<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کا آغاز: ای ایف ایف اور آر ایس ایف پروگرامز پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277595/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات شروع کردیے ہیں جن میں مالی کارکردگی اور گورننس اصلاحات مرکزی نکات رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف مشن کی سربراہی چیف ایوا پیٹرووا کررہی ہیں جنہوں نے پیر کو وزارتِ خزانہ میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستان کی معاشی ٹیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین رشید محمود لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی، ریونیو وصولی، اخراجات پر کنٹرول اور ساختی اصلاحات میں پیشرفت پر تفصیلی بات ہوئی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو نیشنل فِسکل پیکٹ، کیپیٹل مارکیٹ اصلاحات اور ترقیاتی اخراجات میں شفافیت سے متعلق بھی بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیم نے گورننس اور کرپشن رسک اسسمنٹ رپورٹ، منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اور شفافیت کے دیگر اقدامات پر تازہ اپ ڈیٹس طلب کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تکنیکی سطح کے جاری مذاکرات کے بعد پالیسی سطح پر بات چیت ہوگی۔ کامیاب اختتام کی صورت میں پاکستان کو آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً ایک ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل ہوگی، جو آر ایس ایف کے تحت فراہم کی جانے والی رقوم کے علاوہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان منگل (30 ستمبر) کو ایک اور اہم اجلاس ہوگا جس میں گورننس اصلاحات اور مالیاتی شعبے کی نگرانی پر بات چیت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا سیشن ای-پی اے ڈی ایس (e-PADS) پروکیورمنٹ سسٹم پر مرکوز ہوگا، جس میں نظام کے دائرۂ کار، اعداد و شمار، بیرونی آڈٹ رپورٹس اور نگران اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے پر غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید مذاکرات میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات پر ہم آہنگی کا جائزہ لیا جائے گا، بالخصوص تجارتی بنیادوں پر ہونے والی منی لانڈرنگ کے خطرات پر، جو پاکستان کے مالیاتی نظام کی ایک دیرینہ کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف رسک بیسڈ سپرویژن کا بھی تفصیلی جائزہ لے گا، جس میں تجارتی لین دین سے منسلک منی لانڈرنگ کے ذرائع اور ان کے ملکی معاشی استحکام پر اثرات کا تجزیہ شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات شروع کردیے ہیں جن میں مالی کارکردگی اور گورننس اصلاحات مرکزی نکات رہے۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف مشن کی سربراہی چیف ایوا پیٹرووا کررہی ہیں جنہوں نے پیر کو وزارتِ خزانہ میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستان کی معاشی ٹیم سے ملاقات کی۔ اجلاس میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین رشید محمود لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔</p>
<p>سرکاری ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی، ریونیو وصولی، اخراجات پر کنٹرول اور ساختی اصلاحات میں پیشرفت پر تفصیلی بات ہوئی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو نیشنل فِسکل پیکٹ، کیپیٹل مارکیٹ اصلاحات اور ترقیاتی اخراجات میں شفافیت سے متعلق بھی بریفنگ دی۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیم نے گورننس اور کرپشن رسک اسسمنٹ رپورٹ، منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اور شفافیت کے دیگر اقدامات پر تازہ اپ ڈیٹس طلب کیں۔</p>
<p>تکنیکی سطح کے جاری مذاکرات کے بعد پالیسی سطح پر بات چیت ہوگی۔ کامیاب اختتام کی صورت میں پاکستان کو آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً ایک ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل ہوگی، جو آر ایس ایف کے تحت فراہم کی جانے والی رقوم کے علاوہ ہوگی۔</p>
<p>آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان منگل (30 ستمبر) کو ایک اور اہم اجلاس ہوگا جس میں گورننس اصلاحات اور مالیاتی شعبے کی نگرانی پر بات چیت کی جائے گی۔</p>
<p>پہلا سیشن ای-پی اے ڈی ایس (e-PADS) پروکیورمنٹ سسٹم پر مرکوز ہوگا، جس میں نظام کے دائرۂ کار، اعداد و شمار، بیرونی آڈٹ رپورٹس اور نگران اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے پر غور کیا جائے گا۔</p>
<p>مزید مذاکرات میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات پر ہم آہنگی کا جائزہ لیا جائے گا، بالخصوص تجارتی بنیادوں پر ہونے والی منی لانڈرنگ کے خطرات پر، جو پاکستان کے مالیاتی نظام کی ایک دیرینہ کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف رسک بیسڈ سپرویژن کا بھی تفصیلی جائزہ لے گا، جس میں تجارتی لین دین سے منسلک منی لانڈرنگ کے ذرائع اور ان کے ملکی معاشی استحکام پر اثرات کا تجزیہ شامل ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277595</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Sep 2025 10:14:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/30100657877a373.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/30100657877a373.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
