<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئلہ اور ایل این جی گیم چینجر منصوبوں کی تباہ کاریاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277474/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2015 میں، پاکستان کے حکمران قوم کے سامنے کھڑے ہوئے، کوئلے اور لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کے پاور پلانٹس کو گیم چینجرز قرار دیا۔ شور و غوغا بہت تھا، فیتے کاٹنے کی تقاریب شاندار تھیں اور تقاریر فتح مندی کے انداز میں کی گئیں۔ مگر ایک دہائی بعد، پاکستان 5200 ارب روپے (19 ارب امریکی ڈالر) کے سرکلر ڈیٹ تلے دب چکا ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار نے معذور کر دیا ہے اور ایسی تباہ کن سیلابوں کی زد میں ہے جنہیں سائنسدان براہِ راست ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل المیہ کہاں ہے؟ وہ انہی وزارتوں/سیاستدانوں میں ہے جو 2015 سے 2018 کے درمیان کوئلے اور ایل این جی کے گیت گاتے رہے! آج وہی لوگ پاکستان کی مشکلات کا ذمہ دار ماحولیاتی تبدیلی کو ٹھہرا کر ماتم کر رہے ہیں۔ ہمارے منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تبدیلی کے وزرا عالمی فورمز اور ٹی وی اسکرینوں پر نمودار ہو کر 2022 اور 2025 کے سیلابوں پر یوں نوحہ کناں ہیں گویا وہ بے بس متاثرین ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔ انہی کی پالیسیاں، انہی کے فیصلے، انہی کے وعدے اس کمزوری کی جڑ ہیں جس پر آج وہ ماتم کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے یا نہیں — یہ حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کا کھیل کس نے بدلا، اور کس قیمت پر؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئلے اور ایل این جی سے چلنے والے بجلی منصوبوں کو ایک جرات مندانہ قدم قرار دیا گیا۔ درآمدی ایل این جی ٹرمینلز کو تیزی سے تعمیر کیا گیا، اور ساہیوال، پورٹ قاسم اور حب میں کوئلے سے چلنے والے پلانٹس حب الوطنی کے جوش و خروش  کے ساتھ افتتاح کیے گئے۔ اُس وقت کے منصوبہ بندی اور توانائی کے وزرا نے تقاریر میں اعلان کیا کہ ایل این جی پاکستان کا مستقبل ہے! کوئلے کو ایک سستا اور محفوظ ایندھن بنا کر پیش کیا گیا جو ہمیشہ کے لیے بجلی کی کمی ختم کر دے گا۔ لیکن اعداد و شمار ایک سخت حقیقت بیان کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2022 کے مطابق، پاکستان کا بجلی پیدا کرنے کا ایندھن مکس خطرناک حد تک درآمدی ایندھن پر منحصر ہو چکا تھا: 67 فیصد تھرمل (ایل این جی، تیل، کوئلہ)، 29 فیصد ہائیڈرو اور 1 فیصد سے بھی کم قابلِ تجدید توانائی۔ عین اُس وقت جب دنیا صاف توانائی کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان نے سب سے مہنگے اور آلودہ ترین ایندھن پر انحصار بڑھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ تباہ کن تھا۔ توانائی کے شعبے سے ہونے والے اخراجات آسمان کو چھونے لگے۔ ایمرجنسی ڈیٹا بیس فار گلوبل ایٹموسفیرک ریسرچ (ای ڈی جی اے آر) کے مطابق، پاکستان کے بجلی پیدا کرنے سے پیدا ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج 1990 اور 2015 کے درمیان دوگنا ہو گئے — اور پھر نئی ایل این جی اور کوئلے کے منصوبے آن لائن آنے کے بعد مزید تیزی سے بڑھ گئے۔ کمزوری کم کرنے کے بجائے، پاکستان نے خود کو مہنگے، آلودہ اور درآمدی ایندھن کے جال میں جکڑ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی اور ماحولیاتی نتائج تباہ کن ثابت ہوئے۔ 