<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 17:14:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 17:14:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فری لانسز سالانہ 1 ارب ڈالر سے زائد کماسکتے ہیں، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277485/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے فری لانسز سالانہ آمدنی کو ایک بلین ڈالر سے تجاوز کراسکتے ہیں جس کی وجہ تربیتی پروگرامز میں توسیع، مضبوط ادارہ جاتی حمایت، اور بڑھتا ہوا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری لانسنگ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ فری لانس کمیونٹی نئے مواقع کھولنے، عالمی کلائنٹس کو راغب کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مضبوط مقام بنانے کیلئے موزوں پوزیشن میں ہے جس میں صنعت، حکومت اور مالیاتی اداروں کی مربوط کوششیں معاون ثابت ہوںگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فری لانسرایسوسی ایشن کے بانی ابراہیم امین نے کہا ہے کہ فری لانسز پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، قیمتی زرمبادلہ لانے، پاکستانی ٹیلنٹ پر عالمی اعتماد قائم کرنے اور خود اپنے ہم عمر نوجوانوں اور خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں فری لانسز کی تعداد 2.3 ملین سے تجاوز کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے نوجوان اور ٹیکنالوجی سے آگاہ فری لانسز ڈیجیٹل ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس کی حمایت  پی اے ایف ایل اے، انووسٹا، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ  اور ون لنک کی پہل کاری کررہی ہیں جو ایک ترقی پذیر ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات ہیں جو ٹیلنٹ کو جدت سے جوڑتا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم امین نے بتایا کہ چند سال قبل تک کوئی بھی فری لانسنگ کو جانتا نہیں تھا مگر پاکستانی نوجوانوں کی محنت اور ایسوسی ایشن کی کوششوں سے پاکستان کی فری لانسنگ سے مجموعی آمدنی 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان فری لانسنگ کمیونٹی تیری سے فروغ پارہی ہے اور ان کیلئے تربیتی سہولتوں، حکومت اور متعلقہ ریگولیٹرز کی جانب سے تعاون اور ڈیجیٹلائزہشن میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا انووسٹا انڈس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر طاہر ملک نے کہا کہ وہ ملک بھر کے فری لانسز کے لیے مختلف تربیتی پروگراموں، رہنمائی اور ٹیکس سے متعلق مسائل پر معاونت کے ذریعے کاروباری سہولت کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انووسٹا نے نیشنل ایجنٹک اے آئی ہیکاتھون کا آغاز کیا ہے جس میں 6 شہروں سے 1000 شرکاء کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہمارا مشن یہ ہے کہ فری لانسنگ کو ایک مقابلہ جاتی اور پائیدار ذریعۂ آمدنی بنایا جائے جو براہِ راست آئی ٹی ایکسپورٹس اور ملک بھر میں معاشیات میں حصہ ڈالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد شاہ زیب نے ون لنک کی جانب سے اس بات پر زور دیا کہ فری لانسز سمیت معیشت کے اہم کرداروں کی سہولت کے لئے ایک قابل اعتماد ڈیجیٹل مالیاتی ماحولیاتی نظام کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد شاہزیب نے کہا کہ ہم  ون لنک  میں ایک مربوط ادائیگی کا نظام تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو فری لانسز کو تیز، شفاف اور بے رکاوٹ ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرے تاکہ پاکستان کی فری لانس معیشت کو مضبوط بنایا جاسکے اور پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی دنیا کے سرفہرست فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے اور اسٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ ہدفی پالیسیاں، تربیت، مالیاتی انضمام اور انوویشن پلیٹ فارمز کی معاونت سے اس شعبے کو آنے والے سال میں بڑی ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ میں مختلف اے آئی ماہرین اور معروف اے آئی مینٹورز نے خطاب کیا جن میں عمران علی دینا، خدیجہ شہزاد، حسن بن لیاقت، عمارہ آفتاب اور فہد شیخ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے فری لانسز سالانہ آمدنی کو ایک بلین ڈالر سے تجاوز کراسکتے ہیں جس کی وجہ تربیتی پروگرامز میں توسیع، مضبوط ادارہ جاتی حمایت، اور بڑھتا ہوا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام ہے۔</strong></p>
