<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی سی او آر آر کا اجلاس، سرمایہ کاری بورڈ کے ریگولیٹری اصلاحاتی پیکیج کا جائزہ لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277510/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (سی سی او آر آر) کا اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا جس میں سرمایہ کاری بورڈ  کی جانب سے تیار اور جمع کرایا گیا تیسرا سہ ماہی ریگولیٹری اصلاحاتی پیکج کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کی ریفارم ٹیم کی جانب سے تیار کردہ پیکج نے ایک مستقبل بین ایجنڈا پیش کیا جس کا مقصد پاکستان کے ریگولیٹری ڈھانچے میں شفافیت بڑھانا، طریقہ کار کو آسان بنانا اور کاروبار میں آسانی کو مضبوط کرنا ہے۔ اہم اصلاحاتی شعبوں میں ریگولیٹری گورننس اسٹریٹیجی 2025-30 کی تشکیل شامل ہے جس کا مقصد ایک جدید قانونی اور ریگولیٹری نظام قائم کرنا ہے جس میں پاکستان نیشنل لیگل رجسٹری (پی ایل آر) کے قیام کا بھی منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکج میں کم خطرے والے کاروبار کے لیے آن لائن آن بورڈنگ کے ذریعے کاروباری بینک اکاؤنٹ کھولنے کو آسان بنانے اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) کے لیے آسان بزنس بینک اکاؤنٹ متعارف کرانے کی بھی تجویز پیش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم جزو بکھری ہوئی ضلعی رجسٹریوں کو ختم کرکے ایس ای سی پی کے تحت ایک مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری کا قیام تھا، جس کے ساتھ ساتھ فرسودہ پارٹنرشپ ایکٹ 1932 کو بھی منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پیکج میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے ایک نیا رسک بیسڈ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والا فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تاکہ شفافیت اور قانونی ٹائم لائنز کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کمپنیز ایکٹ 2017 کے جائزے کو بھی پیکج کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا جس کا مقصد غیر فہرست شدہ اور فہرست شدہ دونوں اقسام کی کمپنیوں کے تقاضوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، جس کے لیے پرانی شقوں کو ختم کرنے اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق بینچ مارکنگ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ان اصلاحاتی تجاویز کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ تمام مجوزہ اصلاحات کی منظوری دے دی گئی اور ریگولیٹرز نے ان پر عملدرآمد پر اتفاق کیا، اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور محکموں کو ہدایات جاری کی گئیں تاکہ ان پر مقررہ وقت میں عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری کے قیام سے ضلعی رجسٹریوں میں دہراؤ ختم ہو جائے گا، جس کے بعد کمپنیوں کو کم مراحل اور کم وقت میں رجسٹریشن مکمل کرنے کی سہولت ملے گی اور ان کے قانونی اسٹیٹس کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے گا۔ اسی طرح جدید، رسک پر مبنی سیکیورٹی کلیئرنس سسٹم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قابلِ پیشگوئی ٹائم لائن فراہم کرے گا، جس سے غیر یقینی صورتحال کم ہوگی اور منصوبوں کے جلد آغاز کو ممکن بنایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیز ایکٹ میں کی جانے والی تازہ ترامیم سے لسٹڈ اور نان لسٹڈ دونوں کمپنیوں کے لیے پرانے تقاضے ختم ہو جائیں گے جس سے تعمیل کے مراحل آسان ہوں گے، انتظامی اخراجات کم ہوں گے اور کارپوریٹ گورننس زیادہ مؤثر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری، قاسم احمد شیخ نے اجلاس کی صدارت کی، جو پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت کی جامع کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (سی سی او آر آر) کا اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا جس میں سرمایہ کاری بورڈ  کی جانب سے تیار اور جمع کرایا گیا تیسرا سہ ماہی ریگولیٹری اصلاحاتی پیکج کا جائزہ لیا گیا۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کی ریفارم ٹیم کی جانب سے تیار کردہ پیکج نے ایک مستقبل بین ایجنڈا پیش کیا جس کا مقصد پاکستان کے ریگولیٹری ڈھانچے میں شفافیت بڑھانا، طریقہ کار کو آسان بنانا اور کاروبار میں آسانی کو مضبوط کرنا ہے۔ اہم اصلاحاتی شعبوں میں ریگولیٹری گورننس اسٹریٹیجی 2025-30 کی تشکیل شامل ہے جس کا مقصد ایک جدید قانونی اور ریگولیٹری نظام قائم کرنا ہے جس میں پاکستان نیشنل لیگل رجسٹری (پی ایل آر) کے قیام کا بھی منصوبہ ہے۔</p>
<p>پیکج میں کم خطرے والے کاروبار کے لیے آن لائن آن بورڈنگ کے ذریعے کاروباری بینک اکاؤنٹ کھولنے کو آسان بنانے اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) کے لیے آسان بزنس بینک اکاؤنٹ متعارف کرانے کی بھی تجویز پیش کی گئی۔</p>
<p>ایک اور اہم جزو بکھری ہوئی ضلعی رجسٹریوں کو ختم کرکے ایس ای سی پی کے تحت ایک مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری کا قیام تھا، جس کے ساتھ ساتھ فرسودہ پارٹنرشپ ایکٹ 1932 کو بھی منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی۔</p>
<p>مزید برآں، پیکج میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے ایک نیا رسک بیسڈ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والا فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تاکہ شفافیت اور قانونی ٹائم لائنز کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>اسی طرح کمپنیز ایکٹ 2017 کے جائزے کو بھی پیکج کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا جس کا مقصد غیر فہرست شدہ اور فہرست شدہ دونوں اقسام کی کمپنیوں کے تقاضوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، جس کے لیے پرانی شقوں کو ختم کرنے اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق بینچ مارکنگ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔</p>
<p>کمیٹی نے ان اصلاحاتی تجاویز کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ تمام مجوزہ اصلاحات کی منظوری دے دی گئی اور ریگولیٹرز نے ان پر عملدرآمد پر اتفاق کیا، اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی وزارتوں اور محکموں کو ہدایات جاری کی گئیں تاکہ ان پر مقررہ وقت میں عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری کے قیام سے ضلعی رجسٹریوں میں دہراؤ ختم ہو جائے گا، جس کے بعد کمپنیوں کو کم مراحل اور کم وقت میں رجسٹریشن مکمل کرنے کی سہولت ملے گی اور ان کے قانونی اسٹیٹس کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے گا۔ اسی طرح جدید، رسک پر مبنی سیکیورٹی کلیئرنس سسٹم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قابلِ پیشگوئی ٹائم لائن فراہم کرے گا، جس سے غیر یقینی صورتحال کم ہوگی اور منصوبوں کے جلد آغاز کو ممکن بنایا جا سکے گا۔</p>
<p>کمپنیز ایکٹ میں کی جانے والی تازہ ترامیم سے لسٹڈ اور نان لسٹڈ دونوں کمپنیوں کے لیے پرانے تقاضے ختم ہو جائیں گے جس سے تعمیل کے مراحل آسان ہوں گے، انتظامی اخراجات کم ہوں گے اور کارپوریٹ گورننس زیادہ مؤثر ہو جائے گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری، قاسم احمد شیخ نے اجلاس کی صدارت کی، جو پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت کی جامع کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277510</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 12:08:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/27120623a3d0046.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/27120623a3d0046.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
