<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی انتشار کا نیا دور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277522/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) نے کمزور شرحِ نمو اور عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ عالمگیریت کی انتہا کا دور اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اب یہ کہنے کی ٹھوس بنیادیں موجود ہیں کہ عالمی معیشت زیادہ علاقائی، کم موثر، اور زیادہ غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ اکنامک فورم نے حالیہ انتباہ میں واضح کیا ہے کہ عالمی معیشت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جسے کمزور ترقی اور منظم  انتشار کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے چیف اکنامسٹس آؤٹ لک میں ایک ایسے ابھرتے ہوئے عالمی منظرنامے کی نشاندہی کی گئی ہے جو مسلسل جھٹکوں، سست رفتار ترقی اور گہری تقسیم کا حامل ہوگا۔ یہ کوئی عارضی مرحلہ نہیں بلکہ ایک نئے معاشی نظام کی ابتدائی علامات ہیں جو آنے والی دہائیوں تک تجارت، سرمایہ کاری اور نمو کے طریقوں کو ازسرنو ترتیب دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین دہائیوں پر محیط وہ اقتصادی منظرنامہ جو عالمگیریت، منسلک سپلائی چینز اور نسبتاً قابلِ پیشگوئی ترقی پر مشتمل تھا، اب بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے کئی ساختی عوامل کارفرما ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی جی ڈی پی کی شرح آئندہ قابلِ پیش نظر مدت تک تاریخی اوسط سے کم رہنے کی توقع ہے۔ مہنگائی کے دباؤ، بلند شرحِ سود اور کمزور پیداواری صلاحیت نے ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی دونوں معیشتوں کی پیش رفت کو محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسم سے لے کر تکنیکی انتشار اور توانائی کے شعبے میں تبدیلیوں تک، معیشتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ کثرت سے جھٹکے سہنے پڑ رہے ہیں۔ عالمی سپلائی چینز، جو ماضی میں کارکردگی کے اصولوں پر قائم کی گئی تھیں، اب لچک اور تحفظ کے تقاضوں پر دوبارہ ترتیب دی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ، دنیا جغرافیائی اور اقتصادی بنیادوں پر تیزی سے تقسیم ہو رہی ہے۔ امریکہ اور چین کی مسابقت، روس پر مغربی پابندیاں اور ’فرینڈ شورنگ‘ یعنی دوستانہ ممالک میں پیداوار یا سرمایہ کاری کی منتقلی، کا رجحان عالمی تجارتی نظام کو متحارب بلاکس میں بانٹ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی معیشت کی سست رفتاری کے باوجود، ایشیا تیزی سے ترقی کرنے والا سب سے بڑا علاقہ بنا رہے گا، اگرچہ اس خطے کے تمام ممالک کو یکساں فائدہ نہیں پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی ایشیا اپنی صنعتی بنیاد اور تکنیکی برتری سے فائدہ اٹھاتا رہے گا۔ چین کی سست ہوتی ترقی ایک چیلنج ہے، تاہم سپلائی چینز کی ازسرِنو ترتیب ویتنام اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے لیے مواقع پیدا کرے گی۔ جاپان اور جنوبی کوریا، جو جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل معیشت کے حامل ہیں، اپنی مضبوطی برقرار رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوب مشرقی ایشیا سرمایہ کاری جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ کمپنیاں چین سے ہٹ کر تنوع کی تلاش میں ہیں۔ تاہم، طوفانوں، سمندر کی بلند ہوتی سطح اور شدید گرمی جیسے موسمی خطرات اس پیش رفت کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا کے لیے، وسیع تر تناظر میں، اس غیر یقینی عالمی نظام میں بقا کے لیے حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے، جس میں ’علاقائی انضمام‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ سیاسی رقابتوں کا شکار رہنے کے بجائے، جنوبی ایشیا کو باہمی تجارت اور ربط و ضبط کو فروغ دینا ہوگا۔ مشترکہ توانائی کے نیٹ ورک، نقل و حمل کی راہداریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خطے کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور جنوبی ایشیائی خطے کے دیگر ممالک کے لیے یہ تبدیلی ایک سنجیدہ چیلنج بھی ہے اور نئی سمت کی ایک ممکنہ گھڑی بھی۔ جو ممالک خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہی اس منقسم عالمی معیشت میں آگے بڑھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس نئے دور میں گہرے ساختی مسائل کے ساتھ داخل ہو رہا ہے: بھاری بیرونی قرضے، توانائی پر انحصار، موسمیاتی کمزوری اور برآمدات میں تنوع کی کمی۔ ورلڈ اکنامک فورم کے منظرنامے کے تناظر میں پاکستان کو درپیش چیلنجز کئی پہلو رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی طلب کی کمزوری کے باعث، پاکستان کی روایتی برآمدات، جیسے کہ ٹیکسٹائل، چمڑا اور چاول سست منڈیوں کا سامنا کریں گی۔ اگر پاکستان ویلیو چین میں اوپر نہیں جاتا اور خدمات و ڈیجیٹل تجارت کے شعبوں میں وسعت اختیار نہیں کرتا تو اسے جمود کا خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ اب زیادہ تر ان ہی معیشتوں کی جانب رخ کرے گا جو سیاسی طور پر مستحکم اور اصلاحات کی حامل ہوں گی۔ پاکستان کا آئی ایم ایف پر مسلسل انحصار، سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد، اور حکمرانی کے مسائل، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کو مزید مشکل بنا دیں گے۔ بین الاقوامی سطح پر قرض کے اخراجات میں اضافہ پاکستان کے قرضوں کے بوجھ کو اور شدید کر دے گا۔ اگر مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو قرضوں کی ادائیگی ترقیاتی اخراجات کو محدود کر دے گی، جس سے کم سرمایہ کاری کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر جنم لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;عالمی توانائی منڈیوں کا رخ تیزی سے قابلِ تجدید اور صاف ایندھن کی جانب ہو رہا ہے۔ پاکستان، جو درآمد شدہ فوسل فیولز پر شدید انحصار کرتا ہے، اس منتقلی کے نتیجے میں زیادہ لاگت برداشت کرے گا۔ اگر بروقت حالات سے ہم آہنگی پیدا نہ کی گئی تو ملک ایندھن کی قیمتوں میں جھٹکوں اور برآمدی منڈیوں میں کاربن بارڈر ٹیرف کے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سیلاب، خشک سالی اور عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کو مزید شدید بنا دیں گے۔ زراعت کی جدید کاری ناگزیر ہے، لیکن سرمایہ کاری کے بغیر پیداواری صلاحیت کم ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مواقع بھی موجود ہیں۔ اگر پاکستان خود کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے ایک اہم مرکز کے طور پر پیش کر سکے، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ توانائی اور تجارت کے روابط کو وسعت دے اور قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی کے لیے عالمی موسمیاتی مالیات تک رسائی حاصل کرے تو وہ اس انتشار کو اپنے فائدے میں بدل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ورلڈ اکنامک فورم کی وارننگ کو محض ایک انتباہ نہ سمجھا جائے۔ کمزور عالمی نمو، مسلسل انتشار اور شدید تقسیم کا دور پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا کے لیے یہ ایک اجتماعی چیلنج ہے۔ جب تک یہ خطہ تعاون کو ٹکراؤ پر ترجیح نہیں دیتا، اسے خدشہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گا، جبکہ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا ( کے ممالک) آگے بڑھتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) نے کمزور شرحِ نمو اور عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ عالمگیریت کی انتہا کا دور اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اب یہ کہنے کی ٹھوس بنیادیں موجود ہیں کہ عالمی معیشت زیادہ علاقائی، کم موثر، اور زیادہ غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ اکنامک فورم نے حالیہ انتباہ میں واضح کیا ہے کہ عالمی معیشت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جسے کمزور ترقی اور منظم  انتشار کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے چیف اکنامسٹس آؤٹ لک میں ایک ایسے ابھرتے ہوئے عالمی منظرنامے کی نشاندہی کی گئی ہے جو مسلسل جھٹکوں، سست رفتار ترقی اور گہری تقسیم کا حامل ہوگا۔ یہ کوئی عارضی مرحلہ نہیں بلکہ ایک نئے معاشی نظام کی ابتدائی علامات ہیں جو آنے والی دہائیوں تک تجارت، سرمایہ کاری اور نمو کے طریقوں کو ازسرنو ترتیب دے گا۔</p>
<p>گزشتہ تین دہائیوں پر محیط وہ اقتصادی منظرنامہ جو عالمگیریت، منسلک سپلائی چینز اور نسبتاً قابلِ پیشگوئی ترقی پر مشتمل تھا، اب بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے کئی ساختی عوامل کارفرما ہیں۔</p>
<p>عالمی جی ڈی پی کی شرح آئندہ قابلِ پیش نظر مدت تک تاریخی اوسط سے کم رہنے کی توقع ہے۔ مہنگائی کے دباؤ، بلند شرحِ سود اور کمزور پیداواری صلاحیت نے ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی دونوں معیشتوں کی پیش رفت کو محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسم سے لے کر تکنیکی انتشار اور توانائی کے شعبے میں تبدیلیوں تک، معیشتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ کثرت سے جھٹکے سہنے پڑ رہے ہیں۔ عالمی سپلائی چینز، جو ماضی میں کارکردگی کے اصولوں پر قائم کی گئی تھیں، اب لچک اور تحفظ کے تقاضوں پر دوبارہ ترتیب دی جا رہی ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ، دنیا جغرافیائی اور اقتصادی بنیادوں پر تیزی سے تقسیم ہو رہی ہے۔ امریکہ اور چین کی مسابقت، روس پر مغربی پابندیاں اور ’فرینڈ شورنگ‘ یعنی دوستانہ ممالک میں پیداوار یا سرمایہ کاری کی منتقلی، کا رجحان عالمی تجارتی نظام کو متحارب بلاکس میں بانٹ رہا ہے۔</p>
<p>عالمی معیشت کی سست رفتاری کے باوجود، ایشیا تیزی سے ترقی کرنے والا سب سے بڑا علاقہ بنا رہے گا، اگرچہ اس خطے کے تمام ممالک کو یکساں فائدہ نہیں پہنچے گا۔</p>
<p>مشرقی ایشیا اپنی صنعتی بنیاد اور تکنیکی برتری سے فائدہ اٹھاتا رہے گا۔ چین کی سست ہوتی ترقی ایک چیلنج ہے، تاہم سپلائی چینز کی ازسرِنو ترتیب ویتنام اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے لیے مواقع پیدا کرے گی۔ جاپان اور جنوبی کوریا، جو جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل معیشت کے حامل ہیں، اپنی مضبوطی برقرار رکھیں گے۔</p>
<p>جنوب مشرقی ایشیا سرمایہ کاری جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ کمپنیاں چین سے ہٹ کر تنوع کی تلاش میں ہیں۔ تاہم، طوفانوں، سمندر کی بلند ہوتی سطح اور شدید گرمی جیسے موسمی خطرات اس پیش رفت کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>جنوبی ایشیا کے لیے، وسیع تر تناظر میں، اس غیر یقینی عالمی نظام میں بقا کے لیے حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے، جس میں ’علاقائی انضمام‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ سیاسی رقابتوں کا شکار رہنے کے بجائے، جنوبی ایشیا کو باہمی تجارت اور ربط و ضبط کو فروغ دینا ہوگا۔ مشترکہ توانائی کے نیٹ ورک، نقل و حمل کی راہداریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خطے کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور جنوبی ایشیائی خطے کے دیگر ممالک کے لیے یہ تبدیلی ایک سنجیدہ چیلنج بھی ہے اور نئی سمت کی ایک ممکنہ گھڑی بھی۔ جو ممالک خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہی اس منقسم عالمی معیشت میں آگے بڑھ سکیں گے۔</p>