2023 تک، پاکستان کا سرکلر ڈیٹ 5200 ارب روپے کی حد پار کر گیا۔ یہ نام نہاد گیم چینجر پلانٹس معیشت کی گردن میں لٹکنے والا پھندا اور ماحولیات کے لیے آفت بن گئے۔ عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے جڑی ایل این جی کی درآمدی قیمتوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کو ختم کر دیا۔ کوئلے کی درآمد نے ڈالر کو ایسے بہایا جیسے ملک کے پاس زرِمبادلہ کا ڈھیر لگا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ٹیرف بڑھا دیے، لیکن صارفین ادا نہیں کر سکے۔ بل شدہ آمدنی اور اصل وصولی کے درمیان خلا بڑھتا گیا، اور سرکلر ڈیٹ کے کینسر کو اور طاقت ملی جو آج پورے شعبے کو جکڑ رہا ہے۔ آزاد ماہرین کے اندازوں کے مطابق صرف ایل این جی منصوبوں نے ہی تقریباً 50 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا — جو دنیا کی توانائی پالیسی کی تاریخ کی سب سے بھیانک غلطیوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب قوم لہو لہان ہو رہی تھی، وہ لوگ جو خبردار کر رہے تھے، سنگین قیمت ادا کر رہے تھے۔ ہم میں سے ایک، انجینئر ارشد ایچ عباسی نے بار بار متنبہ کیا کہ ایل این جی اور کوئلہ پاکستان کی معیشت کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے پالیسی بریف، مضامین اور وزرائے اعظم کو خطوط لکھے۔ ٹی وی پر شواہد پیش کیے۔ اس کے بدلے، انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی جان لینے کی متعدد کوششیں کی گئیں — سچ بولنے کی سزا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے بلکہ عالمی برادری کے ضمیر پر بھی، جو آج ہمارے وزرا کی امداد کی اپیلیں سنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ منافقت ہے جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ 2022 میں جب تاریخی سیلابوں نے پاکستان کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا، ہمارا منصوبہ بندی کا وزیر عالمی فورمز پر جا کر ماحولیاتی نقصانات کا معاوضہ مانگ رہا تھا۔ وہی شخص، جو آج پاکستان کا چہرہ ہے ماحولیاتی سفارتکاری میں، پاکستان کے اخلاقی حق کی بات کرتا ہے۔ مگر 2015 سے 2018 تک یہی آوازیں کوئلے اور ایل این جی کی تعریفیں کر رہی تھیں۔ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے خبردار نہیں کر رہے تھے، وہ فوسل فیولز کے ذریعے نجات کا وعدہ کر رہے تھے۔ ان کے الفاظ ریکارڈ پر ہیں۔ اُس وقت کے پٹرولیم وزیر اور بعد میں پاکستان کے وزیرِاعظم نے ایل این جی کو گیم چینجر قرار دیا اور منصوبہ بندی کے وزیر نے کوئلے کو پاکستان کی مستقبل کی ترقی کے لیے ناگزیر کہا!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، سوال سیدھا ہونا چاہیے: کھیل کس نے بدلا؟ کیا یہ ماحولیاتی تبدیلی تھی، یا پاکستان کے حکمرانوں کے وہ غیر ذمہ دارانہ فیصلے جنہوں نے سائنس کو نظرانداز کیا، عالمی رجحانات کو نظرانداز کیا، اور قلیل مدتی سیاسی فائدے کے لیے قوم کا مستقبل رہن رکھ دیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;۔۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بدترین سیلابوں، خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی پالیسیاں ہماری کمزوری کو اور بڑھا چکی ہیں۔ 2022 اور 2025 کے سیلاب محض قدرتی آفات نہیں تھے۔ ماحولیاتی بگاڑ اور بگڑتی ہوئی ماحولیات ایک دہائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، تباہ شدہ واٹرشیڈز، اور کوتاہ بین منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ کوئلے اور ایل این جی میں پاکستان کو جکڑ کر، ہمارے رہنماؤں نے براہ راست ان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کیا جنہوں نے ہمارے موسم کو غیر مستحکم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;محض عالمی برادری کو قصوروار ٹھہرانا اور اپنی شراکت کو چھپانا دھوکہ دہی ہے۔ ہاں، دنیا پاکستان پر ماحولیاتی مالی اعانت (یو این ایف سی سی سی) کی مقروض ہے۔ تاہم، پاکستان بھی اپنی عوام کا سچائی اور ایمانداری کا مقروض ہے۔ ہم بیرون ملک ماحولیاتی انصاف کے لیے نہیں رو سکتے جبکہ ملک کے اندر ماحولیاتی ناانصافی کے مرتکب ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;دنیا سے ملنے والی مثالیں وہ راستہ دکھاتی ہیں جو ہم اختیار کر سکتے تھے۔ کوسٹاریکا تقریباً اپنی تمام بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرتا ہے۔ ناروے تقریباً مکمل طور پر پن بجلی پر چلتا ہے۔ نیوزی لینڈ کوئلے کو مکمل طور پر ختم کر رہا ہے (این زیڈ حکومت توانائی پالیسی)۔ پاکستان کے پاس بھی یہی مواقع موجود تھے۔ ہم دنیا کی بہترین سولر بیلٹس میں سے ایک پر بیٹھے ہیں۔ سندھ میں ہمارے پاس مضبوط ہوائی کوریڈورز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں ہمارے پاس پن بجلی کی بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت ہے۔ پھر بھی ان وسائل سے استفادہ کرنے کے بجائے، ہم نے خود کو درآمدی کوئلے اور ایل این جی کے ساتھ باندھ لیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب ریاست فوسل فیولز کو تھامے رہی، عام دیہاتی زیادہ دانائی دکھاتے رہے، چھتوں پر سولر سسٹم لگا کر خاموشی سے بجلی پیدا کرتے رہے اور یہ ثابت کرتے رہے کہ بقا کے تقاضے اشرافیہ کی حماقت پر غالب آ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دھوکہ دہی سیلابوں، قرضوں یا اخراج پر ختم نہیں ہوتی۔ ان پالیسیوں کی سب سے ظالمانہ میراث عام لوگوں کی تکالیف میں لکھی گئی ہے۔ جب درآمدی ایل این جی اور کوئلے کے پلانٹس نے پاکستان کو مہنگے ٹیرف میں جکڑ لیا، تو بجلی کے بل ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ گئے، جس نے تقریباً 45 فیصد آبادی کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ خاندان جو پہلے ہی قلیل آمدنی پر گزر بسر کرتے تھے، اپنے آپ کو ان بلوں تلے کچلا ہوا پاتے تھے جو ان کی ماہانہ آمدنی سے زیادہ تھے۔ باپ اپنے بچوں کو کھلا نہیں سکتے تھے۔ مائیں رو پڑتی تھیں جب ان کے گھروں کی روشنیاں بجھ جاتیں۔ شہر بہ شہر خبریں آئیں کہ مجبور مرد و عورتیں اپنی جان لے رہے ہیں — یہ قسمت کے نہیں بلکہ گیم چینجرز کے لبادے میں لپٹی ہوئی غیر ذمہ دار پالیسیوں کے فیصلوں کے شکار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض بدانتظامی نہیں تھی، نہ ہی ایسا نقص تھا جسے بھلا دیا جائے۔ یہ ایسا بوجھ تھا جس نے لاکھوں لوگوں کی کمر اور روح توڑ دی۔ یہ قومی سطح پر معاشی درندگی تھی۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی قوانین کی اخلاقی روح کے تحت — بشمول انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے روم اسٹیچیوٹ — ایسی کارروائیاں جو جان بوجھ کر عام آبادی کو تکلیف پہنچاتی ہیں، ان کا حساب لیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر انصاف کا کوئی مطلب ہے، تو پھر جو لوگ اقتدار میں تھے اور وہ سب جو اس تباہ کن ماسٹر پلان کے پیچھے کھڑے تھے، انہیں اپنی عوام اور انسانیت کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ ان کے فیصلوں نے قرض، آلودگی، غربت اور جانی نقصان کی ایک زنجیر شروع کی۔ اور اب بھی، وہ اندرونِ ملک جواب دہی سے بچتے ہوئے بیرونِ ملک ہمدردی کے متلاشی ہیں۔ تاہم، پاکستان کے غریب، اس کے کسان، اس کے مزدور، اس کے بچے — وہ اس انصاف کے حق دار ہیں جو تقاریر یا امدادی پیکجز سے کہیں زیادہ گہرا ہو۔ وہ اس دنیا کے حق دار ہیں جو ان فیصلوں کو ان کے اصل روپ میں پہچانے اور جواب دہی کا مطالبہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج، پاکستان بیک وقت سیلابوں اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ فصلیں برباد ہو گئی ہیں، گھر بہہ گئے ہیں اور ہماری نازک معیشت لرز اٹھی ہے۔ ہم عالمی برادری سے مدد مانگتے ہیں — اور یہ بجا ہے۔ تاہم، اگر ہم انصاف کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے ہی رہنماؤں/بیوروکریٹس کو جواب دہ ٹھہرانے سے آغاز کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب توانائی کے اس بحران کی تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ فوسل فیول منصوبے اس موڑ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جہاں پاکستان اپنی راہ کھو بیٹھا۔ جنہوں نے کوئلے اور ایل این جی کو نجات دہندہ بیچا، انہیں ان قرضوں، ان اخراجات، اس مایوسی اور ان آفات کا جواب دینا ہوگا جو ان کے پیچھے آئیں۔ کیونکہ صرف 2022 اور 2025 کے سیلابوں پر نوحہ کرنے سے کام نہیں چلے گا — ہمیں 2015 سے 2018 میں کیے گئے کھوکھلے وعدوں کو بھی یاد رکھنا ہوگا اور یہ اصرار کرنا ہوگا کہ جنہوں نے ”کھیل بدلا“ وہ آخرکار اس کے نتائج کا سامنا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>2015 میں، پاکستان کے حکمران قوم کے سامنے کھڑے ہوئے، کوئلے اور لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کے پاور پلانٹس کو گیم چینجرز قرار دیا۔ شور و غوغا بہت تھا، فیتے کاٹنے کی تقاریب شاندار تھیں اور تقاریر فتح مندی کے انداز میں کی گئیں۔ مگر ایک دہائی بعد، پاکستان 5200 ارب روپے (19 ارب امریکی ڈالر) کے سرکلر ڈیٹ تلے دب چکا ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار نے معذور کر دیا ہے اور ایسی تباہ کن سیلابوں کی زد میں ہے جنہیں سائنسدان براہِ راست ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔</strong></p>
<p>اصل المیہ کہاں ہے؟ وہ انہی وزارتوں/سیاستدانوں میں ہے جو 2015 سے 2018 کے درمیان کوئلے اور ایل این جی کے گیت گاتے رہے! آج وہی لوگ پاکستان کی مشکلات کا ذمہ دار ماحولیاتی تبدیلی کو ٹھہرا کر ماتم کر رہے ہیں۔ ہمارے منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تبدیلی کے وزرا عالمی فورمز اور ٹی وی اسکرینوں پر نمودار ہو کر 2022 اور 2025 کے سیلابوں پر یوں نوحہ کناں ہیں گویا وہ بے بس متاثرین ہوں۔</p>
<p>لیکن تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔ انہی کی پالیسیاں، انہی کے فیصلے، انہی کے وعدے اس کمزوری کی جڑ ہیں جس پر آج وہ ماتم کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے یا نہیں — یہ حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کا کھیل کس نے بدلا، اور کس قیمت پر؟</p>
