<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 19:46:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 19:46:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں بیلاروس ٹریکٹرز کی اسمبلنگ کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277486/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان 57 سے 80 ہارس پاور کے بیلاروس ساختہ ٹریکٹرز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کی تیاری کر رہا ہے، جسے حکام نے ملکی زرعی اور صنعتی شعبے کے لیے  اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت جمعرات کو  اعلیٰ سطح  کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی شعبے کے ٹریکٹر سرمایہ کاروں، مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور گرین کارپوریٹ انیشی ایٹوز کے نمائندگان نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے  کہا کہ حکومت بیلاروس کے اشتراک سے مکمل طور پر جدا شدہ پرزہ جات ( سی کے ڈی ) پر مبنی ٹریکٹرز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے پلانٹ کے قیام میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بیلاروس کے ساتھ ٹریکٹرز کے معاہدے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔ یہ منصوبہ زرعی شعبے کی جد ید کاری اور صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برس  میں 2,800 یونٹس کا مارکیٹ پوٹینشل موجود ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں طاقتور زرعی مشینری کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے انکشاف کیا کہ متعدد سرمایہ کار اس منصوبے میں گہری دلچسپی  ظاہر چکے ہیں۔انہوں نے دیگر نجی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا پاکستان اور بیلاروس کے درمیان یہ کاروباری شراکت داری ( بی ٹو بی ) حقیقی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی صنعتی پیداوار بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ اس سے کسانوں کو جدید زرعی مشینری تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جو مجموعی طور پر زرعی پیداوار اور معیشت میں بہتری کا سبب بنے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان 57 سے 80 ہارس پاور کے بیلاروس ساختہ ٹریکٹرز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کی تیاری کر رہا ہے، جسے حکام نے ملکی زرعی اور صنعتی شعبے کے لیے  اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت جمعرات کو  اعلیٰ سطح  کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی شعبے کے ٹریکٹر سرمایہ کاروں، مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور گرین کارپوریٹ انیشی ایٹوز کے نمائندگان نے شرکت کی۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے  کہا کہ حکومت بیلاروس کے اشتراک سے مکمل طور پر جدا شدہ پرزہ جات ( سی کے ڈی ) پر مبنی ٹریکٹرز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے پلانٹ کے قیام میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بیلاروس کے ساتھ ٹریکٹرز کے معاہدے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔ یہ منصوبہ زرعی شعبے کی جد ید کاری اور صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔</p>
<p>صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برس  میں 2,800 یونٹس کا مارکیٹ پوٹینشل موجود ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں طاقتور زرعی مشینری کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے انکشاف کیا کہ متعدد سرمایہ کار اس منصوبے میں گہری دلچسپی  ظاہر چکے ہیں۔انہوں نے دیگر نجی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا پاکستان اور بیلاروس کے درمیان یہ کاروباری شراکت داری ( بی ٹو بی ) حقیقی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی صنعتی پیداوار بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ اس سے کسانوں کو جدید زرعی مشینری تک رسائی حاصل ہو سکے گی، جو مجموعی طور پر زرعی پیداوار اور معیشت میں بہتری کا سبب بنے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277486</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 13:02:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/26125250467064d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/26125250467064d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
