<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کی نئی الیکٹرک گاڑیوں کو ہمہ جہت بحران کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آٹوموبائل صنعت ایک دلچسپ تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ پچھلے مالی سال میں مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی گاڑیوں کی فروخت صنعت کی مجموعی استعداد کا صرف ایک تہائی تھی، تقریباً 175,000 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ موجودہ گنجائش تقریباً 550,000 یونٹس تھی۔ اسی دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کا دروازہ کھل رہا ہے، نئے اسمبلرز مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں (جن میں بی وائی ڈی اور دیگر شامل ہیں)، اور موجودہ کھلاڑی نئی برانڈز متعارف کرا رہے ہیں۔ بظاہر یہ معاشی منطق کے خلاف معلوم ہوتا ہے لیکن اس دیوانگی کے پیچھے حکمت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلب نئی توانائی والی گاڑیوں (این ای ویز) اور کراس اوورز کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ موجودہ پیداوار کا زیادہ تر حصہ اب بھی روایتی ایندھن والے انجن (آئی سی ای) والے سیڈان ماڈلز پرمشتمل ہے۔ صارفین بڑھتی ہوئی تعداد میں چینی برانڈز کو ترجیح دے رہے ہیں جو این ای ویز مارکیٹ کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ زیادہ تر مقامی اسمبلر جاپانی اور کوریائی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوریائی کمپنیاں اب چینی کراس اوورز اور ایس یو ویز کو بھی اپنی لائن اپ میں شامل کر رہی ہیں۔ نشاط گروپ نے دو نئے چینی برانڈز متعارف کرائے ہیں اور لکی موٹرز دو دیگر برانڈز کو پاکستان میں لانے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ دونوں گروپ اپنی موجودہ صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے کوریائی برانڈز مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2016-21 کی آٹو پالیسی کے بعد، کراس اوورز کی ابتدائی کامیابیوں میں سے ایک MG تھی، جو ایک برطانوی برانڈ ہے اور جسے چینی سرمایہ کاروں نے حاصل کیا تھا۔ تاہم، کووڈ لاک ڈاؤنز کی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹوں اور مقامی شراکت داروں کی کم پیش بندی کے باعث اس برانڈ نے صارفین کا اعتماد کھو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کا پیش رو ہیول( Haval) رہا ہے، جو گریٹ وال موٹرز کا ایک برانڈ ہے اور پاکستان میں سازگار انجینئرنگ نے متعارف کروایا ہے۔ یہ مقامی فرم، جو طویل عرصے سے تین پہیہ گاڑیوں کی تیاری میں مصروف ہے، نے گرین فیلڈ اور این ای وی چار پہیہ گاڑیوں کی پالیسیوں دونوں سے فائدہ اٹھایا جبکہ دیگر نے بنیادی طور پر پہلے پر توجہ دی۔ پاکستان میں ہیولHaval کی کامیابی نے یہاں تک کہ چینی پیرنٹ کمپنی کو بھی حیران کر دیا ہے۔ اب کئی دیگر چینی کھلاڑی پاکستانی مارکیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور مقامی اسمبلرز بھی اسی راہ پر گامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نشاط اور لکی چینی برانڈز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میگا موٹرز (جو حبکو کا منصوبہ ہے) ایک مقامی اسمبلنگ پلانٹ قائم کر رہا ہے، جس سے توقع ہے کہ یہ بی وائی ڈی گاڑیاں 2026 کی آخری سہ ماہی میں تیار کرنا شروع کرے گا۔ بیسٹ وے سیمنٹ بھی آٹو سیکٹر میں داخل ہو رہا ہے اور صنعت کی افواہوں کے مطابق یہ پرانے پروٹون پلانٹ کو حاصل کر رہا ہے جہاں ممکنہ طور پر چینی گاڑیاں اسمبل کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہانی سادہ ہے: صارفین کی ترجیح تبدیلی کی اصل وجہ ہے۔ خاص طور پر چینی گاڑیوں کے حوالے سے ایک دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ مکمل تیار شدہ درآمد شدہ گاڑیوں ( سی بی یوز) کی قیمت، مقامی طور پر اسمبل کی گئی مکمل جدا شدہ یونٹس ( سی کے ڈیز) سے کم ہے۔ مقامی اسمبلنگ کی واحد ترغیب کسٹمز ڈیوٹی کی حفاظت ہے۔ پاکستان چینی برانڈز کی برآمد بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ دوسرے ممالک کے لیے چین سے براہِ راست درآمد کرنا سستا پڑتا ہے۔ این ای ویز میں لوکلائزیشن کم ہی رہے گی کیونکہ ان میں حرکت کرنے والے پرزے کم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثالی طور پر، ڈیوٹی اسٹرکچر کو معقول بنایا جانا چاہیے، جیسا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) میں تصور کیا گیا ہے، جو اگر نافذ ہو جائے تو پانچ برسوں میں ڈیوٹی پروٹیکشن میں نمایاں کمی کی تجویز دیتی ہے۔ پاکستان کو مقامی اسمبلنگ میں کوئی تقابلی برتری حاصل نہیں ہے۔ تو پھر 10 سے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اسمبلنگ پلانٹ لگانا، مہنگے سی کے ڈی کٹس درآمد کرنا اور مقامی طور پر فروخت کرنا کیوں ضروری ہے؟ اگر مقامی اسمبلنگ نہ ہو، تو زرمبادلہ پر دباؤ بھی کم ہو گا اور سرمایہ اُن شعبوں میں لگایا جا سکتا ہے جہاں پاکستان کو حقیقی مسابقتی برتری حاصل ہے۔ اسمبلنگ کے حق میں واحد موثر دلیل او ای ایمز اور پرزہ ساز اداروں میں روزگار کا تحفظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں صرف استعمال شدہ گاڑیوں سے مقابلے کا خوف نہیں، بلکہ چینی انقلاب سے بھی تشویش لاحق ہے۔ دوسری جانب، سوزوکی شاید سخت مقابلے سے محفوظ رہے، کیونکہ چین کی توجہ چھوٹی گاڑیوں پر نہیں ہے۔ تاہم، استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ سوزوکی کے لیے ایک کہیں بڑا خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میگا موٹرز (بی وائے ڈی) ایک نیا پلانٹ کیوں لگا رہی ہے جب کہ وہ کسی موجودہ پلانٹ کو خرید یا شراکت داری میں استعمال کر سکتی تھی؟ انہیں ایسا موقع ملا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ دوسری طرف، بیسٹ وے شاید زیادہ سمجھدار فیصلہ کر رہا ہے۔ پرانا پلانٹ خریدنا سستا ہوتا ہے اور خطرات بھی کم ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مقامی اسمبلنگ کو وجودی خطرات لاحق ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال صنعت میں ایک بڑی ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستانی کاروباری گروپوں کے پاس نقد سرمایہ تو موجود ہے، مگر سرمایہ کاری کے لیے واضح سمت کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑی تعداد میں این ای ویز کی طرف جا رہے ہیں۔ مارکیٹ جلد ہی چینی گاڑیوں سے بھر جائے گی، اور تمام کھلاڑی زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ ایک سخت مقابلہ ہو گا، جس میں چند ہی کمپنیاں باقی بچیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کامیابی کے لیے ایک مضبوط مقامی شراکت دار، جسے مینوفیکچرنگ کا تجربہ ہو، ناگزیر ہے۔ کچھ برانڈز آغاز کے بعد ہی دم توڑ دیں گے۔ خود چین میں بھی تجزیے بتاتے ہیں کہ موجودہ 128 آٹو ساز اداروں میں سے صرف 10 سے 15 ہی باقی رہیں گے۔ یہی کمپنیاں ممکنہ طور پر پاکستانی مارکیٹ پر بھی غلبہ پا سکتی ہیں۔ پاکستان نے چینی درآمدات کے ذریعے دنیا میں سب سے تیز رفتار سولر اپنانے والے ممالک میں جگہ بنائی تھی۔ ممکن ہے کہ آٹو سیکٹر میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھنے کو ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر آئی ایم ایف پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔ موجودہ کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو مقامی پیداوار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ”اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کھل گئی تو پاکستان میں آٹوموبائل اسمبلنگ ختم ہو جائے گی،“ لکی موٹرز کے چیئرمین علی تبہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ”ہم استعمال شدہ ٹویوٹا گاڑیاں وارنٹی اور سرٹیفکیشن کے ساتھ فروخت کریں گے،“ انڈس موٹرز کے سی ای او علی جمالی نے کہا۔ ہونڈا بھی ممکنہ طور پر یہی راستہ اختیار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کراس اوور گاڑیاں پاکستان میں ایک نیا رجحان ہیں۔ 2018 میں ان کا مارکیٹ شیئر 5 فیصد سے بھی کم تھا، جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تبدیلی چینی کمپنیوں کے ہاتھوں تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب چین، جس طرح پہلے سولر پینلز اور اب بیٹریوں کے معاملے میں کر رہا ہے، پاکستان میں گاڑیوں کی ڈمپننگ بھی شروع کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;چاہے نیشنل ٹیرف پالیسی ہو یا نہ ہو، قیمتوں کی جنگ یقینی ہے۔ چینی کمپنیوں کا مقامی معیشت میں کوئی داؤ نہیں، وہ جتنا بیچ سکتی ہیں، بیچیں گی۔ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں گرنے کا امکان ہے، اور مقامی شراکت دار صارفین کو ہر تین چار سال میں گاڑیاں اپ گریڈ کرانے کے لیے پرکشش فنانسنگ اسکیمیں پیش کر سکتے ہیں۔ واحد ممکنہ رکاوٹ پاکستان کا توازنِ ادائیگی کا بحران ہے۔ تاہم، اس کے باوجود یا اس کے بغیر، گاڑیوں کی صنعت ایک انقلابی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آٹوموبائل صنعت ایک دلچسپ تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ پچھلے مالی سال میں مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی گاڑیوں کی فروخت صنعت کی مجموعی استعداد کا صرف ایک تہائی تھی، تقریباً 175,000 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ موجودہ گنجائش تقریباً 550,000 یونٹس تھی۔ اسی دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کا دروازہ کھل رہا ہے، نئے اسمبلرز مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں (جن میں بی وائی ڈی اور دیگر شامل ہیں)، اور موجودہ کھلاڑی نئی برانڈز متعارف کرا رہے ہیں۔ بظاہر یہ معاشی منطق کے خلاف معلوم ہوتا ہے لیکن اس دیوانگی کے پیچھے حکمت ہے۔</strong></p>
<p>طلب نئی توانائی والی گاڑیوں (این ای ویز) اور کراس اوورز کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ موجودہ پیداوار کا زیادہ تر حصہ اب بھی روایتی ایندھن والے انجن (آئی سی ای) والے سیڈان ماڈلز پرمشتمل ہے۔ صارفین بڑھتی ہوئی تعداد میں چینی برانڈز کو ترجیح دے رہے ہیں جو این ای ویز مارکیٹ کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ زیادہ تر مقامی اسمبلر جاپانی اور کوریائی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔</p>
<p>کوریائی کمپنیاں اب چینی کراس اوورز اور ایس یو ویز کو بھی اپنی لائن اپ میں شامل کر رہی ہیں۔ نشاط گروپ نے دو نئے چینی برانڈز متعارف کرائے ہیں اور لکی موٹرز دو دیگر برانڈز کو پاکستان میں لانے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ دونوں گروپ اپنی موجودہ صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے کوریائی برانڈز مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>2016-21 کی آٹو پالیسی کے بعد، کراس اوورز کی ابتدائی کامیابیوں میں سے ایک MG تھی، جو ایک برطانوی برانڈ ہے اور جسے چینی سرمایہ کاروں نے حاصل کیا تھا۔ تاہم، کووڈ لاک ڈاؤنز کی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹوں اور مقامی شراکت داروں کی کم پیش بندی کے باعث اس برانڈ نے صارفین کا اعتماد کھو دیا۔</p>