<p>کوئلے اور ایل این جی سے چلنے والے بجلی منصوبوں کو ایک جرات مندانہ قدم قرار دیا گیا۔ درآمدی ایل این جی ٹرمینلز کو تیزی سے تعمیر کیا گیا، اور ساہیوال، پورٹ قاسم اور حب میں کوئلے سے چلنے والے پلانٹس حب الوطنی کے جوش و خروش  کے ساتھ افتتاح کیے گئے۔ اُس وقت کے منصوبہ بندی اور توانائی کے وزرا نے تقاریر میں اعلان کیا کہ ایل این جی پاکستان کا مستقبل ہے! کوئلے کو ایک سستا اور محفوظ ایندھن بنا کر پیش کیا گیا جو ہمیشہ کے لیے بجلی کی کمی ختم کر دے گا۔ لیکن اعداد و شمار ایک سخت حقیقت بیان کرتے ہیں۔</p>
<p>نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2022 کے مطابق، پاکستان کا بجلی پیدا کرنے کا ایندھن مکس خطرناک حد تک درآمدی ایندھن پر منحصر ہو چکا تھا: 67 فیصد تھرمل (ایل این جی، تیل، کوئلہ)، 29 فیصد ہائیڈرو اور 1 فیصد سے بھی کم قابلِ تجدید توانائی۔ عین اُس وقت جب دنیا صاف توانائی کی طرف بڑھ رہی تھی، پاکستان نے سب سے مہنگے اور آلودہ ترین ایندھن پر انحصار بڑھا دیا۔</p>
<p>نتیجہ تباہ کن تھا۔ توانائی کے شعبے سے ہونے والے اخراجات آسمان کو چھونے لگے۔ ایمرجنسی ڈیٹا بیس فار گلوبل ایٹموسفیرک ریسرچ (ای ڈی جی اے آر) کے مطابق، پاکستان کے بجلی پیدا کرنے سے پیدا ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج 1990 اور 2015 کے درمیان دوگنا ہو گئے — اور پھر نئی ایل این جی اور کوئلے کے منصوبے آن لائن آنے کے بعد مزید تیزی سے بڑھ گئے۔ کمزوری کم کرنے کے بجائے، پاکستان نے خود کو مہنگے، آلودہ اور درآمدی ایندھن کے جال میں جکڑ لیا۔</p>
<p>مالی اور ماحولیاتی نتائج تباہ کن ثابت ہوئے۔ 2023 تک، پاکستان کا سرکلر ڈیٹ 5200 ارب روپے کی حد پار کر گیا۔ یہ نام نہاد گیم چینجر پلانٹس معیشت کی گردن میں لٹکنے والا پھندا اور ماحولیات کے لیے آفت بن گئے۔ عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے جڑی ایل این جی کی درآمدی قیمتوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کو ختم کر دیا۔ کوئلے کی درآمد نے ڈالر کو ایسے بہایا جیسے ملک کے پاس زرِمبادلہ کا ڈھیر لگا ہو۔</p>
<p>حکومت نے ٹیرف بڑھا دیے، لیکن صارفین ادا نہیں کر سکے۔ بل شدہ آمدنی اور اصل وصولی کے درمیان خلا بڑھتا گیا، اور سرکلر ڈیٹ کے کینسر کو اور طاقت ملی جو آج پورے شعبے کو جکڑ رہا ہے۔ آزاد ماہرین کے اندازوں کے مطابق صرف ایل این جی منصوبوں نے ہی تقریباً 50 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا — جو دنیا کی توانائی پالیسی کی تاریخ کی سب سے بھیانک غلطیوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>جب قوم لہو لہان ہو رہی تھی، وہ لوگ جو خبردار کر رہے تھے، سنگین قیمت ادا کر رہے تھے۔ ہم میں سے ایک، انجینئر ارشد ایچ عباسی نے بار بار متنبہ کیا کہ ایل این جی اور کوئلہ پاکستان کی معیشت کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے پالیسی بریف، مضامین اور وزرائے اعظم کو خطوط لکھے۔ ٹی وی پر شواہد پیش کیے۔ اس کے بدلے، انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی جان لینے کی متعدد کوششیں کی گئیں — سچ بولنے کی سزا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے بلکہ عالمی برادری کے ضمیر پر بھی، جو آج ہمارے وزرا کی امداد کی اپیلیں سنتی ہے۔</p>
