<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:51:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:51:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>راست پر پرچون فروش کو کیو آر ادائیگیوں کیلئے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277413/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد راست  پر مرچنٹس کی آن بورڈنگ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو تیز کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، یہ مراعات یکم ستمبر 2025 سے 30 جون 2026 تک کی جانے والی پرچون فروش کو ادائیگی (پرسن تو مرچنٹ – پی ٹو ایم) ٹرانزیکشنز پر لاگو ہوں گی، جس کے تحت فنانشل انسٹی ٹیوشنز کو ہر ٹرانزیکشن کی مالیت کا 0.5 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 100 روپے (جو کم ہو) کے حساب سے سہولت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے کیش لیس اکانومی اقدام کے تحت منظور کی گئی یہ سبسڈی، اسٹیٹ بینک ریگولیٹڈ اینٹیٹیز (آر ایز) کو دی جائے گی تاکہ وہ مرچنٹس کو راست پر آن بورڈ کر سکیں اور انہیں راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سبسڈی مرچنٹ کے فنانشل انسٹی ٹیوشن اور کسٹمر کے فنانشل انسٹی ٹیوشن کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی، جبکہ ریگولیٹڈ اینٹیٹیز اس کے علاوہ مرچنٹ آن بورڈنگ اور سروسنگ کے لیے ہر ٹرانزیکشن پر زیادہ سے زیادہ 0.25 فیصد چارجز لے سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈی کی ادائیگی ہر سہ ماہی کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اگر مجموعی سبسڈی 3.5 ارب روپے کی سالانہ حد سے تجاوز کر جائے، تو شرح کم کر دی جائے گی تاکہ تمام اداروں کو بجٹ کے اندر مساوی حصہ مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے تمام ریگولیٹڈ اینٹیٹیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل ریکارڈ رکھیں اور مقررہ ضابطے کی تعمیل کو یقینی بنائیں تاکہ بعد میں آڈٹ اور ویریفکیشن کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسکیم تمام بینکس، مائیکرو فنانس بینکس (ایم ایف بیز)، ای-منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز)، پیمنٹ سسٹم آپریٹرز/پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (پی ایس اوز/پی ایس پیز)، مرچنٹ سروس پرووائیڈرز (ایم ایس پیز) اور کسٹمر سروس پرووائیڈرز (سی ایس پیز) پر لاگو ہو گی، بشرطیکہ ٹرانزیکشن راست سسٹم میں کامیابی کے ساتھ ریکارڈ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے اپنی اندرونی آڈٹ کی تصدیق شدہ سہ ماہی سبسڈی کلیمز راست پیمنٹس پاکستان (آر پی پی) کو پانچ ورکنگ ڈیز کے اندر جمع کرائیں گے۔ اگر کلیمز میں کوئی فرق سامنے آئے تو اسے ری کنسائل کرکے دوبارہ جمع کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک کی انسپکشن ٹیمیں اپنے باقاعدہ معائنے کے دوران سبسڈی کلیمز کو نمونے کی بنیاد پر بھی چیک کر سکیں گی۔ ستمبر 2025 کے لیے سبسڈی کلیمز دسمبر 2025 کی سہ ماہی کلیمز کے ساتھ ادا کیے جائیں گے۔ ادائیگی اس وقت کی جائے گی جب وزارتِ خزانہ فنڈز ریلیز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد راست  پر مرچنٹس کی آن بورڈنگ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو تیز کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، یہ مراعات یکم ستمبر 2025 سے 30 جون 2026 تک کی جانے والی پرچون فروش کو ادائیگی (پرسن تو مرچنٹ – پی ٹو ایم) ٹرانزیکشنز پر لاگو ہوں گی، جس کے تحت فنانشل انسٹی ٹیوشنز کو ہر ٹرانزیکشن کی مالیت کا 0.5 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 100 روپے (جو کم ہو) کے حساب سے سہولت دی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعظم کے کیش لیس اکانومی اقدام کے تحت منظور کی گئی یہ سبسڈی، اسٹیٹ بینک ریگولیٹڈ اینٹیٹیز (آر ایز) کو دی جائے گی تاکہ وہ مرچنٹس کو راست پر آن بورڈ کر سکیں اور انہیں راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔</p>
<p>یہ سبسڈی مرچنٹ کے فنانشل انسٹی ٹیوشن اور کسٹمر کے فنانشل انسٹی ٹیوشن کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی، جبکہ ریگولیٹڈ اینٹیٹیز اس کے علاوہ مرچنٹ آن بورڈنگ اور سروسنگ کے لیے ہر ٹرانزیکشن پر زیادہ سے زیادہ 0.25 فیصد چارجز لے سکیں گی۔</p>
<p>سبسڈی کی ادائیگی ہر سہ ماہی کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اگر مجموعی سبسڈی 3.5 ارب روپے کی سالانہ حد سے تجاوز کر جائے، تو شرح کم کر دی جائے گی تاکہ تمام اداروں کو بجٹ کے اندر مساوی حصہ مل سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے تمام ریگولیٹڈ اینٹیٹیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل ریکارڈ رکھیں اور مقررہ ضابطے کی تعمیل کو یقینی بنائیں تاکہ بعد میں آڈٹ اور ویریفکیشن کی جا سکے۔</p>
<p>یہ اسکیم تمام بینکس، مائیکرو فنانس بینکس (ایم ایف بیز)، ای-منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز)، پیمنٹ سسٹم آپریٹرز/پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (پی ایس اوز/پی ایس پیز)، مرچنٹ سروس پرووائیڈرز (ایم ایس پیز) اور کسٹمر سروس پرووائیڈرز (سی ایس پیز) پر لاگو ہو گی، بشرطیکہ ٹرانزیکشن راست سسٹم میں کامیابی کے ساتھ ریکارڈ ہو۔</p>
<p>ادارے اپنی اندرونی آڈٹ کی تصدیق شدہ سہ ماہی سبسڈی کلیمز راست پیمنٹس پاکستان (آر پی پی) کو پانچ ورکنگ ڈیز کے اندر جمع کرائیں گے۔ اگر کلیمز میں کوئی فرق سامنے آئے تو اسے ری کنسائل کرکے دوبارہ جمع کرایا جائے گا۔</p>
<p>مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک کی انسپکشن ٹیمیں اپنے باقاعدہ معائنے کے دوران سبسڈی کلیمز کو نمونے کی بنیاد پر بھی چیک کر سکیں گی۔ ستمبر 2025 کے لیے سبسڈی کلیمز دسمبر 2025 کی سہ ماہی کلیمز کے ساتھ ادا کیے جائیں گے۔ ادائیگی اس وقت کی جائے گی جب وزارتِ خزانہ فنڈز ریلیز کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277413</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 09:32:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/25092958c1a9baa.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/25092958c1a9baa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