<p>اس رجحان کا پیش رو ہیول( Haval) رہا ہے، جو گریٹ وال موٹرز کا ایک برانڈ ہے اور پاکستان میں سازگار انجینئرنگ نے متعارف کروایا ہے۔ یہ مقامی فرم، جو طویل عرصے سے تین پہیہ گاڑیوں کی تیاری میں مصروف ہے، نے گرین فیلڈ اور این ای وی چار پہیہ گاڑیوں کی پالیسیوں دونوں سے فائدہ اٹھایا جبکہ دیگر نے بنیادی طور پر پہلے پر توجہ دی۔ پاکستان میں ہیولHaval کی کامیابی نے یہاں تک کہ چینی پیرنٹ کمپنی کو بھی حیران کر دیا ہے۔ اب کئی دیگر چینی کھلاڑی پاکستانی مارکیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور مقامی اسمبلرز بھی اسی راہ پر گامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نشاط اور لکی چینی برانڈز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔</p>
<p>میگا موٹرز (جو حبکو کا منصوبہ ہے) ایک مقامی اسمبلنگ پلانٹ قائم کر رہا ہے، جس سے توقع ہے کہ یہ بی وائی ڈی گاڑیاں 2026 کی آخری سہ ماہی میں تیار کرنا شروع کرے گا۔ بیسٹ وے سیمنٹ بھی آٹو سیکٹر میں داخل ہو رہا ہے اور صنعت کی افواہوں کے مطابق یہ پرانے پروٹون پلانٹ کو حاصل کر رہا ہے جہاں ممکنہ طور پر چینی گاڑیاں اسمبل کی جائیں گی۔</p>
<p>کہانی سادہ ہے: صارفین کی ترجیح تبدیلی کی اصل وجہ ہے۔ خاص طور پر چینی گاڑیوں کے حوالے سے ایک دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ مکمل تیار شدہ درآمد شدہ گاڑیوں ( سی بی یوز) کی قیمت، مقامی طور پر اسمبل کی گئی مکمل جدا شدہ یونٹس ( سی کے ڈیز) سے کم ہے۔ مقامی اسمبلنگ کی واحد ترغیب کسٹمز ڈیوٹی کی حفاظت ہے۔ پاکستان چینی برانڈز کی برآمد بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ دوسرے ممالک کے لیے چین سے براہِ راست درآمد کرنا سستا پڑتا ہے۔ این ای ویز میں لوکلائزیشن کم ہی رہے گی کیونکہ ان میں حرکت کرنے والے پرزے کم ہوتے ہیں۔</p>
<p>مثالی طور پر، ڈیوٹی اسٹرکچر کو معقول بنایا جانا چاہیے، جیسا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) میں تصور کیا گیا ہے، جو اگر نافذ ہو جائے تو پانچ برسوں میں ڈیوٹی پروٹیکشن میں نمایاں کمی کی تجویز دیتی ہے۔ پاکستان کو مقامی اسمبلنگ میں کوئی تقابلی برتری حاصل نہیں ہے۔ تو پھر 10 سے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اسمبلنگ پلانٹ لگانا، مہنگے سی کے ڈی کٹس درآمد کرنا اور مقامی طور پر فروخت کرنا کیوں ضروری ہے؟ اگر مقامی اسمبلنگ نہ ہو، تو زرمبادلہ پر دباؤ بھی کم ہو گا اور سرمایہ اُن شعبوں میں لگایا جا سکتا ہے جہاں پاکستان کو حقیقی مسابقتی برتری حاصل ہے۔ اسمبلنگ کے حق میں واحد موثر دلیل او ای ایمز اور پرزہ ساز اداروں میں روزگار کا تحفظ ہے۔</p>
<p>انہیں صرف استعمال شدہ گاڑیوں سے مقابلے کا خوف نہیں، بلکہ چینی انقلاب سے بھی تشویش لاحق ہے۔ دوسری جانب، سوزوکی شاید سخت مقابلے سے محفوظ رہے، کیونکہ چین کی توجہ چھوٹی گاڑیوں پر نہیں ہے۔ تاہم، استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ سوزوکی کے لیے ایک کہیں بڑا خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔</p>