<p>یہ وہ منافقت ہے جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ 2022 میں جب تاریخی سیلابوں نے پاکستان کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا، ہمارا منصوبہ بندی کا وزیر عالمی فورمز پر جا کر ماحولیاتی نقصانات کا معاوضہ مانگ رہا تھا۔ وہی شخص، جو آج پاکستان کا چہرہ ہے ماحولیاتی سفارتکاری میں، پاکستان کے اخلاقی حق کی بات کرتا ہے۔ مگر 2015 سے 2018 تک یہی آوازیں کوئلے اور ایل این جی کی تعریفیں کر رہی تھیں۔ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے خبردار نہیں کر رہے تھے، وہ فوسل فیولز کے ذریعے نجات کا وعدہ کر رہے تھے۔ ان کے الفاظ ریکارڈ پر ہیں۔ اُس وقت کے پٹرولیم وزیر اور بعد میں پاکستان کے وزیرِاعظم نے ایل این جی کو گیم چینجر قرار دیا اور منصوبہ بندی کے وزیر نے کوئلے کو پاکستان کی مستقبل کی ترقی کے لیے ناگزیر کہا!</p>
<p>لہٰذا، سوال سیدھا ہونا چاہیے: کھیل کس نے بدلا؟ کیا یہ ماحولیاتی تبدیلی تھی، یا پاکستان کے حکمرانوں کے وہ غیر ذمہ دارانہ فیصلے جنہوں نے سائنس کو نظرانداز کیا، عالمی رجحانات کو نظرانداز کیا، اور قلیل مدتی سیاسی فائدے کے لیے قوم کا مستقبل رہن رکھ دیا؟</p>
<p>۔۔۔</p>
<p>پاکستان بدترین سیلابوں، خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی پالیسیاں ہماری کمزوری کو اور بڑھا چکی ہیں۔ 2022 اور 2025 کے سیلاب محض قدرتی آفات نہیں تھے۔ ماحولیاتی بگاڑ اور بگڑتی ہوئی ماحولیات ایک دہائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، تباہ شدہ واٹرشیڈز، اور کوتاہ بین منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ کوئلے اور ایل این جی میں پاکستان کو جکڑ کر، ہمارے رہنماؤں نے براہ راست ان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کیا جنہوں نے ہمارے موسم کو غیر مستحکم کر دیا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>محض عالمی برادری کو قصوروار ٹھہرانا اور اپنی شراکت کو چھپانا دھوکہ دہی ہے۔ ہاں، دنیا پاکستان پر ماحولیاتی مالی اعانت (یو این ایف سی سی سی) کی مقروض ہے۔ تاہم، پاکستان بھی اپنی عوام کا سچائی اور ایمانداری کا مقروض ہے۔ ہم بیرون ملک ماحولیاتی انصاف کے لیے نہیں رو سکتے جبکہ ملک کے اندر ماحولیاتی ناانصافی کے مرتکب ہوں۔</p>
</blockquote>
<p>دنیا سے ملنے والی مثالیں وہ راستہ دکھاتی ہیں جو ہم اختیار کر سکتے تھے۔ کوسٹاریکا تقریباً اپنی تمام بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرتا ہے۔ ناروے تقریباً مکمل طور پر پن بجلی پر چلتا ہے۔ نیوزی لینڈ کوئلے کو مکمل طور پر ختم کر رہا ہے (این زیڈ حکومت توانائی پالیسی)۔ پاکستان کے پاس بھی یہی مواقع موجود تھے۔ ہم دنیا کی بہترین سولر بیلٹس میں سے ایک پر بیٹھے ہیں۔ سندھ میں ہمارے پاس مضبوط ہوائی کوریڈورز ہیں۔</p>
<p>خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں ہمارے پاس پن بجلی کی بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت ہے۔ پھر بھی ان وسائل سے استفادہ کرنے کے بجائے، ہم نے خود کو درآمدی کوئلے اور ایل این جی کے ساتھ باندھ لیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب ریاست فوسل فیولز کو تھامے رہی، عام دیہاتی زیادہ دانائی دکھاتے رہے، چھتوں پر سولر سسٹم لگا کر خاموشی سے بجلی پیدا کرتے رہے اور یہ ثابت کرتے رہے کہ بقا کے تقاضے اشرافیہ کی حماقت پر غالب آ سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ دھوکہ دہی سیلابوں، قرضوں یا اخراج پر ختم نہیں ہوتی۔ ان پالیسیوں کی سب سے ظالمانہ میراث عام لوگوں کی تکالیف میں لکھی گئی ہے۔ جب درآمدی ایل این جی اور کوئلے کے پلانٹس نے پاکستان کو مہنگے ٹیرف میں جکڑ لیا، تو بجلی کے بل ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ گئے، جس نے تقریباً 45 فیصد آبادی کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا۔</p>
