<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فن لینڈ کی ٹیکنالوجی کمپنی میٹسو کی ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کی خواہش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277614/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فن لینڈ کی ٹیکنالوجی کمپنی میٹسو نے پاکستان کے معدنی شعبے  بالخصوص تانبے کی کان کنی میں بڑی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اس کے ساتھ ریکوڈک منصوبے میں حصہ لینے کے ارادے کا بھی اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس بیان کے مطابق  یہ پیش رفت وزیرمملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی سے میٹسو فن لینڈ کمپنی کی صدر پیا کارہو کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات چیت کا مرکزی محور پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع تھے، خاص طور پر تانبے کی کان کنی پر زور دیا گیا۔ میٹسو جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کرے گا اور مقامی انسانی وسائل کو تربیت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پیا کارہو نے کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ریکوڈِک منصوبے میں کان کنی کی ٹیکنالوجی اور خدمات فراہم کرکے حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ریکو ڈِک منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ایم ایل ون اور ایم ایل تھری ریلوے لائنوں کی بہتری پر جاری پیش رفت اور آئندہ کے منصوبوں پر روشنی ڈالی جس کا ہدف دسمبر 2028 تک فعال ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک کان کے 50 فیصد حصص کینیڈین  کمپنی بیریک گولڈ کے پاس ہیں جبکہ پاکستان اور بلوچستان کی حکومتیں باقی 50 فیصد کی مالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک کان کو دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس کی ترقی سے پاکستان کی متاثرہ معیشت پر نمایاں اثر پڑنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ جو طویل تنازع کے باعث تاخیر کا شکار رہا اور 2022 میں ختم ہوا، متوقع طور پر 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیر مملکت نے ملکی معاشی سرگرمیوں میں میٹسو کی آئندہ شمولیت کا خیر مقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے سرمایہ کاری اور مزید تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے کے لیے وزارت ریلوے کے تکنیکی ماہرین کے ساتھ ایک فالو اَپ اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل بزنس ریکارڈر نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی  نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق ریلوے معاہدوں کی جامع نفاذ اور عمل درآمد کی منصوبہ بندی کے ساتھ مارچ 30، 2026 تک ری فنانسنگ اور انتظامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فن لینڈ کی ٹیکنالوجی کمپنی میٹسو نے پاکستان کے معدنی شعبے  بالخصوص تانبے کی کان کنی میں بڑی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اس کے ساتھ ریکوڈک منصوبے میں حصہ لینے کے ارادے کا بھی اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایک پریس بیان کے مطابق  یہ پیش رفت وزیرمملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی سے میٹسو فن لینڈ کمپنی کی صدر پیا کارہو کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>بات چیت کا مرکزی محور پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع تھے، خاص طور پر تانبے کی کان کنی پر زور دیا گیا۔ میٹسو جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کرے گا اور مقامی انسانی وسائل کو تربیت دے گا۔</p>
<p>صدر پیا کارہو نے کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ریکوڈِک منصوبے میں کان کنی کی ٹیکنالوجی اور خدمات فراہم کرکے حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ریکو ڈِک منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ایم ایل ون اور ایم ایل تھری ریلوے لائنوں کی بہتری پر جاری پیش رفت اور آئندہ کے منصوبوں پر روشنی ڈالی جس کا ہدف دسمبر 2028 تک فعال ہونا ہے۔</p>
<p>ریکوڈک کان کے 50 فیصد حصص کینیڈین  کمپنی بیریک گولڈ کے پاس ہیں جبکہ پاکستان اور بلوچستان کی حکومتیں باقی 50 فیصد کی مالک ہیں۔</p>
<p>ریکوڈک کان کو دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس کی ترقی سے پاکستان کی متاثرہ معیشت پر نمایاں اثر پڑنے کی توقع ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ جو طویل تنازع کے باعث تاخیر کا شکار رہا اور 2022 میں ختم ہوا، متوقع طور پر 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع کرے گا۔</p>
<p>دریں اثنا وزیر مملکت نے ملکی معاشی سرگرمیوں میں میٹسو کی آئندہ شمولیت کا خیر مقدم کیا۔</p>
<p>فریقین نے سرمایہ کاری اور مزید تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے کے لیے وزارت ریلوے کے تکنیکی ماہرین کے ساتھ ایک فالو اَپ اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>چند روز قبل بزنس ریکارڈر نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی  نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق ریلوے معاہدوں کی جامع نفاذ اور عمل درآمد کی منصوبہ بندی کے ساتھ مارچ 30، 2026 تک ری فنانسنگ اور انتظامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277614</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Sep 2025 15:45:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/30154126323c936.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/30154126323c936.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
