<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:23:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:23:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیزل کمیٹی آن بینکنگ سپروژن فیز ٹو اصلاحات، اسٹیٹ بینک نے نظرثانی شدہ ہدایات جاری کر دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277414/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے بیزل کیپیٹل ایڈیکویسی فریم ورک کے تحت کریڈٹ رسک کے لیے اسٹینڈرڈائزڈ اپروچ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جو کہ بیزل تھری  اصلاحات کے فیز ٹو کے نفاذ کی جانب پہلا قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی گائیڈلائنز کو 30 ستمبر 2025 سے 30 جون 2026 تک پیرالل رن کی بنیاد پر لاگو کیا جائے گا تاکہ بینک، ڈیجیٹل بینک اور ڈویلپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز (ڈی ایف آئیز) ان کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر سکیں اور مکمل نفاذ سے پہلے اپنی آرا بھی فراہم کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، عالمی مالیاتی بحران نے مالیاتی نظام میں سنگین کمزوریاں بے نقاب کیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ریگولیٹری اصلاحات کی گئیں۔ اس کے جواب میں بیزل کمیٹی آن بینکنگ سپروژن (بی سی بی ایس) نے بیزل تھری فریم ورک متعارف کرایا تاکہ بحران سے پہلے کے نظام کی خامیوں کو دور کیا جا سکے اور بینکاری شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی سی بی ایس اصلاحات کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فیز ون میں کیپیٹل ایڈیکویسی بڑھانے، لیکویڈیٹی اور لیوریج ریشوز متعارف کرانے، اور ڈی-ایس آئی بی فریم ورک قائم کرنے پر توجہ دی گئی۔ فیز ٹو میں رسک ویٹنگ ریجیم، لیوریج ریشو اور دیگر بہتریوں پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک پہلے ہی فیز ون اصلاحات نافذ کر چکا ہے۔ اب فیز ٹو کی جانب ہموار اور بروقت منتقلی کے لیے، اور بی سی بی ایس کی رہنمائی کے مطابق، اسٹیٹ بینک نے کریڈٹ رسک کے لیے اسٹینڈرڈائزڈ اپروچ پر نظرثانی شدہ ہدایات تیار کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایات انڈسٹری میں چار سہ ماہیوں کے لیے پیرالل رن کی بنیاد پر لاگو ہوں گی، تاکہ عملی چیلنجز کا جائزہ لیا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر صنعت کی رائے کو حتمی نفاذ میں شامل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران، بینک، ڈیجیٹل بینک اور ڈی ایف آئیز کو موجودہ اور نظرثانی شدہ دونوں ہدایات کے تحت کیپیٹل ایڈیکویسی ریٹرنز جمع کرانا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ فریم ورک کے تحت سہ ماہی ریٹرنز سہ ماہی ختم ہونے کے 14 ورکنگ ڈیز میں اور سالانہ آڈٹ شدہ ریٹرنز مالی سال ختم ہونے کے تین ماہ کے اندر جمع کرانے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظرثانی شدہ نظام کے تحت سہ ماہی ریٹرنز سہ ماہی ختم ہونے کے بعد اگلے مہینے کے آخر تک جبکہ سالانہ آڈٹ شدہ ریٹرنز 30 اپریل 2026 تک جمع کرانے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران ریگولیٹری کمپلائنس کا جائزہ موجودہ ہدایات کے مطابق ہی لیا جائے گا اور نظرثانی شدہ فریم ورک کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ دیگر تمام ہدایات حسب سابق نافذ العمل رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے بیزل کیپیٹل ایڈیکویسی فریم ورک کے تحت کریڈٹ رسک کے لیے اسٹینڈرڈائزڈ اپروچ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جو کہ بیزل تھری  اصلاحات کے فیز ٹو کے نفاذ کی جانب پہلا قدم ہے۔</strong></p>
<p>نئی گائیڈلائنز کو 30 ستمبر 2025 سے 30 جون 2026 تک پیرالل رن کی بنیاد پر لاگو کیا جائے گا تاکہ بینک، ڈیجیٹل بینک اور ڈویلپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز (ڈی ایف آئیز) ان کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر سکیں اور مکمل نفاذ سے پہلے اپنی آرا بھی فراہم کر سکیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، عالمی مالیاتی بحران نے مالیاتی نظام میں سنگین کمزوریاں بے نقاب کیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ریگولیٹری اصلاحات کی گئیں۔ اس کے جواب میں بیزل کمیٹی آن بینکنگ سپروژن (بی سی بی ایس) نے بیزل تھری فریم ورک متعارف کرایا تاکہ بحران سے پہلے کے نظام کی خامیوں کو دور کیا جا سکے اور بینکاری شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>بی سی بی ایس اصلاحات کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فیز ون میں کیپیٹل ایڈیکویسی بڑھانے، لیکویڈیٹی اور لیوریج ریشوز متعارف کرانے، اور ڈی-ایس آئی بی فریم ورک قائم کرنے پر توجہ دی گئی۔ فیز ٹو میں رسک ویٹنگ ریجیم، لیوریج ریشو اور دیگر بہتریوں پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک پہلے ہی فیز ون اصلاحات نافذ کر چکا ہے۔ اب فیز ٹو کی جانب ہموار اور بروقت منتقلی کے لیے، اور بی سی بی ایس کی رہنمائی کے مطابق، اسٹیٹ بینک نے کریڈٹ رسک کے لیے اسٹینڈرڈائزڈ اپروچ پر نظرثانی شدہ ہدایات تیار کی ہیں۔</p>
<p>یہ ہدایات انڈسٹری میں چار سہ ماہیوں کے لیے پیرالل رن کی بنیاد پر لاگو ہوں گی، تاکہ عملی چیلنجز کا جائزہ لیا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر صنعت کی رائے کو حتمی نفاذ میں شامل کیا جا سکے۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران، بینک، ڈیجیٹل بینک اور ڈی ایف آئیز کو موجودہ اور نظرثانی شدہ دونوں ہدایات کے تحت کیپیٹل ایڈیکویسی ریٹرنز جمع کرانا ہوں گے۔</p>
<p>موجودہ فریم ورک کے تحت سہ ماہی ریٹرنز سہ ماہی ختم ہونے کے 14 ورکنگ ڈیز میں اور سالانہ آڈٹ شدہ ریٹرنز مالی سال ختم ہونے کے تین ماہ کے اندر جمع کرانے ضروری ہیں۔</p>
<p>نظرثانی شدہ نظام کے تحت سہ ماہی ریٹرنز سہ ماہی ختم ہونے کے بعد اگلے مہینے کے آخر تک جبکہ سالانہ آڈٹ شدہ ریٹرنز 30 اپریل 2026 تک جمع کرانے ہوں گے۔</p>
<p>اس دوران ریگولیٹری کمپلائنس کا جائزہ موجودہ ہدایات کے مطابق ہی لیا جائے گا اور نظرثانی شدہ فریم ورک کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ دیگر تمام ہدایات حسب سابق نافذ العمل رہیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277414</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 09:40:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/25093854099726d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/25093854099726d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
