<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:40:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:40:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ذخائر میں کمی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277365/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو مسلسل دوسرے روز اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی اور عراقی کردستان سے برآمدات کی معطلی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 27 سینٹ اضافے کے ساتھ 67.90 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 28 سینٹ بڑھ کر 63.69 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ دونوں بینچ مارک منگل کو بھی ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب عراق کی وفاقی حکومت، کرد علاقائی انتظامیہ اور تیل کمپنیوں کے درمیان معاہدے کے باوجود 2.3 لاکھ بیرل یومیہ برآمدات معطل رہیں۔ معاہدے کے تحت ترکیہ کے لیے پائپ لائن کے ذریعے برآمدات بحال ہونا تھیں، لیکن اہم پروڈیوسرز نے واجبات کی ضمانت کا مطالبہ کیا جس سے عمل درآمد تاخیر کا شکار ہو گیا۔ یہ برآمدات مارچ 2023 سے بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) کی رپورٹ کے مطابق 19 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر میں 38 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پٹرول کے ذخائر میں 10 لاکھ بیرل کمی اور ڈیزل و دیگر ڈسٹلٹ مصنوعات میں 5 لاکھ بیرل اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار بدھ کو جاری ہوں گے، جن میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں اضافہ جبکہ ڈسٹلٹ مصنوعات میں کمی ریکارڈ کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سپلائی مزید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کمپنی شیورون کو وینزویلا میں شراکت داروں کے ساتھ پیدا ہونے والے 2.4 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل میں سے صرف نصف برآمد کرنے کی اجازت ملے گی۔ جولائی میں ملنے والی نئی اجازت نامے کے تحت وینزویلا کا زیادہ سلفر والا خام تیل امریکہ کو محدود پیمانے پر ہی برآمد کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو مسلسل دوسرے روز اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی اور عراقی کردستان سے برآمدات کی معطلی قرار دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 27 سینٹ اضافے کے ساتھ 67.90 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 28 سینٹ بڑھ کر 63.69 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ دونوں بینچ مارک منگل کو بھی ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب عراق کی وفاقی حکومت، کرد علاقائی انتظامیہ اور تیل کمپنیوں کے درمیان معاہدے کے باوجود 2.3 لاکھ بیرل یومیہ برآمدات معطل رہیں۔ معاہدے کے تحت ترکیہ کے لیے پائپ لائن کے ذریعے برآمدات بحال ہونا تھیں، لیکن اہم پروڈیوسرز نے واجبات کی ضمانت کا مطالبہ کیا جس سے عمل درآمد تاخیر کا شکار ہو گیا۔ یہ برآمدات مارچ 2023 سے بند ہیں۔</p>
<p>ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) کی رپورٹ کے مطابق 19 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر میں 38 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پٹرول کے ذخائر میں 10 لاکھ بیرل کمی اور ڈیزل و دیگر ڈسٹلٹ مصنوعات میں 5 لاکھ بیرل اضافہ ہوا۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار بدھ کو جاری ہوں گے، جن میں توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں اضافہ جبکہ ڈسٹلٹ مصنوعات میں کمی ریکارڈ کی جائے گی۔</p>
<p>عالمی سپلائی مزید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کمپنی شیورون کو وینزویلا میں شراکت داروں کے ساتھ پیدا ہونے والے 2.4 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل میں سے صرف نصف برآمد کرنے کی اجازت ملے گی۔ جولائی میں ملنے والی نئی اجازت نامے کے تحت وینزویلا کا زیادہ سلفر والا خام تیل امریکہ کو محدود پیمانے پر ہی برآمد کیا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277365</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Sep 2025 09:08:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/24090729c963e4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/24090729c963e4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
