<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے فارما صنعت کیلئے 30 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف مقرر کردیا، ویکسین کی مقامی تیاری پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277398/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال کے مطابق حکومت نے آئندہ 5 سال کے لیے  ادویات کی برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات  مصطفیٰ کمال نے بدھ کو اسلام آباد میں منعقدہ 8ویں پاکستان فارما سمٹ اور فارما ایکسپورٹ سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025 کے موقع پر کہی۔ ایونٹ جمعرات کو ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے صنعتی نمائندوں کے ساتھ ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔ حکومت کا مقصد درآمد شدہ ویکسینز، بشمول ہمسایہ ملک بھارت سے آنے والی ویکسینز پر بھاری انحصار کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 ارب ڈالر کے ہدف کو حد سے زیادہ  سمجھنے  کے حوالے سے مصطفیٰ کمال  نے کہا کہ ہمیں یہ چیلنج قبول کرنا ہے۔ آئیے اپنے آرام دہ ماحول سے باہر نکلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، ہم 24 گھنٹے موجود ہیں  یہاں تک کہ اتوار کو بھی۔ کوئی چھٹی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال  نے کہا کہ ہم نے پچھلے مالی سال فارماسیوٹیکل برآمدات میں پہلے ہی ایک ارب کا ہدف حاصل کر لیا ہے، یہ برآمدی رقم ادویات کے ساتھ میڈیکل ڈیوائسز اور سپلیمنٹس کی برآمدات کو شامل کرکے شمار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے  مزید کہا کہ میں آئندہ چند سالوں کے لیے صنعت کی جانب سے مقرر کردہ  2 ارب سے 3 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو قبول نہیں کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دنیا اپنی برآمدات میں اضافہ کررہی ہے، اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کررہی ہے۔ پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) صنعت کو مقامی طور پر مزید ترقی اور وسعت دینے اور برآمدات کو کئی گنا بڑھانے میں مدد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ مختلف طریقے تلاش کریں۔ برآمدی ہدف حاصل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم نہیں بلکہ ایک سک کیئر سسٹم موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم لوگوں کے بیمار ہونے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کا علاج کریں۔ ہمیں اسے ایک حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم میں تبدیل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان درآمد شدہ ویکسینز پر بھاری انحصار کررہا ہے، تقریباً 90 سے 95 فیصد اور زیادہ تر بھارت سے آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی اور ملک سے ویکسین خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، سب مل کر آگے آئیں اور انہیں پاکستان میں تیار کرنا شروع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین  توقیر الحق نے کہا کہ پاکستان کی فارما انڈسٹری کی تنہا برآمدی شرح نمو مالی سال 25 میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے سال میں ادویات کی برآمدات کا حجم 475 ملین ڈالر ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ کے صدر ڈاکٹر قیصر وحید نے سمٹ کو بتایا کہ رواں سال کے اوائل میں ہونے والے پاک-بھارت تنازع کے بعد ویکسین اور اے پی آئی (ادویات کا خام مال) کی درآمدات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی حکام نے کہا کہ پاکستان کو ادویات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے افریقی، وسطی ایشیائی اور مشرقی بعید کے ممالک پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں امریکہ اور یورپ جیسے انتہائی منظم خطوں کو برآمد کرنے کے لیے عالمی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال کے مطابق حکومت نے آئندہ 5 سال کے لیے  ادویات کی برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات  مصطفیٰ کمال نے بدھ کو اسلام آباد میں منعقدہ 8ویں پاکستان فارما سمٹ اور فارما ایکسپورٹ سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025 کے موقع پر کہی۔ ایونٹ جمعرات کو ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے صنعتی نمائندوں کے ساتھ ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔ حکومت کا مقصد درآمد شدہ ویکسینز، بشمول ہمسایہ ملک بھارت سے آنے والی ویکسینز پر بھاری انحصار کم کرنا ہے۔</p>
<p>30 ارب ڈالر کے ہدف کو حد سے زیادہ  سمجھنے  کے حوالے سے مصطفیٰ کمال  نے کہا کہ ہمیں یہ چیلنج قبول کرنا ہے۔ آئیے اپنے آرام دہ ماحول سے باہر نکلیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، ہم 24 گھنٹے موجود ہیں  یہاں تک کہ اتوار کو بھی۔ کوئی چھٹی نہیں ہے۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال  نے کہا کہ ہم نے پچھلے مالی سال فارماسیوٹیکل برآمدات میں پہلے ہی ایک ارب کا ہدف حاصل کر لیا ہے، یہ برآمدی رقم ادویات کے ساتھ میڈیکل ڈیوائسز اور سپلیمنٹس کی برآمدات کو شامل کرکے شمار کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے  مزید کہا کہ میں آئندہ چند سالوں کے لیے صنعت کی جانب سے مقرر کردہ  2 ارب سے 3 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو قبول نہیں کروں گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دنیا اپنی برآمدات میں اضافہ کررہی ہے، اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کررہی ہے۔ پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) صنعت کو مقامی طور پر مزید ترقی اور وسعت دینے اور برآمدات کو کئی گنا بڑھانے میں مدد کریں گے۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ مختلف طریقے تلاش کریں۔ برآمدی ہدف حاصل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم نہیں بلکہ ایک سک کیئر سسٹم موجود ہے۔</p>
<p>ہم لوگوں کے بیمار ہونے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کا علاج کریں۔ ہمیں اسے ایک حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم میں تبدیل کرنا ہوگا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان درآمد شدہ ویکسینز پر بھاری انحصار کررہا ہے، تقریباً 90 سے 95 فیصد اور زیادہ تر بھارت سے آتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی اور ملک سے ویکسین خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، سب مل کر آگے آئیں اور انہیں پاکستان میں تیار کرنا شروع کریں۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین  توقیر الحق نے کہا کہ پاکستان کی فارما انڈسٹری کی تنہا برآمدی شرح نمو مالی سال 25 میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے سال میں ادویات کی برآمدات کا حجم 475 ملین ڈالر ہو گیا۔</p>
<p>سمٹ کے صدر ڈاکٹر قیصر وحید نے سمٹ کو بتایا کہ رواں سال کے اوائل میں ہونے والے پاک-بھارت تنازع کے بعد ویکسین اور اے پی آئی (ادویات کا خام مال) کی درآمدات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہیں۔</p>
<p>صنعتی حکام نے کہا کہ پاکستان کو ادویات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے افریقی، وسطی ایشیائی اور مشرقی بعید کے ممالک پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں امریکہ اور یورپ جیسے انتہائی منظم خطوں کو برآمد کرنے کے لیے عالمی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277398</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Sep 2025 16:12:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/24210738e914528.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/24210738e914528.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