<p>یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میگا موٹرز (بی وائے ڈی) ایک نیا پلانٹ کیوں لگا رہی ہے جب کہ وہ کسی موجودہ پلانٹ کو خرید یا شراکت داری میں استعمال کر سکتی تھی؟ انہیں ایسا موقع ملا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ دوسری طرف، بیسٹ وے شاید زیادہ سمجھدار فیصلہ کر رہا ہے۔ پرانا پلانٹ خریدنا سستا ہوتا ہے اور خطرات بھی کم ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مقامی اسمبلنگ کو وجودی خطرات لاحق ہوں۔</p>
<p>بہرحال صنعت میں ایک بڑی ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستانی کاروباری گروپوں کے پاس نقد سرمایہ تو موجود ہے، مگر سرمایہ کاری کے لیے واضح سمت کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑی تعداد میں این ای ویز کی طرف جا رہے ہیں۔ مارکیٹ جلد ہی چینی گاڑیوں سے بھر جائے گی، اور تمام کھلاڑی زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ ایک سخت مقابلہ ہو گا، جس میں چند ہی کمپنیاں باقی بچیں گی۔</p>
<p>پاکستان میں کامیابی کے لیے ایک مضبوط مقامی شراکت دار، جسے مینوفیکچرنگ کا تجربہ ہو، ناگزیر ہے۔ کچھ برانڈز آغاز کے بعد ہی دم توڑ دیں گے۔ خود چین میں بھی تجزیے بتاتے ہیں کہ موجودہ 128 آٹو ساز اداروں میں سے صرف 10 سے 15 ہی باقی رہیں گے۔ یہی کمپنیاں ممکنہ طور پر پاکستانی مارکیٹ پر بھی غلبہ پا سکتی ہیں۔ پاکستان نے چینی درآمدات کے ذریعے دنیا میں سب سے تیز رفتار سولر اپنانے والے ممالک میں جگہ بنائی تھی۔ ممکن ہے کہ آٹو سیکٹر میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھنے کو ملے۔</p>
<p>ادھر آئی ایم ایف پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔ موجودہ کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو مقامی پیداوار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ”اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کھل گئی تو پاکستان میں آٹوموبائل اسمبلنگ ختم ہو جائے گی،“ لکی موٹرز کے چیئرمین علی تبہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ”ہم استعمال شدہ ٹویوٹا گاڑیاں وارنٹی اور سرٹیفکیشن کے ساتھ فروخت کریں گے،“ انڈس موٹرز کے سی ای او علی جمالی نے کہا۔ ہونڈا بھی ممکنہ طور پر یہی راستہ اختیار کرے گا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کراس اوور گاڑیاں پاکستان میں ایک نیا رجحان ہیں۔ 2018 میں ان کا مارکیٹ شیئر 5 فیصد سے بھی کم تھا، جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تبدیلی چینی کمپنیوں کے ہاتھوں تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب چین، جس طرح پہلے سولر پینلز اور اب بیٹریوں کے معاملے میں کر رہا ہے، پاکستان میں گاڑیوں کی ڈمپننگ بھی شروع کر دے گا۔</p>
</blockquote>
<p>چاہے نیشنل ٹیرف پالیسی ہو یا نہ ہو، قیمتوں کی جنگ یقینی ہے۔ چینی کمپنیوں کا مقامی معیشت میں کوئی داؤ نہیں، وہ جتنا بیچ سکتی ہیں، بیچیں گی۔ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں گرنے کا امکان ہے، اور مقامی شراکت دار صارفین کو ہر تین چار سال میں گاڑیاں اپ گریڈ کرانے کے لیے پرکشش فنانسنگ اسکیمیں پیش کر سکتے ہیں۔ واحد ممکنہ رکاوٹ پاکستان کا توازنِ ادائیگی کا بحران ہے۔ تاہم، اس کے باوجود یا اس کے بغیر، گاڑیوں کی صنعت ایک انقلابی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277584</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Sep 2025 16:31:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/29155357f627583.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/29155357f627583.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
