<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گردشی قرض ایک بوجھ، 780 ارب کی کمی، 1.614 کھرب روپے رہ گیا، اویس لغاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277504/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ توانائی (پاور) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے گردشی قرضوں کے بوجھ کو 780 ارب روپے کم کردیا ہے جس سے یہ 2.394 کھرب روپے سے کم ہو کر 1.614 کھرب روپے ہوگیا ہے اور یہ کمی بغیر کسی ہیر پھیر (مینیپولیشن) کے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس کانفرنس میں اویس لغاری نے حکومت کے 1.225 کھرب روپے مالیت کے گردشی قرضوں کے مالیاتی انتظام کے منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔ اس منصوبے کے تحت یہ قرض چھ سال کے دوران 3.23 روپے فی کلو واٹ آور  کے قرض سروس سرچارج کی وصولی کے ذریعے ادا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ توانائی نے کہا کہ گردشی قرض پاکستان پر ایک بوجھ ہے۔ یہ نظام میں موجود نقصانات کی وجہ سے ہر سال بڑھتا رہتا ہے۔ لغاری نے کہا کہ ہم نے اب بینکوں کے ساتھ بہتر شرح سود پر اسے مستقل طور پر ختم کرنے کا معاہدہ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جب پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے 2018 میں اقتدار چھوڑا تھا، تو گردشی قرض 1.1 کھرب روپے تھا۔ 2022 تک، یہ بڑھ کر 2.25 کھرب روپے ہو گیا۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کم شرح سود پر بات چیت کی جس سے قرض کی سروسنگ کی لاگت پر 3.5 سے 5.5 فیصد کی بچت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردشی قرضوں کی فنانسنگ کے لیے کائبور کی شرح منفی 0.9 فیصد پر طے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 2.4 کھرب روپے کا گردشی قرض ورثے میں ملا تھا۔ ایک سال کے اندر ہم نے اسے بغیر کسی دھوکہ دہی کے 780 ارب روپے کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے وضاحت کی کہ معاشی بحالی اور شرح سود میں کمی کی وجہ سے حکومت نے 175 ارب روپے کی بچت کی۔ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مزید 363 ارب روپے کی بچت ہوئی اور 242 ارب روپے کی واپسی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کم کرنے سے حاصل ہوئی، 30 جون 2025 تک گردشی قرض کم ہوکر 1.614 کھرب روپے رہ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ بجلی چوری اور آپریشنل خامیوں پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں نے اس کمی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 6 سال میں گردشی قرض کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔ پہلے ایسے سرچارجز 8 سے 10 سال تک جاری رہتے تھے، اب 3.23 روپے کا سرچارج 5 سے 6 سال کے اندر ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے دوبارہ کہا کہ سرکلر قرضے کا خاتمہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے جو توانائی کے شعبے پر بہت زیادہ منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے بورڈ بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جس سے نظامی نقصانات کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تصدیق کی کہ سرکلر قرضے کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور جاری اقتصادی جائزے کے حصے کے طور پر معاہدے طے پائے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مشن اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور سرکلر قرضہ ہماری بات چیت کا ایک اہم حصہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوالات کے جواب میں وزیر توانائی نے کہا کہ صنعتی شعبہ اب 38 فیصد کم نرخوں پر بجلی حاصل کررہا ہے، جبکہ 18 ملین گھریلو صارفین تقریباً 50 فیصد کم ادائیگی کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی توانائی کے حوالے سے اویس لغاری نے موجودہ نیٹ میٹرنگ کی شرحیں غیر پائیدار قرار دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیٹ میٹرنگ کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو بجلی کے نرخ تقریباً 35 ملین لوگوں کے لیے کم کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر کا ڈالر میں قرضہ بھی نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیرِ توانائی (پاور) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے گردشی قرضوں کے بوجھ کو 780 ارب روپے کم کردیا ہے جس سے یہ 2.394 کھرب روپے سے کم ہو کر 1.614 کھرب روپے ہوگیا ہے اور یہ کمی بغیر کسی ہیر پھیر (مینیپولیشن) کے کی گئی ہے۔</p>
<p>ایک پریس کانفرنس میں اویس لغاری نے حکومت کے 1.225 کھرب روپے مالیت کے گردشی قرضوں کے مالیاتی انتظام کے منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔ اس منصوبے کے تحت یہ قرض چھ سال کے دوران 3.23 روپے فی کلو واٹ آور  کے قرض سروس سرچارج کی وصولی کے ذریعے ادا کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیرِ توانائی نے کہا کہ گردشی قرض پاکستان پر ایک بوجھ ہے۔ یہ نظام میں موجود نقصانات کی وجہ سے ہر سال بڑھتا رہتا ہے۔ لغاری نے کہا کہ ہم نے اب بینکوں کے ساتھ بہتر شرح سود پر اسے مستقل طور پر ختم کرنے کا معاہدہ کرلیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جب پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے 2018 میں اقتدار چھوڑا تھا، تو گردشی قرض 1.1 کھرب روپے تھا۔ 2022 تک، یہ بڑھ کر 2.25 کھرب روپے ہو گیا۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کم شرح سود پر بات چیت کی جس سے قرض کی سروسنگ کی لاگت پر 3.5 سے 5.5 فیصد کی بچت ہوئی ہے۔</p>
<p>گردشی قرضوں کی فنانسنگ کے لیے کائبور کی شرح منفی 0.9 فیصد پر طے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 2.4 کھرب روپے کا گردشی قرض ورثے میں ملا تھا۔ ایک سال کے اندر ہم نے اسے بغیر کسی دھوکہ دہی کے 780 ارب روپے کم کر دیا ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے وضاحت کی کہ معاشی بحالی اور شرح سود میں کمی کی وجہ سے حکومت نے 175 ارب روپے کی بچت کی۔ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مزید 363 ارب روپے کی بچت ہوئی اور 242 ارب روپے کی واپسی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کم کرنے سے حاصل ہوئی، 30 جون 2025 تک گردشی قرض کم ہوکر 1.614 کھرب روپے رہ گیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ بجلی چوری اور آپریشنل خامیوں پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں نے اس کمی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 6 سال میں گردشی قرض کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔ پہلے ایسے سرچارجز 8 سے 10 سال تک جاری رہتے تھے، اب 3.23 روپے کا سرچارج 5 سے 6 سال کے اندر ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>وزیر توانائی نے دوبارہ کہا کہ سرکلر قرضے کا خاتمہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے جو توانائی کے شعبے پر بہت زیادہ منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے بورڈ بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جس سے نظامی نقصانات کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے تصدیق کی کہ سرکلر قرضے کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور جاری اقتصادی جائزے کے حصے کے طور پر معاہدے طے پائے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مشن اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور سرکلر قرضہ ہماری بات چیت کا ایک اہم حصہ رہا۔</p>
<p>سوالات کے جواب میں وزیر توانائی نے کہا کہ صنعتی شعبہ اب 38 فیصد کم نرخوں پر بجلی حاصل کررہا ہے، جبکہ 18 ملین گھریلو صارفین تقریباً 50 فیصد کم ادائیگی کررہے ہیں۔</p>
<p>شمسی توانائی کے حوالے سے اویس لغاری نے موجودہ نیٹ میٹرنگ کی شرحیں غیر پائیدار قرار دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیٹ میٹرنگ کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو بجلی کے نرخ تقریباً 35 ملین لوگوں کے لیے کم کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ پاور سیکٹر کا ڈالر میں قرضہ بھی نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277504</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 10:30:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/27102419af018ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/27102419af018ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
