<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اصلاحات اور امریکی معاہدہ پاکستانی معیشت کیلئے فائدہ مند، سیلاب کے منفی اثرات رکاوٹ، اے ڈی بی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277601/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے بی ڈی) نے منگل کو جاری اپنے تازہ ترین ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک (اے ڈی او) ستمبر 2025 میں کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی مالی سال 2026 میں مستحکم ہونے کی توقع ہے کیونکہ ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے جاری اصلاحات میکرو اکنامک استحکام میں اضافہ کر رہی ہیں۔ تاہم حالیہ سیلاب اس ترقی کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیلا میں قائم بینک نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025 میں تیز رفتار ترقی کی جبکہ 2026 کے لیے اس کا تخمینہ غیر متغیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025 میں 2.7 فیصد کی ترقی دیکھی جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور مستحکم میکرو اکنامک حالات کے ساتھ جاری پالیسی اصلاحات ہیں۔ ترقی بنیادی طور پر صنعت اور خدمات سے آئی جبکہ خراب موسم نے زراعت کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے لیے ترقی کی پیش گوئی 3.0 فیصد پر برقرار ہے جو اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ اقتصادی کارکردگی جاری اصلاحات سے مستحکم رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے تازہ ترین آؤٹ لک میں اے ڈی بی نے نوٹ کیا کہ قرض اور ادائیگی کے توازن سے جڑے خطرات میں کمی سے اقتصادی سرگرمی میں اضافہ متوقع ہے، جیسا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی سُورن ریٹنگ میں اپ گریڈ اور حالیہ امریکی-پاکستان تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والے تجارتی اعتماد میں اضافہ دیکھنے کو ملا، تاہم سیلاب کے دوران انفرااسٹرکچر اور زرعی زمین کو پہنچنے والا نقصان ترقی کی رفتار کو سست کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب نے ملک میں تازہ خوراک کی مہنگائی کے خدشات کو بڑھایا اور نقد کی کمی کا شکار جنوبی ایشیائی ملک میں معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سیلاب کے بعد کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششیں جو مالی سال 2026 کے بجٹ میں فراہم کردہ تعمیراتی مالی مراعات کی حمایت سے ممکن ہیں، ترقی پر منفی اثرات کو جزوی طور پر کم کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے امکانات مثبت رہیں گے تاہم ساختی چیلنجز اور بار بار آنے والی آفات جیسے سیلاب ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اس پس منظر میں مستقل اصلاحات اور پالیسی پر عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ پالیسی کی ساکھ مضبوط ہو، اقتصادی رفتار برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہنگائی کی پیش گوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد متوقع بتائی جو مرکزی بینک کے ہدف 5 سے7 فیصد کے دائرے میں آتی ہے لیکن پہلے کے تخمینوں سے تھوڑی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سیلاب سے متاثرہ سپلائی چین کی خرابی اور یکم جولائی 2025 سے نافذ ہونے والے بڑھائے گئے گیس ٹیرف کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیرونی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے مطابق پاکستان کے بیرونی شعبے کا درمیانی مدت میں مستحکم رہنے کی توقع ہے اور جون 2026 تک زرِ مبادلہ  ذخائر 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جو 2.8 ماہ کی درآمدی ضروریات کو پورا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات کی نمو سیلاب سے متاثر ہونے والی چاول اور کپاس کی پیداوار کی وجہ سے کم رہنے کا امکان ہے، تاہم بہتر لیکویڈٹی  جو تیز ٹیکس ریفنڈز اور معاون مالیاتی حالات سے پیدا ہوگی کم زرعی پیداوار کے اثر کو جزوی طور پر کم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حالیہ امریکی-پاکستان تجارتی معاہدہ غیر یقینی صورتحال کو کم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری کے بہاؤ کو برقرار رکھے گا۔ درآمدات تیز رفتار سے بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ سیلاب سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے خوراک کی درآمدات میں اضافہ ہوگا اور مینوفیکچرنگ کی متوقع بحالی کے پیش نظر خام مال کی درآمدات بڑھیں گی، جس سے تجارتی خسارہ بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اہم خطرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت کو کئی نزولی خطرات لاحق ہیں جن میں پالیسی میں لغزش اور ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمدن اور مالی استحکام کے اہداف میں ناکامی یا اہم اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر سب سے بڑے خدشات ہیں۔ پالیسی میں لغزش کاروباری اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے، قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتی ہے اور بیرونی مالی خطرات میں اضافہ کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان شدید موسم اور قدرتی آفات جیسے سیلاب کے حوالے سے حساس ہے، جو خوراک کی قیمتوں میں پچھلے سال کی کمی کو پلٹ سکتے ہیں، اقتصادی سرگرمی کو متاثر کر سکتے ہیں اور گھریلو آمدنی پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ عالمی جغرافیائی سیاسی خطرات بھی مہنگائی، بیرونی استحکام اور کاروباری اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثبت پہلو کے طور پر اصلاحات کے تیز نفاذ اور سازگار بیرونی ماحول کاروباری اعتماد کو مضبوط کر سکتے ہیں اور ترقی کو موجودہ توقعات سے بلند کرسکتے ہیں اے ڈی او میں پڑھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق مثبت پہلو کے طور پر اصلاحات کے تیز نفاذ اور سازگار بیرونی ماحول کاروباری اعتماد کو مضبوط کرسکتے ہیں اور ترقی کو موجودہ توقعات سے بلند کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے بی ڈی) نے منگل کو جاری اپنے تازہ ترین ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک (اے ڈی او) ستمبر 2025 میں کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی مالی سال 2026 میں مستحکم ہونے کی توقع ہے کیونکہ ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے جاری اصلاحات میکرو اکنامک استحکام میں اضافہ کر رہی ہیں۔ تاہم حالیہ سیلاب اس ترقی کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>منیلا میں قائم بینک نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025 میں تیز رفتار ترقی کی جبکہ 2026 کے لیے اس کا تخمینہ غیر متغیر ہے۔</p>