<p>فری لانسنگ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ فری لانس کمیونٹی نئے مواقع کھولنے، عالمی کلائنٹس کو راغب کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مضبوط مقام بنانے کیلئے موزوں پوزیشن میں ہے جس میں صنعت، حکومت اور مالیاتی اداروں کی مربوط کوششیں معاون ثابت ہوںگی۔</p>
<p>پاکستان فری لانسرایسوسی ایشن کے بانی ابراہیم امین نے کہا ہے کہ فری لانسز پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، قیمتی زرمبادلہ لانے، پاکستانی ٹیلنٹ پر عالمی اعتماد قائم کرنے اور خود اپنے ہم عمر نوجوانوں اور خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں فری لانسز کی تعداد 2.3 ملین سے تجاوز کرسکتی ہے۔</p>
<p>ملک کے نوجوان اور ٹیکنالوجی سے آگاہ فری لانسز ڈیجیٹل ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس کی حمایت  پی اے ایف ایل اے، انووسٹا، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ  اور ون لنک کی پہل کاری کررہی ہیں جو ایک ترقی پذیر ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات ہیں جو ٹیلنٹ کو جدت سے جوڑتا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرتا ہے۔</p>
<p>ابراہیم امین نے بتایا کہ چند سال قبل تک کوئی بھی فری لانسنگ کو جانتا نہیں تھا مگر پاکستانی نوجوانوں کی محنت اور ایسوسی ایشن کی کوششوں سے پاکستان کی فری لانسنگ سے مجموعی آمدنی 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان فری لانسنگ کمیونٹی تیری سے فروغ پارہی ہے اور ان کیلئے تربیتی سہولتوں، حکومت اور متعلقہ ریگولیٹرز کی جانب سے تعاون اور ڈیجیٹلائزہشن میں اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا انووسٹا انڈس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر طاہر ملک نے کہا کہ وہ ملک بھر کے فری لانسز کے لیے مختلف تربیتی پروگراموں، رہنمائی اور ٹیکس سے متعلق مسائل پر معاونت کے ذریعے کاروباری سہولت کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انووسٹا نے نیشنل ایجنٹک اے آئی ہیکاتھون کا آغاز کیا ہے جس میں 6 شہروں سے 1000 شرکاء کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہمارا مشن یہ ہے کہ فری لانسنگ کو ایک مقابلہ جاتی اور پائیدار ذریعۂ آمدنی بنایا جائے جو براہِ راست آئی ٹی ایکسپورٹس اور ملک بھر میں معاشیات میں حصہ ڈالے۔</p>
<p>محمد شاہ زیب نے ون لنک کی جانب سے اس بات پر زور دیا کہ فری لانسز سمیت معیشت کے اہم کرداروں کی سہولت کے لئے ایک قابل اعتماد ڈیجیٹل مالیاتی ماحولیاتی نظام کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔</p>
<p>محمد شاہزیب نے کہا کہ ہم  ون لنک  میں ایک مربوط ادائیگی کا نظام تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو فری لانسز کو تیز، شفاف اور بے رکاوٹ ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرے تاکہ پاکستان کی فری لانس معیشت کو مضبوط بنایا جاسکے اور پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی دنیا کے سرفہرست فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے اور اسٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ ہدفی پالیسیاں، تربیت، مالیاتی انضمام اور انوویشن پلیٹ فارمز کی معاونت سے اس شعبے کو آنے والے سال میں بڑی ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>سمٹ میں مختلف اے آئی ماہرین اور معروف اے آئی مینٹورز نے خطاب کیا جن میں عمران علی دینا، خدیجہ شہزاد، حسن بن لیاقت، عمارہ آفتاب اور فہد شیخ شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277485</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 13:37:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2612500144f5a35.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2612500144f5a35.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
