<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 17:46:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 17:46:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشت گردی کے الزامات، اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277516/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب کے متنازع بیانات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ  بھارت دنیا بھر میں دہشت گردوں کی سرپرستی اور کشمیر میں اپنے مظالم کو چھپا نہیں سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مشن میں تعینات قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے 80 ویں سیشن کے دوران کہا کہ بھارت کی منافقت عیاں ہوچکی ہے، اب وہ پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت، مدد اور مالی معاونت کو چھپا نہیں سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صائمہ سلیم نے بھارت کے مندوب پٹیل گہلوت کے بیان پر ردعمل دیا جس کا تعلق وزیراعظم شہبازشریف کی تقریر سے تھا جس میں انہوں نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر عسکری تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے بے وجہ جارحیت کا شاندار پیشہ ورانہ انداز میں مقابلہ کیا اور 7 بھارتی طیارے مار گرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی مندوب نے پاکستان پر دہشت گردی کی ترویج اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) جیسے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ اس گروہ نے پہلگام حملہ کیا تھا حالانکہ اس گروپ نے ملوث ہونے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی الزامات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ اپنی پراکسیز جیسے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے ذریعے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی نے پاکستان میں ہزاروں معصوم شہریوں کی زندگیاں چھین لیں اور عبادت گاہوں، درس گاہوں اور روزگار کے مراکز کو خون کی ہولی کا میدان بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں طویل عرصے سے عالمی برادری تسلیم کرتی آئی ہے۔ یہ فورم یقیناً ایک جارح، قابض اور ریاستی سرپرست دہشت گرد سے کوئی لیکچر سننے کا محتاج نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صائمہ سلیم نے بھارتی  مندوب کے بیان کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف پہلگام واقعے کی مذمت کی بلکہ آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہ ہوتا تو وہ ایسی تحقیقات سے انکار نہ کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک اصولی اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا  ہے۔ جنگ سے پہلے، دورانِ جنگ اور بعد میں ، تاکہ شہریوں اور شہری ڈھانچوں کو نقصان نہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی لاپروا جنگجوئی اور اشتعال انگیزی نے اس کے سامراجی عزائم کو بے نقاب کردیا۔ جب اس کی مہم جوئی شکست سے دوچار ہوئی تو بہانے تراشے گئے مگر سچ چھپ نہ سکا۔ غرور کا بلبلہ پھٹ گیا، فوجی طاقت کا افسانہ بکھر گیا اور بھارتی نقصانات کے ناقابل تردید شواہد عالمی برادری نے خود فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنا بھارت کے مکروہ کردار کو آشکار کرتا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنا کر ، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا سہارا ہے ، بھارت نے واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتا ہے، کروڑوں افراد کو پانی کے بنیادی حق سے محروم کرتا ہے اور ایک انسانیت دوست معاہدے کی حرمت پامال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم  نے مزید کہا کہ اقلیتوں پر ظلم بھارت میں آر ایس ایس، بی جے پی حکومت کی سرکاری پالیسی بن چکا ہے۔ مسلمانوں کو ایمان کی بنیاد پر مارا جاتا ہے، عیسائیوں پر عبادت کی وجہ سے حملے ہوتے ہیں، سکھ اپنی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنتے ہیں اور دلت اپنی ذات کی بنیاد پر ذلیل کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ دنیا گجرات کو نہیں بھولی جہاں ہزاروں مسلمانوں کو ریاستی سرپرستی میں قتل کیا گیا، دہلی کو نہیں بھولی جب ہجوم نے خون بہایا اور پولیس خاموش رہی، منی پور کو نہیں بھولی جہاں سیکڑوں مارے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ بھارت کا ریکارڈ صرف خون میں نہیں لکھا بلکہ الفاظ میں بھی درج ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی مندوب  کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کی طرف سے نفرت انگیز بیانات، کھلے عام نسل کشی کی اپیلیں اور میڈیا کے ذریعے تعصب کی پرورش۔ آج کے ناقابلِ برداشت بھارت میں اسلاموفوبیا قانون میں ادارہ جاتی طور پر شامل ہے، سیاست میں معمول بن چکا ہے اور میڈیا میں فخر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اپنی سرحدوں سے باہر بھارت ہمسایوں کو ڈراتا ہے، علاقائی تعاون کو روکتا ہے، غیرقانونی قتل و غارت کو برآمد کرتا ہے اور پراکسیز کو فنڈ کرتا ہے تاکہ خطے کو غیرمستحکم کرے۔ یہی ہے  بھارت کا چہرہ۔ اندرون ملک اسلاموفوبیا، بیرون ملک جارحیت اور ہندوتوا اس کے نظریے کا مرکز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ کبھی نہیں تھا اور نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت نے 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس سے جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ عسکری زونز میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا رہا ہے۔ ظالمانہ قوانین کا نفاذ، جعلی مقابلے، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، حوالاتی قتل، منظم جنسی تشدد اور میڈیا بلیک آؤٹ۔ اگست 2019 کے بعد بھارت نے اس خطے میں، جہاں ڈی کالونائزیشن ابھی نامکمل ہے، غیرقانونی آبادیاتی انجینئرنگ کے ذریعے اپنے آبادکار نوآبادیاتی منصوبے کو تیز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی منافقت کو بے نقاب کرتا رہے گا ۔ اس کا قبضہ، اس کے دہرے معیار، کشمیری عوام کے حقوق سے انکار اور اس کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم۔ ہم کھوکھلی بیان بازی کو اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے نہیں دیں گے۔ جموں و کشمیر کے عوام انصاف، وقار اور آزادی کے حقدار ہیں۔ وہ اپنے حقِ خودارادیت کو استعمال کریں گے اور ایک دن ضرور آزاد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب کے متنازع بیانات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ  بھارت دنیا بھر میں دہشت گردوں کی سرپرستی اور کشمیر میں اپنے مظالم کو چھپا نہیں سکتا۔</strong></p>
<p>پاکستان مشن میں تعینات قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے 80 ویں سیشن کے دوران کہا کہ بھارت کی منافقت عیاں ہوچکی ہے، اب وہ پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت، مدد اور مالی معاونت کو چھپا نہیں سکتا۔</p>
<p>صائمہ سلیم نے بھارت کے مندوب پٹیل گہلوت کے بیان پر ردعمل دیا جس کا تعلق وزیراعظم شہبازشریف کی تقریر سے تھا جس میں انہوں نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر عسکری تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے بے وجہ جارحیت کا شاندار پیشہ ورانہ انداز میں مقابلہ کیا اور 7 بھارتی طیارے مار گرائے۔</p>
<p>بھارتی مندوب نے پاکستان پر دہشت گردی کی ترویج اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) جیسے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ اس گروہ نے پہلگام حملہ کیا تھا حالانکہ اس گروپ نے ملوث ہونے سے انکار کیا۔</p>
<p>بھارتی الزامات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ اپنی پراکسیز جیسے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے ذریعے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی نے پاکستان میں ہزاروں معصوم شہریوں کی زندگیاں چھین لیں اور عبادت گاہوں، درس گاہوں اور روزگار کے مراکز کو خون کی ہولی کا میدان بنا دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں طویل عرصے سے عالمی برادری تسلیم کرتی آئی ہے۔ یہ فورم یقیناً ایک جارح، قابض اور ریاستی سرپرست دہشت گرد سے کوئی لیکچر سننے کا محتاج نہیں۔</p>