<p>وہ خاندان جو پہلے ہی قلیل آمدنی پر گزر بسر کرتے تھے، اپنے آپ کو ان بلوں تلے کچلا ہوا پاتے تھے جو ان کی ماہانہ آمدنی سے زیادہ تھے۔ باپ اپنے بچوں کو کھلا نہیں سکتے تھے۔ مائیں رو پڑتی تھیں جب ان کے گھروں کی روشنیاں بجھ جاتیں۔ شہر بہ شہر خبریں آئیں کہ مجبور مرد و عورتیں اپنی جان لے رہے ہیں — یہ قسمت کے نہیں بلکہ گیم چینجرز کے لبادے میں لپٹی ہوئی غیر ذمہ دار پالیسیوں کے فیصلوں کے شکار تھے۔</p>
<p>یہ محض بدانتظامی نہیں تھی، نہ ہی ایسا نقص تھا جسے بھلا دیا جائے۔ یہ ایسا بوجھ تھا جس نے لاکھوں لوگوں کی کمر اور روح توڑ دی۔ یہ قومی سطح پر معاشی درندگی تھی۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی قوانین کی اخلاقی روح کے تحت — بشمول انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے روم اسٹیچیوٹ — ایسی کارروائیاں جو جان بوجھ کر عام آبادی کو تکلیف پہنچاتی ہیں، ان کا حساب لیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اگر انصاف کا کوئی مطلب ہے، تو پھر جو لوگ اقتدار میں تھے اور وہ سب جو اس تباہ کن ماسٹر پلان کے پیچھے کھڑے تھے، انہیں اپنی عوام اور انسانیت کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ ان کے فیصلوں نے قرض، آلودگی، غربت اور جانی نقصان کی ایک زنجیر شروع کی۔ اور اب بھی، وہ اندرونِ ملک جواب دہی سے بچتے ہوئے بیرونِ ملک ہمدردی کے متلاشی ہیں۔ تاہم، پاکستان کے غریب، اس کے کسان، اس کے مزدور، اس کے بچے — وہ اس انصاف کے حق دار ہیں جو تقاریر یا امدادی پیکجز سے کہیں زیادہ گہرا ہو۔ وہ اس دنیا کے حق دار ہیں جو ان فیصلوں کو ان کے اصل روپ میں پہچانے اور جواب دہی کا مطالبہ کرے۔</p>
<p>آج، پاکستان بیک وقت سیلابوں اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ فصلیں برباد ہو گئی ہیں، گھر بہہ گئے ہیں اور ہماری نازک معیشت لرز اٹھی ہے۔ ہم عالمی برادری سے مدد مانگتے ہیں — اور یہ بجا ہے۔ تاہم، اگر ہم انصاف کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے ہی رہنماؤں/بیوروکریٹس کو جواب دہ ٹھہرانے سے آغاز کرنا ہوگا۔</p>
<p>جب توانائی کے اس بحران کی تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ فوسل فیول منصوبے اس موڑ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جہاں پاکستان اپنی راہ کھو بیٹھا۔ جنہوں نے کوئلے اور ایل این جی کو نجات دہندہ بیچا، انہیں ان قرضوں، ان اخراجات، اس مایوسی اور ان آفات کا جواب دینا ہوگا جو ان کے پیچھے آئیں۔ کیونکہ صرف 2022 اور 2025 کے سیلابوں پر نوحہ کرنے سے کام نہیں چلے گا — ہمیں 2015 سے 2018 میں کیے گئے کھوکھلے وعدوں کو بھی یاد رکھنا ہوگا اور یہ اصرار کرنا ہوگا کہ جنہوں نے ”کھیل بدلا“ وہ آخرکار اس کے نتائج کا سامنا کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277474</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 11:28:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹراکرام الحقانجینئر ارشد ایچ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/261125407e8389b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/261125407e8389b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
