<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حساس قیمت اشاریہ میں سست روی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277517/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں 1.34 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ پی بی ایس کی ہفتہ وار ریلیز کے مطابق یہ اشاریہ 335.35 سے گرکر 330.84 ہو گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ (کمی) رپورٹ ریٹیل مہنگائی میں عارضی ریلیف فراہم کرتی ہے لیکن یہ کمی تقریباً مکمل طور پر جلد خراب ہونے والی اشیاء اور بجلی کے چارجز کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ بنیادی اشیائے ضروریہ اور ایندھن  میں اضافہ جاری رہا۔ جب اسے پاکستان کے افراطِ زر کے حرکیات اور مانیٹری پالیسی کے موقف کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے تو ایس پی آئی کے تازہ ترین اعدادوشمار جوابات سے زیادہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کی تفصیل واضح کرتی ہے کہ ٹماٹر کی قیمتیں ایک ہی ہفتے میں 23 فیصد گرگئیں، مرغی کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد کمی ہوئی اور بجلی کے بل 6 فیصد سے زائد کم کیے گئے۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی نے ایس پی آئی انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ڈیزل کی قیمتیں ایک فیصد بڑھ گئیں، انڈوں کی قیمت بھی تقریباً اتنی ہی بڑھی جبکہ چاول، چینی، گھی اور گوشت کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ یہ اشیاء ایک وقتی مہنگائی نہیں بلکہ گھریلو صارفین کے اخراجات کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹماٹر کی قیمتوں میں ایک ہفتے کی عارضی کمی گندم کے آٹے، ایندھن اور چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کا ازالہ نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر ایس پی آئی اب بھی 4.17 فیصد زیادہ ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے یہ ہفتہ وار اتار چڑھاؤ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ طویل مدت میں حقیقی آمدنی میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ بالکل یہی خوردہ سطح کی اشیاء ہیں جو گھریلو بجٹ پر حاوی ہوتی ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ان کا خرچ خوراک اور ایندھن پر مرکوز ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کا ایس پی آئی کو ایک بے ہنگم اشاریہ قرار دے کر رد کر دینا غلط ہے۔ سی پی آئی کی ٹوکری کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ سی پی آئی کا تقریباً 45 فیصد وزن ایس پی آئی کی اشیاء کے ذریعے براہ راست کور ہوتا ہے۔ بنیادی خوراک، گھی اور تیل، چینی، بجلی، گیس، موٹر ایندھن، اور سفری کرایے سبھی دونوں اشاریوں میں شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایس پی آئی میں مسلسل اضافہ ناگزیر طور پر کچھ تاخیر کے ساتھ سی پی آئی میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ ربط اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر سی پی آئی میں صرف 0.58 فیصد اضافہ ہی اس حد سے تجاوز کرنے کے لیے کافی ہے جو اسٹیٹ بینک نے 7 فیصد درمیانی مدت کے لیے مقرر کی ہے، چونکہ سی پی آئی کا تقریباً 40 فیصد وزن ایس پی آئی قسم کی اشیاء سے بنتا ہے، لہٰذا گندم، چینی یا ایندھن میں معمولی مہینے وار اضافے بھی سرخی میں سی پی آئی کو ہدف سے اوپر دھکیلنے کے لیے کافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مفروضہ کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان مستقبل میں بھی جاری رہے گا، کمزور ترین ہے اور اسے مالیاتی منتظمین کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ سیلاب نے ایک بار پھر جلد خراب ہونے والی اشیاء کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے  اور تجربہ بتاتا ہے کہ سیلاب کے بعد کے مہینے قلت اور ذخیرہ اندوزی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال واپس آ گئی ہے کیونکہ خریداری اور درآمد کے فیصلے غیر واضح  ہیں۔ چینی کی منڈیاں غیر متوازن  ہیں، اور ایک ایسے وقت میں جب عالمی تیل کی منڈیاں ایک بار پھر غیر مستحکم ہو رہی ہیں، پیٹرولیم لیوی ایک مالیاتی بیساکھی بنی ہوئی ہے۔ یہ بالکل وہی ذرائع ہیں جن کے ذریعے ایس پی آئی کا دباؤ سی پی آئی میں منتقل ہوتا ہے، جو 7 فیصد افراطِ زر کے ہدف کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعتماد  کا خطرہ دو طرفہ ہے۔ گھرانوں کے لیے، ایس پی آئی میں ہفتہ وار کمی سے کوئی خاص راحت نہیں ملتی جب ان پر مجموعی بوجھ بڑھتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی توقعات شماریاتی اوسط پر نہیں بلکہ روزمرہ کے اخراجات یعنی گندم، کھانے کے تیل، ایندھن اور یوٹیلیٹی بلز پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کے لیے بھی اعتبار کمزور ہوتا ہے اگرسی پی آءی ہدف سے تجاوز کر جائے، خاص طور پر جب مانیٹری ریلیف کا مرحلہ شروع ہونے کے قریب ہو۔ مرکزی بینک جو بہت جلد اقدام کرتا ہے وہ گزشتہ دو سال میں دوبارہ قائم کیے گئے مہنگائی کے انکار کو کھو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبق یہ ہے کہ غیر مستحکم اشیاء کی مختصر مدت کی کمی کو افراطِ زر پر کنٹرول کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم یہ ہے کہ کیا خوردہ مہنگائی کے بنیادی محرکات پر قابو پایا جا رہا ہے یا نہیں۔ اس کا مطلب ہے گندم اور چینی کی پالیسی میں وضاحت اور شفافیت، پرفریش اشیاء کی سپلائی ہموار کرنے کے لیے کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری، اور توانائی کی قیمتوں کے تعین میں ایک منظم رویہ جو پوپلسٹ فریز اور قرض دہندہ کے دباؤ کے درمیان نہ جھولے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب تک، حساس قیمت اشاریہ  ہفتہ بہ ہفتہ اوپر نیچے ہوتا رہے گا، جو وقتی طور پر شماریاتی راحت فراہم کرے گا، لیکن مہنگائی کا حقیقی اثر سخت محسوس ہوتا رہے گا۔ 18 ستمبر کی پی بی ایس رپورٹ کو سگنل کی بجائے شور سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیغام واضح ہے: پاکستان کا مہنگائی کا مسئلہ حل نہیں ہوا، اور ایسے وقتی اشاروں کی بنیاد پر قبل از وقت شرح سود میں کمی صرف خطرات کو بڑھاتی ہے۔ مہنگائی پر اعتماد تب ہی بحال ہوگا جب عوام اور مارکیٹیں یقین کریں کہ ریاست صرف وقتی ریلیف کے تاثر پر نہیں بلکہ قیمتوں کے بنیادی عوامل پر قابو رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں 1.34 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ پی بی ایس کی ہفتہ وار ریلیز کے مطابق یہ اشاریہ 335.35 سے گرکر 330.84 ہو گیا۔</strong></p>
<p>اگرچہ یہ (کمی) رپورٹ ریٹیل مہنگائی میں عارضی ریلیف فراہم کرتی ہے لیکن یہ کمی تقریباً مکمل طور پر جلد خراب ہونے والی اشیاء اور بجلی کے چارجز کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ بنیادی اشیائے ضروریہ اور ایندھن  میں اضافہ جاری رہا۔ جب اسے پاکستان کے افراطِ زر کے حرکیات اور مانیٹری پالیسی کے موقف کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے تو ایس پی آئی کے تازہ ترین اعدادوشمار جوابات سے زیادہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔</p>
<p>اعدادوشمار کی تفصیل واضح کرتی ہے کہ ٹماٹر کی قیمتیں ایک ہی ہفتے میں 23 فیصد گرگئیں، مرغی کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد کمی ہوئی اور بجلی کے بل 6 فیصد سے زائد کم کیے گئے۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی نے ایس پی آئی انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا۔</p>
<p>اسی دوران ڈیزل کی قیمتیں ایک فیصد بڑھ گئیں، انڈوں کی قیمت بھی تقریباً اتنی ہی بڑھی جبکہ چاول، چینی، گھی اور گوشت کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ یہ اشیاء ایک وقتی مہنگائی نہیں بلکہ گھریلو صارفین کے اخراجات کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>ٹماٹر کی قیمتوں میں ایک ہفتے کی عارضی کمی گندم کے آٹے، ایندھن اور چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کا ازالہ نہیں کرسکتی۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر ایس پی آئی اب بھی 4.17 فیصد زیادہ ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے یہ ہفتہ وار اتار چڑھاؤ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ طویل مدت میں حقیقی آمدنی میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اور یہ بالکل یہی خوردہ سطح کی اشیاء ہیں جو گھریلو بجٹ پر حاوی ہوتی ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ان کا خرچ خوراک اور ایندھن پر مرکوز ہوتا ہے۔</p>
