<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:55:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:55:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے فلسطین میں امن فورس کی تعیناتی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277622/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے فلسطین کے لیے مجوزہ امن فورس میں اہلکار بھیجنے سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حساس معاملے پر پاکستان کا مؤقف بدستور واضح اور غیر مبہم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ قومی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا، اور اگر کوئی انتظام تشکیل پاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کے باضابطہ دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا پہلے ہی 25,000 اہلکاروں کی پیشکش کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”واشنگٹن کی جاری کردہ دستاویز وہ نہیں جو طے پائی تھی“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی جانب سے پہلے 20 نکاتی امن منصوبہ شیئر کیا گیا تھا، جس پر پاکستان نے چند تجاویز دی تھیں، اور بعد ازاں ایک متفقہ مسودہ پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ”واشنگٹن نے جو دستاویز جاری کی، وہ وہی نہیں تھی جس پر بات چیت مکمل ہوئی تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار کے مطابق بات چیت میں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی تجویز پر بھی گفتگو ہوئی، جو فلسطین میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت کام کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیز فائر، انسانی امداد اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی پر مثبت پیش رفت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں جنگ بندی، مستقل انسانی امداد اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی جیسے نکات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے مجوزہ امن منصوبے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور پاکستان نے اجتماعی سفارت کاری کے ذریعے فعال کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یواین جی اے) سے خطاب میں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے معاملات پر بھرپور موقف اپنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی کی چھ رکنی کمیٹی، اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتوں کے ذریعے فلسطین کے مسئلے پر متحرک سفارت کاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دیگر سات ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کی تھی۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے امن منصوبے کے اس متفقہ مسودے کو جاری نہیں کیا جو اصل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم کی سفارتی سرگرمیاں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف حکام اور آسٹریا، کویت، بنگلہ دیش، سری لنکا، کینیڈا، ہنگری، بحرین اور جی سی سی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے فلسطین کے لیے مجوزہ امن فورس میں اہلکار بھیجنے سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حساس معاملے پر پاکستان کا مؤقف بدستور واضح اور غیر مبہم ہے۔</strong></p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ قومی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا، اور اگر کوئی انتظام تشکیل پاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کے باضابطہ دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا پہلے ہی 25,000 اہلکاروں کی پیشکش کر چکا ہے۔</p>
<p><strong>”واشنگٹن کی جاری کردہ دستاویز وہ نہیں جو طے پائی تھی“</strong></p>
<p>وزیرِ خارجہ نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی جانب سے پہلے 20 نکاتی امن منصوبہ شیئر کیا گیا تھا، جس پر پاکستان نے چند تجاویز دی تھیں، اور بعد ازاں ایک متفقہ مسودہ پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ”واشنگٹن نے جو دستاویز جاری کی، وہ وہی نہیں تھی جس پر بات چیت مکمل ہوئی تھی۔“</p>
<p>اسحاق ڈار کے مطابق بات چیت میں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی تجویز پر بھی گفتگو ہوئی، جو فلسطین میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت کام کرے گی۔</p>
<p><strong>سیز فائر، انسانی امداد اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی پر مثبت پیش رفت</strong></p>
<p>وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں جنگ بندی، مستقل انسانی امداد اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی جیسے نکات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے مجوزہ امن منصوبے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور پاکستان نے اجتماعی سفارت کاری کے ذریعے فعال کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یواین جی اے) سے خطاب میں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے معاملات پر بھرپور موقف اپنایا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی کی چھ رکنی کمیٹی، اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتوں کے ذریعے فلسطین کے مسئلے پر متحرک سفارت کاری کی ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دیگر سات ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کی تھی۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے امن منصوبے کے اس متفقہ مسودے کو جاری نہیں کیا جو اصل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔</p>
<p><strong>وزیراعظم کی سفارتی سرگرمیاں</strong></p>
<p>وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف حکام اور آسٹریا، کویت، بنگلہ دیش، سری لنکا، کینیڈا، ہنگری، بحرین اور جی سی سی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277622</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Sep 2025 20:23:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/3020125985392c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/3020125985392c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