<p>صائمہ سلیم نے بھارتی  مندوب کے بیان کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف پہلگام واقعے کی مذمت کی بلکہ آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہ ہوتا تو وہ ایسی تحقیقات سے انکار نہ کرتا۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک اصولی اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا  ہے۔ جنگ سے پہلے، دورانِ جنگ اور بعد میں ، تاکہ شہریوں اور شہری ڈھانچوں کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p>بھارت کی لاپروا جنگجوئی اور اشتعال انگیزی نے اس کے سامراجی عزائم کو بے نقاب کردیا۔ جب اس کی مہم جوئی شکست سے دوچار ہوئی تو بہانے تراشے گئے مگر سچ چھپ نہ سکا۔ غرور کا بلبلہ پھٹ گیا، فوجی طاقت کا افسانہ بکھر گیا اور بھارتی نقصانات کے ناقابل تردید شواہد عالمی برادری نے خود فراہم کیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنا بھارت کے مکروہ کردار کو آشکار کرتا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنا کر ، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا سہارا ہے ، بھارت نے واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتا ہے، کروڑوں افراد کو پانی کے بنیادی حق سے محروم کرتا ہے اور ایک انسانیت دوست معاہدے کی حرمت پامال کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم  نے مزید کہا کہ اقلیتوں پر ظلم بھارت میں آر ایس ایس، بی جے پی حکومت کی سرکاری پالیسی بن چکا ہے۔ مسلمانوں کو ایمان کی بنیاد پر مارا جاتا ہے، عیسائیوں پر عبادت کی وجہ سے حملے ہوتے ہیں، سکھ اپنی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنتے ہیں اور دلت اپنی ذات کی بنیاد پر ذلیل کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ دنیا گجرات کو نہیں بھولی جہاں ہزاروں مسلمانوں کو ریاستی سرپرستی میں قتل کیا گیا، دہلی کو نہیں بھولی جب ہجوم نے خون بہایا اور پولیس خاموش رہی، منی پور کو نہیں بھولی جہاں سیکڑوں مارے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ بھارت کا ریکارڈ صرف خون میں نہیں لکھا بلکہ الفاظ میں بھی درج ہے ۔</p>
<p>بھارتی مندوب  کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کی طرف سے نفرت انگیز بیانات، کھلے عام نسل کشی کی اپیلیں اور میڈیا کے ذریعے تعصب کی پرورش۔ آج کے ناقابلِ برداشت بھارت میں اسلاموفوبیا قانون میں ادارہ جاتی طور پر شامل ہے، سیاست میں معمول بن چکا ہے اور میڈیا میں فخر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اپنی سرحدوں سے باہر بھارت ہمسایوں کو ڈراتا ہے، علاقائی تعاون کو روکتا ہے، غیرقانونی قتل و غارت کو برآمد کرتا ہے اور پراکسیز کو فنڈ کرتا ہے تاکہ خطے کو غیرمستحکم کرے۔ یہی ہے  بھارت کا چہرہ۔ اندرون ملک اسلاموفوبیا، بیرون ملک جارحیت اور ہندوتوا اس کے نظریے کا مرکز۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ کبھی نہیں تھا اور نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت نے 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس سے جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ عسکری زونز میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا رہا ہے۔ ظالمانہ قوانین کا نفاذ، جعلی مقابلے، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، حوالاتی قتل، منظم جنسی تشدد اور میڈیا بلیک آؤٹ۔ اگست 2019 کے بعد بھارت نے اس خطے میں، جہاں ڈی کالونائزیشن ابھی نامکمل ہے، غیرقانونی آبادیاتی انجینئرنگ کے ذریعے اپنے آبادکار نوآبادیاتی منصوبے کو تیز کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی منافقت کو بے نقاب کرتا رہے گا ۔ اس کا قبضہ، اس کے دہرے معیار، کشمیری عوام کے حقوق سے انکار اور اس کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم۔ ہم کھوکھلی بیان بازی کو اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے نہیں دیں گے۔ جموں و کشمیر کے عوام انصاف، وقار اور آزادی کے حقدار ہیں۔ وہ اپنے حقِ خودارادیت کو استعمال کریں گے اور ایک دن ضرور آزاد ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277516</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 14:30:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/27142722ef7172a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/27142722ef7172a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
