<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، چین، ایران اور روس کی جانب سے افغانستان میں فوجی اڈوں کے قیام کی سخت مخالفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277534/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، چین، ایران اور روس نے افغانستان اور اس کے گرد و نواح میں فوجی اڈے قائم کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے ذمہ دار وہ ممالک ہیں جنہوں نے موجودہ بحران پیدا کیا۔ یہ مشترکہ اعلامیہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقد ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستان ایک خودمختار، متحد اور پرامن ملک ہونا چاہیے جو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ہو۔ وزرائے خارجہ نے داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جیش العدل، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں موجودگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاروں ممالک نے افغانستان میں اقتصادی بحالی، علاقائی رابطوں اور تجارتی تعاون کے فروغ پر زور دیا اور 1988 کی پابندیوں کے نظام میں زمینی حقائق کے مطابق نرمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اعلامیہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی جاری رکھنے اور اسے کسی سیاسی مقصد سے مشروط نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق اقدامات کریں، دہشت گردی کے ڈھانچے اور ٹریننگ کیمپس ختم کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، منشیات کے خاتمے، خاص طور پر میتھ ایمفیٹامائن کی بڑھتی پیداوار کے سدباب کے لیے جامع اقدامات پر زور دیا گیا۔ افغان مہاجرین کی واپسی اور ان کی باعزت بحالی پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ پاکستان اور ایران کی میزبانی کو سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا کہ نیٹو ممالک افغانستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں، لہٰذا انہیں پابندیاں ختم کرنی چاہئیں اور افغان اثاثے واپس کرنے چاہئیں تاکہ عوام کی حالت بہتر ہو سکے۔ وزرائے خارجہ نے شمولیتی حکومت، خواتین کی تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق تک رسائی پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاروں ممالک نے افغانستان کے مسئلے کے پرامن سیاسی حل کی حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز، جیسے شنگھائی تعاون تنظیم اور ماسکو فارمیٹ کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، چین، ایران اور روس نے افغانستان اور اس کے گرد و نواح میں فوجی اڈے قائم کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے ذمہ دار وہ ممالک ہیں جنہوں نے موجودہ بحران پیدا کیا۔ یہ مشترکہ اعلامیہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقد ہوا۔</strong></p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستان ایک خودمختار، متحد اور پرامن ملک ہونا چاہیے جو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ہو۔ وزرائے خارجہ نے داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جیش العدل، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں موجودگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔</p>
<p>چاروں ممالک نے افغانستان میں اقتصادی بحالی، علاقائی رابطوں اور تجارتی تعاون کے فروغ پر زور دیا اور 1988 کی پابندیوں کے نظام میں زمینی حقائق کے مطابق نرمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اعلامیہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی جاری رکھنے اور اسے کسی سیاسی مقصد سے مشروط نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق اقدامات کریں، دہشت گردی کے ڈھانچے اور ٹریننگ کیمپس ختم کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔</p>
<p>مزید برآں، منشیات کے خاتمے، خاص طور پر میتھ ایمفیٹامائن کی بڑھتی پیداوار کے سدباب کے لیے جامع اقدامات پر زور دیا گیا۔ افغان مہاجرین کی واپسی اور ان کی باعزت بحالی پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ پاکستان اور ایران کی میزبانی کو سراہا گیا۔</p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا کہ نیٹو ممالک افغانستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں، لہٰذا انہیں پابندیاں ختم کرنی چاہئیں اور افغان اثاثے واپس کرنے چاہئیں تاکہ عوام کی حالت بہتر ہو سکے۔ وزرائے خارجہ نے شمولیتی حکومت، خواتین کی تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق تک رسائی پر زور دیا۔</p>
<p>چاروں ممالک نے افغانستان کے مسئلے کے پرامن سیاسی حل کی حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز، جیسے شنگھائی تعاون تنظیم اور ماسکو فارمیٹ کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277534</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Sep 2025 10:29:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/28102854af99607.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/28102854af99607.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
