<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے سعودی عرب کیلئے وفد روانہ کردیا، اقتصادی روڈ میپ کو دو ماہ میں حتمی شکل دی جائیگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277457/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو جمعرات کو بتایا کہ حکومت نے سعودی عرب ایک خصوصی وفد روانہ کیا ہے تاکہ تجویز کردہ اقتصادی روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جسے دو ماہ کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، اس سرکاری وفد میں وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ  رانا تنویر حسین، اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے افسران شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک فریم ورک تیار کریں گے تاکہ بغیر تیاری مختلف امور میں چھلانگ لگانے کے بجائے باقاعدہ پیش رفت کی جا سکے۔ وزارتِ تجارت سعودی عرب کے ساتھ ایک برآمداتی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف، جنہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے، نے تیاری کے اجلاسوں میں امریکہ سے ورچوئل طور پر شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کے ٹیمپلیٹ پر اختلافات موجود ہیں کیونکہ ریاض اور دوحہ دونوں نئے  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کے ٹیمپلیٹ کے خواہاں ہیں، جس سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کی طرف سے  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کے ٹیمپلیٹ میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں تاکہ خصوصی مراعات اور اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کو شامل کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے 2021 میں ماڈل  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کا ٹیمپلیٹ منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح کی قیادت میں 32 بڑی نجی کمپنیوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح وفد 9 سے 11 اکتوبر  تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ چھ سعودی کمپنیوں نے توانائی کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر دستخط ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیاری کے اجلاسوں میں وہ امور بھی زیر بحث آئے، جن میں  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ   شامل ہے اور جو سرمایہ کاری کے تحفظ کے مسائل کی وجہ سے طویل عرصے سے التوا میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، سعودی عرب نے حکومت کو کے الیکٹرک میں میسرزالجمیع کے مسائل پر سخت تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے متعلقہ حکام کو بتایا کہ جاری تاخیر سے سعودی حکام شدید مایوس ہیں۔ وزیراعظم شریف نے اکتوبر 2024 میں ایک اجلاس میں ایک ماہ کے اندر حل کی یقین دہانی کروائی تھی، جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کے پیش نظر، پاکستان کے سفیر ریاض میں سعودی معاون وزیرِ سرمایہ کاری ابراہیم المبارک سے 24 جون 2025 کو ملاقات کی۔ یہ ملاقات 16 جون 2025 کو ہونے والی ورچوئل گفتگو کے بعد ہوئی، جس کا مقصد الجمیع کی شکایات کو حل کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ابراہیم المبارک نے زور دیا کہ مزید تاخیر پاکستان کی سرمایہ کاری کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور مستقبل کے سعودی وعدوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ حل نہ ہونے والے مسائل پاکستان کے سرمایہ کاری کے خطرے کے پروفائل کو بڑھا سکتے ہیں، انشورنس کے اخراجات کو بلند کر سکتے ہیں، اور متوقع منافع کو کم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ الجمیع سعودی سرمایہ کاری کمیونٹی میں اہم اثر رکھتا ہے، اور کوئی منفی تجربہ دوسروں کو پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ اکتوبر 2024 میں سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان 34 بی ٹو بی میمورینڈمز آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے تھے، جن میں سے کئی اب جاری تنازع کی وجہ سے دوبارہ غور کے مراحل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو جمعرات کو بتایا کہ حکومت نے سعودی عرب ایک خصوصی وفد روانہ کیا ہے تاکہ تجویز کردہ اقتصادی روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جسے دو ماہ کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق، اس سرکاری وفد میں وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ  رانا تنویر حسین، اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے افسران شامل ہیں۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک فریم ورک تیار کریں گے تاکہ بغیر تیاری مختلف امور میں چھلانگ لگانے کے بجائے باقاعدہ پیش رفت کی جا سکے۔ وزارتِ تجارت سعودی عرب کے ساتھ ایک برآمداتی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف، جنہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے، نے تیاری کے اجلاسوں میں امریکہ سے ورچوئل طور پر شرکت کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کے ٹیمپلیٹ پر اختلافات موجود ہیں کیونکہ ریاض اور دوحہ دونوں نئے  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کے ٹیمپلیٹ کے خواہاں ہیں، جس سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار ہو سکے گی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کی طرف سے  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کے ٹیمپلیٹ میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں تاکہ خصوصی مراعات اور اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کو شامل کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے 2021 میں ماڈل  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ  کا ٹیمپلیٹ منظور کیا تھا۔</p>
<p>سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح کی قیادت میں 32 بڑی نجی کمپنیوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح وفد 9 سے 11 اکتوبر  تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ چھ سعودی کمپنیوں نے توانائی کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر دستخط ہوں گے۔</p>
<p>تیاری کے اجلاسوں میں وہ امور بھی زیر بحث آئے، جن میں  دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدہ   شامل ہے اور جو سرمایہ کاری کے تحفظ کے مسائل کی وجہ سے طویل عرصے سے التوا میں تھے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، سعودی عرب نے حکومت کو کے الیکٹرک میں میسرزالجمیع کے مسائل پر سخت تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے متعلقہ حکام کو بتایا کہ جاری تاخیر سے سعودی حکام شدید مایوس ہیں۔ وزیراعظم شریف نے اکتوبر 2024 میں ایک اجلاس میں ایک ماہ کے اندر حل کی یقین دہانی کروائی تھی، جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔</p>
<p>ان خدشات کے پیش نظر، پاکستان کے سفیر ریاض میں سعودی معاون وزیرِ سرمایہ کاری ابراہیم المبارک سے 24 جون 2025 کو ملاقات کی۔ یہ ملاقات 16 جون 2025 کو ہونے والی ورچوئل گفتگو کے بعد ہوئی، جس کا مقصد الجمیع کی شکایات کو حل کرنا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ابراہیم المبارک نے زور دیا کہ مزید تاخیر پاکستان کی سرمایہ کاری کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور مستقبل کے سعودی وعدوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ حل نہ ہونے والے مسائل پاکستان کے سرمایہ کاری کے خطرے کے پروفائل کو بڑھا سکتے ہیں، انشورنس کے اخراجات کو بلند کر سکتے ہیں، اور متوقع منافع کو کم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ الجمیع سعودی سرمایہ کاری کمیونٹی میں اہم اثر رکھتا ہے، اور کوئی منفی تجربہ دوسروں کو پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ اکتوبر 2024 میں سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان 34 بی ٹو بی میمورینڈمز آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے تھے، جن میں سے کئی اب جاری تنازع کی وجہ سے دوبارہ غور کے مراحل میں ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277457</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 08:59:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/26085741b0d2119.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/26085741b0d2119.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
