<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277570/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوئی اور پیر کو انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے مقامی کرنسی 0.02 روپے کے اضافے  سے 281.35 روپے پر جاپہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے دوران بھی پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی تھی اور انٹربینک مارکیٹ میں 0.09 روپے یا 0.03 فیصد بڑھ کر 281.37 پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پچھلے ہفتے روپیہ 281.46 روپے پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو امریکی ڈالر دفاعی پوزیشن میں رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکی معاشی رپورٹس کے منتظر ہیں جو فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود کے معاملے پر مزید وضاحت فراہم کریں گی، ساتھ ہی امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن کا خدشہ بھی توجہ کا مرکز بنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی ایشیائی سیشن میں کرنسی مارکیٹس میں زیادہ ہلچل نظر نہیں آئی، تاہم ڈالر نے گزشتہ ہفتے کی مضبوطی کے بعد کچھ فوائد کھو دیے، جو فیڈ کے ریٹ کٹ کے امکانات میں کمی کے باعث ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 0.2 فیصد گر کر 149.24 پر آ گیا، حالانکہ گزشتہ ہفتے جاپانی کرنسی کے مقابلے میں اس میں 1 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.15 فیصد بڑھ کر 1.1717 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3418 ڈالر تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی فکر امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا خطرہ رہا، اگر کانگریس منگل کو مالی سال کے اختتام سے قبل فنڈنگ بل منظور کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈنگ قانون سازی کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں حکومت کے کچھ حصے بدھ سے بند ہو جائیں گے، جو امریکی حکومت کے مالی سال 2026 کا پہلا دن ہوگا۔ اس کا اثر جمعے کو جاری ہونے والی انتہائی اہم نان فارم پے رولز رپورٹ پر بھی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک کلیدی اشاریہ ہیں، پیر کو گر گئیں کیونکہ عراق کے کردستان خطے نے ویک اینڈ پر ترکیہ کے ذریعے خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر دیں اور اوپیک پلس نے نومبر میں تیل کی پیداوار میں ایک اور اضافے کا اعلان کیا، جس سے عالمی رسد میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 34 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 69.79 ڈالر فی بیرل پر آ گئے (0330 جی ایم ٹی تک)، حالانکہ جمعے کو یہ 31 جولائی کے بعد سب سے بلند سطح پر بند ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 43 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 65.29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جو جمعے کے زیادہ تر فوائد واپس دے بیٹھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوئی اور پیر کو انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے مقامی کرنسی 0.02 روپے کے اضافے  سے 281.35 روپے پر جاپہنچی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے دوران بھی پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی تھی اور انٹربینک مارکیٹ میں 0.09 روپے یا 0.03 فیصد بڑھ کر 281.37 پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پچھلے ہفتے روپیہ 281.46 روپے پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو امریکی ڈالر دفاعی پوزیشن میں رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکی معاشی رپورٹس کے منتظر ہیں جو فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود کے معاملے پر مزید وضاحت فراہم کریں گی، ساتھ ہی امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن کا خدشہ بھی توجہ کا مرکز بنا رہا۔</p>
<p>ابتدائی ایشیائی سیشن میں کرنسی مارکیٹس میں زیادہ ہلچل نظر نہیں آئی، تاہم ڈالر نے گزشتہ ہفتے کی مضبوطی کے بعد کچھ فوائد کھو دیے، جو فیڈ کے ریٹ کٹ کے امکانات میں کمی کے باعث ہوا تھا۔</p>
<p>ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 0.2 فیصد گر کر 149.24 پر آ گیا، حالانکہ گزشتہ ہفتے جاپانی کرنسی کے مقابلے میں اس میں 1 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>یورو 0.15 فیصد بڑھ کر 1.1717 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3418 ڈالر تک پہنچا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی فکر امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا خطرہ رہا، اگر کانگریس منگل کو مالی سال کے اختتام سے قبل فنڈنگ بل منظور کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p>فنڈنگ قانون سازی کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں حکومت کے کچھ حصے بدھ سے بند ہو جائیں گے، جو امریکی حکومت کے مالی سال 2026 کا پہلا دن ہوگا۔ اس کا اثر جمعے کو جاری ہونے والی انتہائی اہم نان فارم پے رولز رپورٹ پر بھی پڑے گا۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک کلیدی اشاریہ ہیں، پیر کو گر گئیں کیونکہ عراق کے کردستان خطے نے ویک اینڈ پر ترکیہ کے ذریعے خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر دیں اور اوپیک پلس نے نومبر میں تیل کی پیداوار میں ایک اور اضافے کا اعلان کیا، جس سے عالمی رسد میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 34 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 69.79 ڈالر فی بیرل پر آ گئے (0330 جی ایم ٹی تک)، حالانکہ جمعے کو یہ 31 جولائی کے بعد سب سے بلند سطح پر بند ہوئے تھے۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 43 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 65.29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جو جمعے کے زیادہ تر فوائد واپس دے بیٹھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277570</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Sep 2025 16:13:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/291114008681b93.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/291114008681b93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