<p>پاکستان اس نئے دور میں گہرے ساختی مسائل کے ساتھ داخل ہو رہا ہے: بھاری بیرونی قرضے، توانائی پر انحصار، موسمیاتی کمزوری اور برآمدات میں تنوع کی کمی۔ ورلڈ اکنامک فورم کے منظرنامے کے تناظر میں پاکستان کو درپیش چیلنجز کئی پہلو رکھتے ہیں۔</p>
<p>عالمی طلب کی کمزوری کے باعث، پاکستان کی روایتی برآمدات، جیسے کہ ٹیکسٹائل، چمڑا اور چاول سست منڈیوں کا سامنا کریں گی۔ اگر پاکستان ویلیو چین میں اوپر نہیں جاتا اور خدمات و ڈیجیٹل تجارت کے شعبوں میں وسعت اختیار نہیں کرتا تو اسے جمود کا خطرہ لاحق ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ اب زیادہ تر ان ہی معیشتوں کی جانب رخ کرے گا جو سیاسی طور پر مستحکم اور اصلاحات کی حامل ہوں گی۔ پاکستان کا آئی ایم ایف پر مسلسل انحصار، سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد، اور حکمرانی کے مسائل، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کو مزید مشکل بنا دیں گے۔ بین الاقوامی سطح پر قرض کے اخراجات میں اضافہ پاکستان کے قرضوں کے بوجھ کو اور شدید کر دے گا۔ اگر مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو قرضوں کی ادائیگی ترقیاتی اخراجات کو محدود کر دے گی، جس سے کم سرمایہ کاری کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر جنم لے گا۔</p>
</blockquote>
<p>عالمی توانائی منڈیوں کا رخ تیزی سے قابلِ تجدید اور صاف ایندھن کی جانب ہو رہا ہے۔ پاکستان، جو درآمد شدہ فوسل فیولز پر شدید انحصار کرتا ہے، اس منتقلی کے نتیجے میں زیادہ لاگت برداشت کرے گا۔ اگر بروقت حالات سے ہم آہنگی پیدا نہ کی گئی تو ملک ایندھن کی قیمتوں میں جھٹکوں اور برآمدی منڈیوں میں کاربن بارڈر ٹیرف کے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔</p>
<p>موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سیلاب، خشک سالی اور عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کو مزید شدید بنا دیں گے۔ زراعت کی جدید کاری ناگزیر ہے، لیکن سرمایہ کاری کے بغیر پیداواری صلاحیت کم ہی رہے گی۔</p>
<p>تاہم، مواقع بھی موجود ہیں۔ اگر پاکستان خود کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے ایک اہم مرکز کے طور پر پیش کر سکے، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ توانائی اور تجارت کے روابط کو وسعت دے اور قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی کے لیے عالمی موسمیاتی مالیات تک رسائی حاصل کرے تو وہ اس انتشار کو اپنے فائدے میں بدل سکتا ہے۔</p>
<p>آخر میں ورلڈ اکنامک فورم کی وارننگ کو محض ایک انتباہ نہ سمجھا جائے۔ کمزور عالمی نمو، مسلسل انتشار اور شدید تقسیم کا دور پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p>جنوبی ایشیا کے لیے یہ ایک اجتماعی چیلنج ہے۔ جب تک یہ خطہ تعاون کو ٹکراؤ پر ترجیح نہیں دیتا، اسے خدشہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گا، جبکہ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا ( کے ممالک) آگے بڑھتے رہیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277522</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 16:58:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/271624151355670.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/271624151355670.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
