<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 23:50:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 23:50:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہانگ کانگ، سری لنکا، چلی اور بنگلہ دیش آر سی ای پی تجارتی بلاک میں شمولیت کے خواہشمند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277435/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہانگ کانگ، سری لنکا، چلی اور بنگلہ دیش نے چین کی حمایت یافتہ ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے۔ یہ پیش رفت جمعرات کو جنوب مشرقی ایشیائی حکام کی جانب سے سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت آر سی ای پی میں چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور آسیان کے تمام 10 رکن ممالک شامل ہیں۔ آسیان وزرائے تجارت و معیشت کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں آر سی ای پی حکام نے کہا کہ نئے اراکین کی شمولیت پر انہیں زیادہ اعتراضات نہیں اور وہ ان چار معیشتوں کو بلاک میں شامل کرنے کے لیے کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت دیاہ رورو ایسٹی ودیا پتری نے صحافیوں کو بتایا کہ
ہم یقیناً ان ممالک کی حمایت کرتے ہیں جو آر سی ای پی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کے وزیر تجارت تنگو زافرل عزیز نے کہا کہ نئے ارکان سے متعلق فیصلہ اکتوبر میں بلاک کے سربراہ اجلاس میں کیا جائے گا، جو پانچ برس بعد منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی اجلاس میں 2020 میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کو اپ گریڈ کرنے پر بھی غور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آر سی ای پی بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کے خلاف ایک ڈھال ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے تجارتی معاہدے بعض دیگر علاقائی سمجھوتوں کے مقابلے میں کمزور سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہانگ کانگ، سری لنکا، چلی اور بنگلہ دیش نے چین کی حمایت یافتہ ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے۔ یہ پیش رفت جمعرات کو جنوب مشرقی ایشیائی حکام کی جانب سے سامنے آئی۔</strong></p>
<p>اس وقت آر سی ای پی میں چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور آسیان کے تمام 10 رکن ممالک شامل ہیں۔ آسیان وزرائے تجارت و معیشت کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں میں آر سی ای پی حکام نے کہا کہ نئے اراکین کی شمولیت پر انہیں زیادہ اعتراضات نہیں اور وہ ان چار معیشتوں کو بلاک میں شامل کرنے کے لیے کام کریں گے۔</p>
<p>انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت دیاہ رورو ایسٹی ودیا پتری نے صحافیوں کو بتایا کہ
ہم یقیناً ان ممالک کی حمایت کرتے ہیں جو آر سی ای پی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ملائیشیا کے وزیر تجارت تنگو زافرل عزیز نے کہا کہ نئے ارکان سے متعلق فیصلہ اکتوبر میں بلاک کے سربراہ اجلاس میں کیا جائے گا، جو پانچ برس بعد منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی اجلاس میں 2020 میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کو اپ گریڈ کرنے پر بھی غور ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آر سی ای پی بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کے خلاف ایک ڈھال ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے تجارتی معاہدے بعض دیگر علاقائی سمجھوتوں کے مقابلے میں کمزور سمجھے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277435</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 12:51:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/25125025447f5d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/25125025447f5d1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
