<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پوتن کا 2016 کے بعد سب سے بڑی فوجی بھرتی کا اعلان، ایک لاکھ 35 ہزار نوجوان طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277590/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز ایک لاکھ 35 ہزار نوجوانوں کو لازمی فوجی سروس کے لیے طلب کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ اقدام 2016 کے بعد روس کی سب سے بڑی  موسم خریف کی فوجی بھرتی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس میں ہر سال بہار اور خریف کے موسموں میں 18 سے 30 سال کے درمیان عمر کے مردوں کو لازمی فوجی خدمات کے لیے طلب کیا جاتا ہے۔ اس بار بھی یہ بھرتی اسی معمول کا حصہ ہے، جس کے تحت بھرتی کیے گئے نوجوان ایک سال کے لیے ملک کے اندر کسی فوجی اڈے پر خدمات انجام دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھرتی صرف داخلی تربیت اور خدمات کے لیے ہے، اور ان افراد کو یوکرین کی جنگ میں بھیجنے کا ارادہ نہیں۔ تاہم، ماضی میں ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کچھ بھرتی شدہ افراد کو محاذ جنگ پر بھی تعینات کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی سالانہ فوجی بھرتی کی مہمات کا جنگی حالات میں کی جانے والی جبری بھرتی سے کوئی تعلق نہیں، جس کے تحت روسی مردوں کو محاذِ جنگ پر بھیجا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی تربیت مکمل کرنے والے بھرتی شدہ افراد کے مستقبل میں جنگ کے لیے طلب کیے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز جاری کردہ ایک فرمان میں، صدر ولادیمیر پوتن نے حکم دیا کہ یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان 135,000 روسی شہریوں کو لازمی فوجی سروس کے لیے طلب کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 2016 کے بعد کی سب سے بڑی خریف فوجی بھرتی ہے۔ جب اسے رواں سال موسمِ بہار میں طلب کیے گئے 160,000 افراد کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 2025 کا سال مجموعی بھرتی کے لحاظ سے بھی 2016 کے بعد سب سے بڑا سال ثابت ہونے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس میں عموماً موسمِ بہار میں زیادہ افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب زیادہ تر نوجوان اسکول یا کالج سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل فوجی حملہ شروع کرنے کے بعد سے پوتن نے روس کو جنگی حالت میں لا کھڑا کیا ہے، فوجی اخراجات کو سوویت دور کے بعد کی بلند ترین سطح تک پہنچایا ہے اور فوج کے حجم میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوتن نے 2022 کے بعد ہر سال لازمی فوجی بھرتی میں اوسطاً پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2024 میں انہوں نے روسی فوج کو 15 لاکھ فعال فوجیوں تک وسعت دینے کا حکم دیا تھا، جو دنیا کی سب سے بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز ایک لاکھ 35 ہزار نوجوانوں کو لازمی فوجی سروس کے لیے طلب کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ اقدام 2016 کے بعد روس کی سب سے بڑی  موسم خریف کی فوجی بھرتی قرار دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>روس میں ہر سال بہار اور خریف کے موسموں میں 18 سے 30 سال کے درمیان عمر کے مردوں کو لازمی فوجی خدمات کے لیے طلب کیا جاتا ہے۔ اس بار بھی یہ بھرتی اسی معمول کا حصہ ہے، جس کے تحت بھرتی کیے گئے نوجوان ایک سال کے لیے ملک کے اندر کسی فوجی اڈے پر خدمات انجام دیں گے۔</p>
<p>روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھرتی صرف داخلی تربیت اور خدمات کے لیے ہے، اور ان افراد کو یوکرین کی جنگ میں بھیجنے کا ارادہ نہیں۔ تاہم، ماضی میں ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کچھ بھرتی شدہ افراد کو محاذ جنگ پر بھی تعینات کیا گیا۔</p>
<p>روس کی سالانہ فوجی بھرتی کی مہمات کا جنگی حالات میں کی جانے والی جبری بھرتی سے کوئی تعلق نہیں، جس کے تحت روسی مردوں کو محاذِ جنگ پر بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p>فوجی تربیت مکمل کرنے والے بھرتی شدہ افراد کے مستقبل میں جنگ کے لیے طلب کیے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>پیر کے روز جاری کردہ ایک فرمان میں، صدر ولادیمیر پوتن نے حکم دیا کہ یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان 135,000 روسی شہریوں کو لازمی فوجی سروس کے لیے طلب کیا جائے۔</p>
<p>یہ 2016 کے بعد کی سب سے بڑی خریف فوجی بھرتی ہے۔ جب اسے رواں سال موسمِ بہار میں طلب کیے گئے 160,000 افراد کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 2025 کا سال مجموعی بھرتی کے لحاظ سے بھی 2016 کے بعد سب سے بڑا سال ثابت ہونے جا رہا ہے۔</p>
<p>روس میں عموماً موسمِ بہار میں زیادہ افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب زیادہ تر نوجوان اسکول یا کالج سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔</p>
<p>فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل فوجی حملہ شروع کرنے کے بعد سے پوتن نے روس کو جنگی حالت میں لا کھڑا کیا ہے، فوجی اخراجات کو سوویت دور کے بعد کی بلند ترین سطح تک پہنچایا ہے اور فوج کے حجم میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>پوتن نے 2022 کے بعد ہر سال لازمی فوجی بھرتی میں اوسطاً پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>ستمبر 2024 میں انہوں نے روسی فوج کو 15 لاکھ فعال فوجیوں تک وسعت دینے کا حکم دیا تھا، جو دنیا کی سب سے بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277590</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Sep 2025 20:31:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/29201655ad069af.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/29201655ad069af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
