<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلز ٹیکس ایکٹ دفعہ 66، سپریم کورٹ نے ٹیکس پیریڈ کی تشریح واضح کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277530/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 66 کے تحت متعلقہ ٹیکس پیریڈ صرف وہی مدت ہوسکتی ہے جو ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کے بعد شروع ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ استثنیٰ کی مدت کے دوران ایسا کوئی ٹیکس پیریڈ وجود نہیں رکھتا جسے محدودیت (لیمٹیشن) کے آغاز کے لیے بنیاد بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اگرچہ سامان استثنیٰ کی مدت میں تیار کیا گیا ہو، لیکن جب وہ سامان بعد ازاں فروخت ہوتا ہے تو وہ ٹیکسیبل گڈز اور اس کی فروخت ٹیکسیبل سپلائی تصور ہوگی۔ اس صورت میں ہی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے اور اسی دوران محدودیت کے اصول کا اطلاق ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس میں معاملہ یہ تھا کہ ایک سیمنٹ ساز ادارے نے اگست/ستمبر 2001 میں سیلز ٹیکس ریفنڈ کا دعویٰ دائر کیا، جس کی رقم 9 کروڑ 39 لاکھ 95 ہزار 51 روپے تھی۔ یہ ریفنڈ استثنیٰ کی مدت (5 ستمبر 2000 تک) میں خریدی گئی اشیا پر ادا کیے گئے ٹیکس کے ایڈجسٹمنٹ کے طور پر مانگا گیا تھا۔ محکمہ نے صرف 2 کروڑ 95 لاکھ 99 ہزار 43 روپے کی حد تک ریفنڈ تسلیم کیا جبکہ باقی 6 کروڑ 43 لاکھ 96 ہزار 8 روپے کا دعویٰ یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ ایک سال کی مدت سے زائد ہونے کی وجہ سے ٹائم بارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹربیونل نے ٹیکس دہندہ کے مؤقف کو درست قرار دیا اور اس کے حق میں فیصلہ دیا، جسے بعد میں ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ محکمہ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ استثنیٰ کی مدت کے دوران کوئی ٹیکس پیریڈ وجود نہیں رکھتا، اس لیے محدودیت کا آغاز 5 ستمبر 2000 یا اس سے قبل کی کسی تاریخ سے نہیں ہوسکتا۔ محدودیت کا آغاز صرف استثنیٰ کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والے ٹیکس پیریڈز سے ہوسکتا ہے۔ اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس دہندہ کا دعویٰ وقت کے اندر تھا اور اسے مسترد کرنا درست نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ باقی ماندہ 6 کروڑ 43 لاکھ 96 ہزار 8 روپے کا بھی حقدار ہے، جیسا کہ ٹربیونل اور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 66 کے تحت متعلقہ ٹیکس پیریڈ صرف وہی مدت ہوسکتی ہے جو ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کے بعد شروع ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ استثنیٰ کی مدت کے دوران ایسا کوئی ٹیکس پیریڈ وجود نہیں رکھتا جسے محدودیت (لیمٹیشن) کے آغاز کے لیے بنیاد بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اگرچہ سامان استثنیٰ کی مدت میں تیار کیا گیا ہو، لیکن جب وہ سامان بعد ازاں فروخت ہوتا ہے تو وہ ٹیکسیبل گڈز اور اس کی فروخت ٹیکسیبل سپلائی تصور ہوگی۔ اس صورت میں ہی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے اور اسی دوران محدودیت کے اصول کا اطلاق ہوسکتا ہے۔</p>
<p>کیس میں معاملہ یہ تھا کہ ایک سیمنٹ ساز ادارے نے اگست/ستمبر 2001 میں سیلز ٹیکس ریفنڈ کا دعویٰ دائر کیا، جس کی رقم 9 کروڑ 39 لاکھ 95 ہزار 51 روپے تھی۔ یہ ریفنڈ استثنیٰ کی مدت (5 ستمبر 2000 تک) میں خریدی گئی اشیا پر ادا کیے گئے ٹیکس کے ایڈجسٹمنٹ کے طور پر مانگا گیا تھا۔ محکمہ نے صرف 2 کروڑ 95 لاکھ 99 ہزار 43 روپے کی حد تک ریفنڈ تسلیم کیا جبکہ باقی 6 کروڑ 43 لاکھ 96 ہزار 8 روپے کا دعویٰ یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ ایک سال کی مدت سے زائد ہونے کی وجہ سے ٹائم بارڈ ہے۔</p>
<p>تاہم ٹربیونل نے ٹیکس دہندہ کے مؤقف کو درست قرار دیا اور اس کے حق میں فیصلہ دیا، جسے بعد میں ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ محکمہ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ استثنیٰ کی مدت کے دوران کوئی ٹیکس پیریڈ وجود نہیں رکھتا، اس لیے محدودیت کا آغاز 5 ستمبر 2000 یا اس سے قبل کی کسی تاریخ سے نہیں ہوسکتا۔ محدودیت کا آغاز صرف استثنیٰ کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والے ٹیکس پیریڈز سے ہوسکتا ہے۔ اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس دہندہ کا دعویٰ وقت کے اندر تھا اور اسے مسترد کرنا درست نہیں تھا۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ باقی ماندہ 6 کروڑ 43 لاکھ 96 ہزار 8 روپے کا بھی حقدار ہے، جیسا کہ ٹربیونل اور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277530</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Sep 2025 09:42:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2809404632b5cef.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2809404632b5cef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
