزیرِ خزانہ اور نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے رکن، بیزالیل سموٹریچ نے اس منصوبے کو ”واضح سفارتی ناکامی“ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”میری رائے میں یہ انجام کار آنسوؤں میں ختم ہوگا۔ ہمارے بچوں کو ایک بار پھر غزہ میں لڑنا پڑے گا۔“</p>
<p>ٹرمپ کے منصوبے میں ایک ”عارضی بین الاقوامی استحکام فورس“ کی تعیناتی اور ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے، اور اس میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے اس بات پر شک ظاہر کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی کے مراکز کی علامتی نگرانی کرنے والی فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی حکمرانی میں کوئی کردار دیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے نشاندہی کی کہ ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کی، اگرچہ امریکی منصوبے میں اس کے لیے گنجائش رکھی گئی ہے۔</p>
<p>نیتن یاہو نے کہا کہ ”میں غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے آپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہوں، جو ہمارے جنگی مقاصد حاصل کرتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر حماس نے آپ کے منصوبے کو مسترد کیا، جناب صدر، یا وہ اسے ظاہری طور پر قبول کر کے عملی طور پر اس کے خلاف اقدامات کرے، تو اسرائیل تنہا اپنا کام مکمل کرے گا۔“</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے اس معاہدے کو تسلیم نہ کیا، تو اسرائیل کو اس اقدام کے لیے ان کی ”مکمل حمایت“ حاصل ہو گی۔</p>
<p>اہم عرب اور مسلم ممالک، بشمول ثالثی کرنے والے مصر اور قطر، نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اس معاہدے کی ”مخلصانہ کوششوں“ کو سراہا۔</p>
<p>واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی شامل ہیں، نے بھی بھرپور حمایت کا اظہار کیا جبکہ چین اور روس نے بھی اس منصوبے کی تائید کی۔</p>
<p><strong>’غیر حقیقی‘</strong></p>
<p>تاہم غزہ میں عوام اس منصوبے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔</p>
<p>جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں واقع ایک پناہ گاہ سے 39 سالہ ابراہیم جودہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”یہ واضح ہے کہ یہ منصوبہ غیر حقیقی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اسے ایسی شرائط کے ساتھ تیار کیا گیا ہے جن کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل بخوبی جانتے ہیں کہ حماس انہیں کبھی قبول نہیں کرے گی۔ ہمارے لیے اس کا مطلب ہے کہ جنگ اور مصائب کا سلسلہ جاری رہے گا۔“</p>
<p>ابراہیم، جو پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر پروگرامر ہیں اور جنوبی شہر رفح سے تعلق رکھتے ہیں، جو مئی میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی میں تباہ ہو چکا ہے، نے یہ بات گہرے دکھ کے ساتھ کہی۔</p>
<p>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق منگل کو بھی اسرائیلی فضائی حملے اور گولہ باری مختلف علاقوں میں جاری رہی۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی افواج پورے غزہ میں کارروائیاں کر رہی ہیں، خصوصاً غزہ شہر میں۔</p>
<p>ادھر فلسطینی اتھارٹی نے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو ”مخلص اور پُرعزم اقدامات“ قرار دیتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔</p>
<p>تاہم حماس کے اتحادی گروہ اسلامک جہاد نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے خلاف مزید جارحیت کو ہوا دے گا۔</p>
<p>اسلامک جہاد کے بیان میں کہا گیا کہ ”اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل—امریکہ کی مدد سے، وہ کچھ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہ کر سکا۔“</p>
<p>غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جس کے اعداد و شمار کو اقوامِ متحدہ مستند مانتی ہے، اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 66,097 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277623</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Sep 2025 22:27:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/30215027f33c4df.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/30215027f33c4df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
