<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فری لانسرز سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277453/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فری لانسرز سالانہ آمدن کو ایک ارب ڈالر سے تجاوز کروا سکتے ہیں بشرطیکہ تربیتی پروگرامز میں توسیع، ادارہ جاتی معاونت کا تسلسل اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی نمو برقرار رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی شام کراچی میں منعقدہ ”اے آئی بیونڈ بارڈر سمٹ 2025“، جو 26ویں آئی ٹی سی این ایشیا کے تحت Innovista کے اشتراک سے منعقد ہوا، میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں فری لانسرز کی برادری نئی راہیں کھولنے، عالمی کلائنٹس کو متوجہ کرنے اور ڈیجیٹل معیشت میں کلیدی ستون کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جسے صنعت، حکومت اور مالیاتی اداروں کی مربوط کاوشوں سے مزید تقویت مل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن ( پی اے ایف ایل اے) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ ”فری لانسرز پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے اہم کردار ہیں، جو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ لا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی ٹیلنٹ پر اعتماد قائم کر رہے ہیں اور خود سمیت نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد 23 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ملک کے نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف فری لانسرز ڈیجیٹل ترقی کے محرک بن رہے ہیں،“ انہوں نے کہا، ”اور پی اے ایف ایل اے، Innovista، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ ( پی ایس ای بی) اور 1Link جیسے اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات اس ارتقائی ایکو سسٹم کو پروان چڑھانے میں مدد دے رہے ہیں، جو ٹیلنٹ کو جدت سے جوڑتا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر طاہر ملک، پروجیکٹ ڈائریکٹر Innovista Indus، نے کہا کہ وہ ملک بھر میں فری لانسرز کے لیے کاروباری مواقع کی سہولت کاری کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس میں مختلف تربیتی پروگرامز، رہنمائی، اور ٹیکس سے متعلق مسائل پر معاونت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ”Innovista نے نیشنل ایجنٹک اے آئی ہیکاتھون کا آغاز کیا ہے، جس میں چھ شہروں سے ایک ہزار شرکاء کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد فری لانسنگ کو ایک مسابقتی اور پائیدار ذریعہ آمدن بنانا ہے، جو براہ راست آئی ٹی برآمدات اور قومی روزگار میں حصہ ڈال سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد شاہزیب، جو 1Link سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا کہ معیشت کے اہم کرداروں، بشمول فری لانسرز، کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل مالیاتی نظام ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ہم 1Link میں ایک ایسا ادائیگی نظام تشکیل دے رہے ہیں جو فری لانسرز کو تیز، شفاف اور باآسانی مالی لین دین کی سہولت فراہم کرے تاکہ پاکستان کی فری لانس معیشت کو مضبوط کیا جا سکے اور پیشہ ور افراد عالمی سطح پر موثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی دنیا کے نمایاں فری لانسنگ بازاروں میں شامل ہے اور متعلقہ فریقین کا ماننا ہے کہ ہدفی پالیسیوں، تربیت، مالیاتی انضمام، اور جدید پلیٹ فارمز کی معاونت سے آنے والے برسوں میں اس شعبے کو نمایاں طور پر وسعت دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“ اے آئی بیونڈ بارڈر سمٹ 2025“ سے مصنوعی ذہانت کے مختلف معروف ماہرین اور رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جن میں عمران علی ڈینا، خدیجہ شہزاد، حسن بن لیاقت، عمارہ آفتاب اور فہد شیخ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فری لانسرز سالانہ آمدن کو ایک ارب ڈالر سے تجاوز کروا سکتے ہیں بشرطیکہ تربیتی پروگرامز میں توسیع، ادارہ جاتی معاونت کا تسلسل اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی نمو برقرار رہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کی شام کراچی میں منعقدہ ”اے آئی بیونڈ بارڈر سمٹ 2025“، جو 26ویں آئی ٹی سی این ایشیا کے تحت Innovista کے اشتراک سے منعقد ہوا، میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں فری لانسرز کی برادری نئی راہیں کھولنے، عالمی کلائنٹس کو متوجہ کرنے اور ڈیجیٹل معیشت میں کلیدی ستون کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جسے صنعت، حکومت اور مالیاتی اداروں کی مربوط کاوشوں سے مزید تقویت مل رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن ( پی اے ایف ایل اے) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ ”فری لانسرز پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے اہم کردار ہیں، جو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ لا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی ٹیلنٹ پر اعتماد قائم کر رہے ہیں اور خود سمیت نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد 23 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>”ملک کے نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف فری لانسرز ڈیجیٹل ترقی کے محرک بن رہے ہیں،“ انہوں نے کہا، ”اور پی اے ایف ایل اے، Innovista، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ ( پی ایس ای بی) اور 1Link جیسے اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات اس ارتقائی ایکو سسٹم کو پروان چڑھانے میں مدد دے رہے ہیں، جو ٹیلنٹ کو جدت سے جوڑتا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھاتا ہے۔“</p>
<p>ادھر طاہر ملک، پروجیکٹ ڈائریکٹر Innovista Indus، نے کہا کہ وہ ملک بھر میں فری لانسرز کے لیے کاروباری مواقع کی سہولت کاری کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس میں مختلف تربیتی پروگرامز، رہنمائی، اور ٹیکس سے متعلق مسائل پر معاونت شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ”Innovista نے نیشنل ایجنٹک اے آئی ہیکاتھون کا آغاز کیا ہے، جس میں چھ شہروں سے ایک ہزار شرکاء کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد فری لانسنگ کو ایک مسابقتی اور پائیدار ذریعہ آمدن بنانا ہے، جو براہ راست آئی ٹی برآمدات اور قومی روزگار میں حصہ ڈال سکے۔“</p>
<p>محمد شاہزیب، جو 1Link سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا کہ معیشت کے اہم کرداروں، بشمول فری لانسرز، کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل مالیاتی نظام ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ہم 1Link میں ایک ایسا ادائیگی نظام تشکیل دے رہے ہیں جو فری لانسرز کو تیز، شفاف اور باآسانی مالی لین دین کی سہولت فراہم کرے تاکہ پاکستان کی فری لانس معیشت کو مضبوط کیا جا سکے اور پیشہ ور افراد عالمی سطح پر موثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔“</p>
<p>پاکستان پہلے ہی دنیا کے نمایاں فری لانسنگ بازاروں میں شامل ہے اور متعلقہ فریقین کا ماننا ہے کہ ہدفی پالیسیوں، تربیت، مالیاتی انضمام، اور جدید پلیٹ فارمز کی معاونت سے آنے والے برسوں میں اس شعبے کو نمایاں طور پر وسعت دی جا سکتی ہے۔</p>
<p>“ اے آئی بیونڈ بارڈر سمٹ 2025“ سے مصنوعی ذہانت کے مختلف معروف ماہرین اور رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جن میں عمران علی ڈینا، خدیجہ شہزاد، حسن بن لیاقت، عمارہ آفتاب اور فہد شیخ شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277453</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 21:56:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2521324544f5a35.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2521324544f5a35.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