<p>بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025 میں 2.7 فیصد کی ترقی دیکھی جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور مستحکم میکرو اکنامک حالات کے ساتھ جاری پالیسی اصلاحات ہیں۔ ترقی بنیادی طور پر صنعت اور خدمات سے آئی جبکہ خراب موسم نے زراعت کو متاثر کیا۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے لیے ترقی کی پیش گوئی 3.0 فیصد پر برقرار ہے جو اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ اقتصادی کارکردگی جاری اصلاحات سے مستحکم رہے گی۔</p>
<p>اپنے تازہ ترین آؤٹ لک میں اے ڈی بی نے نوٹ کیا کہ قرض اور ادائیگی کے توازن سے جڑے خطرات میں کمی سے اقتصادی سرگرمی میں اضافہ متوقع ہے، جیسا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی سُورن ریٹنگ میں اپ گریڈ اور حالیہ امریکی-پاکستان تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والے تجارتی اعتماد میں اضافہ دیکھنے کو ملا، تاہم سیلاب کے دوران انفرااسٹرکچر اور زرعی زمین کو پہنچنے والا نقصان ترقی کی رفتار کو سست کرسکتا ہے۔</p>
<p>سیلاب نے ملک میں تازہ خوراک کی مہنگائی کے خدشات کو بڑھایا اور نقد کی کمی کا شکار جنوبی ایشیائی ملک میں معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔</p>
<p>تاہم سیلاب کے بعد کی بحالی اور تعمیر نو کی کوششیں جو مالی سال 2026 کے بجٹ میں فراہم کردہ تعمیراتی مالی مراعات کی حمایت سے ممکن ہیں، ترقی پر منفی اثرات کو جزوی طور پر کم کرسکتی ہیں۔</p>
<p>ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے امکانات مثبت رہیں گے تاہم ساختی چیلنجز اور بار بار آنے والی آفات جیسے سیلاب ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اس پس منظر میں مستقل اصلاحات اور پالیسی پر عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ پالیسی کی ساکھ مضبوط ہو، اقتصادی رفتار برقرار رہے۔</p>
<p><strong>مہنگائی کی پیش گوئی</strong></p>
<p>ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد متوقع بتائی جو مرکزی بینک کے ہدف 5 سے7 فیصد کے دائرے میں آتی ہے لیکن پہلے کے تخمینوں سے تھوڑی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سیلاب سے متاثرہ سپلائی چین کی خرابی اور یکم جولائی 2025 سے نافذ ہونے والے بڑھائے گئے گیس ٹیرف کو قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p><strong>بیرونی شعبہ</strong></p>
<p>ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے مطابق پاکستان کے بیرونی شعبے کا درمیانی مدت میں مستحکم رہنے کی توقع ہے اور جون 2026 تک زرِ مبادلہ  ذخائر 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جو 2.8 ماہ کی درآمدی ضروریات کو پورا کریں گے۔</p>
<p>برآمدات کی نمو سیلاب سے متاثر ہونے والی چاول اور کپاس کی پیداوار کی وجہ سے کم رہنے کا امکان ہے، تاہم بہتر لیکویڈٹی  جو تیز ٹیکس ریفنڈز اور معاون مالیاتی حالات سے پیدا ہوگی کم زرعی پیداوار کے اثر کو جزوی طور پر کم کرسکتی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ حالیہ امریکی-پاکستان تجارتی معاہدہ غیر یقینی صورتحال کو کم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری کے بہاؤ کو برقرار رکھے گا۔ درآمدات تیز رفتار سے بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ سیلاب سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے خوراک کی درآمدات میں اضافہ ہوگا اور مینوفیکچرنگ کی متوقع بحالی کے پیش نظر خام مال کی درآمدات بڑھیں گی، جس سے تجارتی خسارہ بڑھے گا۔</p>
<p><strong>اہم خطرات</strong></p>
<p>ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت کو کئی نزولی خطرات لاحق ہیں جن میں پالیسی میں لغزش اور ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔</p>
<p>آمدن اور مالی استحکام کے اہداف میں ناکامی یا اہم اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر سب سے بڑے خدشات ہیں۔ پالیسی میں لغزش کاروباری اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے، قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتی ہے اور بیرونی مالی خطرات میں اضافہ کرسکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان شدید موسم اور قدرتی آفات جیسے سیلاب کے حوالے سے حساس ہے، جو خوراک کی قیمتوں میں پچھلے سال کی کمی کو پلٹ سکتے ہیں، اقتصادی سرگرمی کو متاثر کر سکتے ہیں اور گھریلو آمدنی پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ عالمی جغرافیائی سیاسی خطرات بھی مہنگائی، بیرونی استحکام اور کاروباری اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>مثبت پہلو کے طور پر اصلاحات کے تیز نفاذ اور سازگار بیرونی ماحول کاروباری اعتماد کو مضبوط کر سکتے ہیں اور ترقی کو موجودہ توقعات سے بلند کرسکتے ہیں اے ڈی او میں پڑھا گیا۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق مثبت پہلو کے طور پر اصلاحات کے تیز نفاذ اور سازگار بیرونی ماحول کاروباری اعتماد کو مضبوط کرسکتے ہیں اور ترقی کو موجودہ توقعات سے بلند کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277601</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Sep 2025 15:04:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/30113128db84e94.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/30113128db84e94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