<p>پالیسی سازوں کا ایس پی آئی کو ایک بے ہنگم اشاریہ قرار دے کر رد کر دینا غلط ہے۔ سی پی آئی کی ٹوکری کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ سی پی آئی کا تقریباً 45 فیصد وزن ایس پی آئی کی اشیاء کے ذریعے براہ راست کور ہوتا ہے۔ بنیادی خوراک، گھی اور تیل، چینی، بجلی، گیس، موٹر ایندھن، اور سفری کرایے سبھی دونوں اشاریوں میں شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایس پی آئی میں مسلسل اضافہ ناگزیر طور پر کچھ تاخیر کے ساتھ سی پی آئی میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ ربط اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر سی پی آئی میں صرف 0.58 فیصد اضافہ ہی اس حد سے تجاوز کرنے کے لیے کافی ہے جو اسٹیٹ بینک نے 7 فیصد درمیانی مدت کے لیے مقرر کی ہے، چونکہ سی پی آئی کا تقریباً 40 فیصد وزن ایس پی آئی قسم کی اشیاء سے بنتا ہے، لہٰذا گندم، چینی یا ایندھن میں معمولی مہینے وار اضافے بھی سرخی میں سی پی آئی کو ہدف سے اوپر دھکیلنے کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p>یہ مفروضہ کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان مستقبل میں بھی جاری رہے گا، کمزور ترین ہے اور اسے مالیاتی منتظمین کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ سیلاب نے ایک بار پھر جلد خراب ہونے والی اشیاء کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے  اور تجربہ بتاتا ہے کہ سیلاب کے بعد کے مہینے قلت اور ذخیرہ اندوزی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>گندم کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال واپس آ گئی ہے کیونکہ خریداری اور درآمد کے فیصلے غیر واضح  ہیں۔ چینی کی منڈیاں غیر متوازن  ہیں، اور ایک ایسے وقت میں جب عالمی تیل کی منڈیاں ایک بار پھر غیر مستحکم ہو رہی ہیں، پیٹرولیم لیوی ایک مالیاتی بیساکھی بنی ہوئی ہے۔ یہ بالکل وہی ذرائع ہیں جن کے ذریعے ایس پی آئی کا دباؤ سی پی آئی میں منتقل ہوتا ہے، جو 7 فیصد افراطِ زر کے ہدف کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔</p>
<p>اعتماد  کا خطرہ دو طرفہ ہے۔ گھرانوں کے لیے، ایس پی آئی میں ہفتہ وار کمی سے کوئی خاص راحت نہیں ملتی جب ان پر مجموعی بوجھ بڑھتا رہتا ہے۔</p>
<p>عوامی توقعات شماریاتی اوسط پر نہیں بلکہ روزمرہ کے اخراجات یعنی گندم، کھانے کے تیل، ایندھن اور یوٹیلیٹی بلز پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کے لیے بھی اعتبار کمزور ہوتا ہے اگرسی پی آءی ہدف سے تجاوز کر جائے، خاص طور پر جب مانیٹری ریلیف کا مرحلہ شروع ہونے کے قریب ہو۔ مرکزی بینک جو بہت جلد اقدام کرتا ہے وہ گزشتہ دو سال میں دوبارہ قائم کیے گئے مہنگائی کے انکار کو کھو سکتا ہے۔</p>
<p>سبق یہ ہے کہ غیر مستحکم اشیاء کی مختصر مدت کی کمی کو افراطِ زر پر کنٹرول کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>اہم یہ ہے کہ کیا خوردہ مہنگائی کے بنیادی محرکات پر قابو پایا جا رہا ہے یا نہیں۔ اس کا مطلب ہے گندم اور چینی کی پالیسی میں وضاحت اور شفافیت، پرفریش اشیاء کی سپلائی ہموار کرنے کے لیے کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری، اور توانائی کی قیمتوں کے تعین میں ایک منظم رویہ جو پوپلسٹ فریز اور قرض دہندہ کے دباؤ کے درمیان نہ جھولے۔</p>
<p>تب تک، حساس قیمت اشاریہ  ہفتہ بہ ہفتہ اوپر نیچے ہوتا رہے گا، جو وقتی طور پر شماریاتی راحت فراہم کرے گا، لیکن مہنگائی کا حقیقی اثر سخت محسوس ہوتا رہے گا۔ 18 ستمبر کی پی بی ایس رپورٹ کو سگنل کی بجائے شور سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔</p>
<p>پیغام واضح ہے: پاکستان کا مہنگائی کا مسئلہ حل نہیں ہوا، اور ایسے وقتی اشاروں کی بنیاد پر قبل از وقت شرح سود میں کمی صرف خطرات کو بڑھاتی ہے۔ مہنگائی پر اعتماد تب ہی بحال ہوگا جب عوام اور مارکیٹیں یقین کریں کہ ریاست صرف وقتی ریلیف کے تاثر پر نہیں بلکہ قیمتوں کے بنیادی عوامل پر قابو رکھتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277517</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Sep 2025 11:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2715043490c61e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2715043490c61e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
