<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوبل انعام چاہیے تو ٹرمپ کو غزہ جنگ ختم کرنی ہوگی، میکرون</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی نوبل امن انعام جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں غزہ کی جنگ ختم کرنی ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک سے فرانسیسی چینل بی ایف ایم ٹی و کو انٹرویو دیتے ہوئے میکرون کا کہنا تھا کہ صرف ٹرمپ ہی وہ شخصیت ہیں جو اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ جنگ رک سکے۔ ان کے مطابق یہ جنگ روکنے کے لیے ایک ہی شخص کچھ کر سکتا ہے، اور وہ ہے امریکہ کا صدر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرون نے واضح کیا کہ یورپی ممالک کے برعکس امریکہ اس جنگ میں براہِ راست کردار رکھتا ہے کیونکہ ہم وہ ہتھیار یا سازوسامان فراہم نہیں کرتے جن کے ذریعے غزہ میں جنگ جاری ہے۔ یہ صرف امریکہ ہے جو یہ سب کچھ مہیا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مغربی اتحادیوں کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کرنا دراصل حماس کو انعام دینے کے مترادف ہو گا۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا  کہ ہمیں غزہ کی جنگ فوراً ختم کرنی ہوگی اور فوری طور پر امن مذاکرات شروع کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرون نے ٹرمپ کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک ایسے امریکی صدر کو دیکھا جو سرگرم ہے، جو صبح ہی سے اعلان کر رہا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے، وہ سات تنازعات حل کر چکا ہے اور نوبل انعام کا خواہش مند ہے۔ لیکن یہ انعام تبھی ممکن ہے جب وہ اس جنگ کو ختم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق کمبوڈیا، اسرائیل اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے، کیونکہ ان کے بقول انہوں نے مختلف امن معاہدے اور جنگ بندی کرائی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں جو پہلے ہی ان کے چار امریکی پیش روؤں کو دیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امن کے لیے اتنا کچھ کیا ہے جتنا اقوام متحدہ میں موجود تمام رہنماؤں نے مل کر بھی نہیں کیا۔ صرف یہی صدر ہیں جنہوں نے دنیا کو مستحکم کرنے کے لیے امریکہ کو دوبارہ طاقتور بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی نوبل امن انعام جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں غزہ کی جنگ ختم کرنی ہوگی۔</strong></p>
<p>نیویارک سے فرانسیسی چینل بی ایف ایم ٹی و کو انٹرویو دیتے ہوئے میکرون کا کہنا تھا کہ صرف ٹرمپ ہی وہ شخصیت ہیں جو اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ جنگ رک سکے۔ ان کے مطابق یہ جنگ روکنے کے لیے ایک ہی شخص کچھ کر سکتا ہے، اور وہ ہے امریکہ کا صدر۔</p>
<p>میکرون نے واضح کیا کہ یورپی ممالک کے برعکس امریکہ اس جنگ میں براہِ راست کردار رکھتا ہے کیونکہ ہم وہ ہتھیار یا سازوسامان فراہم نہیں کرتے جن کے ذریعے غزہ میں جنگ جاری ہے۔ یہ صرف امریکہ ہے جو یہ سب کچھ مہیا کرتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مغربی اتحادیوں کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کرنا دراصل حماس کو انعام دینے کے مترادف ہو گا۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا  کہ ہمیں غزہ کی جنگ فوراً ختم کرنی ہوگی اور فوری طور پر امن مذاکرات شروع کرنے ہوں گے۔</p>
<p>میکرون نے ٹرمپ کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک ایسے امریکی صدر کو دیکھا جو سرگرم ہے، جو صبح ہی سے اعلان کر رہا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے، وہ سات تنازعات حل کر چکا ہے اور نوبل انعام کا خواہش مند ہے۔ لیکن یہ انعام تبھی ممکن ہے جب وہ اس جنگ کو ختم کرے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق کمبوڈیا، اسرائیل اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے، کیونکہ ان کے بقول انہوں نے مختلف امن معاہدے اور جنگ بندی کرائی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں جو پہلے ہی ان کے چار امریکی پیش روؤں کو دیا جا چکا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امن کے لیے اتنا کچھ کیا ہے جتنا اقوام متحدہ میں موجود تمام رہنماؤں نے مل کر بھی نہیں کیا۔ صرف یہی صدر ہیں جنہوں نے دنیا کو مستحکم کرنے کے لیے امریکہ کو دوبارہ طاقتور بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277377</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Sep 2025 11:05:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/24110336f582898.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/24110336f582898.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
