<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوہری مذاکرات پر تعطل، ایران کی مذہبی قیادت وجودی خطرے سے دوچار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277545/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے مذہبی حکمرانوں کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک کا سامنا ہے، جہاں ایک طرف مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور دوسری طرف تعطل کا شکار جوہری معاہدہ ملک کو مزید تنہائی اور تقسیم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہفتے کے روز اقوام متحدہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مغرب کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کی معاشی تنہائی مزید گہری ہو گی، جو عوامی غصے کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم مغربی شرائط کو قبول کرنے سے حکومت کے اندرونی اختلافات بڑھنے اور مغربی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کے انقلابی نظریے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں ایک اور تشویش اسرائیلی حملوں کے امکانات ہیں۔ جون میں اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں سے شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ نے تہران کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کی تو کارروائی میں تاخیر نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی پابندیوں میں ایران کے تیل، بینکاری، دفاعی اور جوہری شعبے شامل ہیں، جبکہ درجنوں شخصیات اور اداروں پر سفری اور مالی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیاں ایران کی کمزور معیشت پر شدید دباؤ ڈالیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں افراطِ زر کی شرح 40 فیصد سے زائد ہے جبکہ اشیائے خورونوش اور رہائش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ عوامی ناراضی بڑھنے پر حکومت کو خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ سکتے ہیں جو داخلی اور خارجی سطح پر ایران کی پوزیشن کو مزید کمزور کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے مذہبی حکمرانوں کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک کا سامنا ہے، جہاں ایک طرف مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور دوسری طرف تعطل کا شکار جوہری معاہدہ ملک کو مزید تنہائی اور تقسیم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہفتے کے روز اقوام متحدہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔</strong></p>
<p>ایرانی حکام اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مغرب کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کی معاشی تنہائی مزید گہری ہو گی، جو عوامی غصے کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم مغربی شرائط کو قبول کرنے سے حکومت کے اندرونی اختلافات بڑھنے اور مغربی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کے انقلابی نظریے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>اس صورتحال میں ایک اور تشویش اسرائیلی حملوں کے امکانات ہیں۔ جون میں اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں سے شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ نے تہران کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کی تو کارروائی میں تاخیر نہیں ہو گی۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی پابندیوں میں ایران کے تیل، بینکاری، دفاعی اور جوہری شعبے شامل ہیں، جبکہ درجنوں شخصیات اور اداروں پر سفری اور مالی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیاں ایران کی کمزور معیشت پر شدید دباؤ ڈالیں گی۔</p>
<p>ایران میں افراطِ زر کی شرح 40 فیصد سے زائد ہے جبکہ اشیائے خورونوش اور رہائش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ عوامی ناراضی بڑھنے پر حکومت کو خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ سکتے ہیں جو داخلی اور خارجی سطح پر ایران کی پوزیشن کو مزید کمزور کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277545</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Sep 2025 12:48:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2812455731efe30.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2812455731efe30.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
