<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گندم کی امدادی قیمت بحال کرانے کیلئے حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277363/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے گندم کے لیے سالانہ کم از کم امدادی قیمت  کی  بحالی کے معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس پالیسی کے خاتمے نے پیداوار پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ وہ یہ بات منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں بتا رہے تھے، جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی سید حسین تارڑ نے کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ خوراک سے متعلقہ معاملات میں لچک کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈی پر حکومتی کنٹرول میں کمی سے گندم کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی گندم پالیسی کا اعلان کرے گی تاکہ کسانوں اور عوام دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ رانا تنویر نے خبردار کیا کہ اگر رواں برس گندم کی پیداوار میں مزید 6 فیصد کمی ہوئی تو ملک کو ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کی گندم درآمد کرنا پڑے گی جس سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے اجلاس میں چینی کی درآمد و برآمد کے مسائل پر بھی غور ہوا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں 7.6 ملین ٹن چینی پیدا ہوئی تھی جبکہ ملکی ضرورت 6.3 ملین ٹن تھی، یوں 1.3 ملین ٹن اضافی پیداوار سامنے آئی۔ تاہم اس سال تخمینہ 7.2 ملین ٹن لگایا گیا تھا مگر اصل پیداوار صرف 5.8 ملین ٹن رہی، جس کے باعث قلت پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بغیر کسی سبسڈی کے چینی برآمد کی گئی جس سے 450 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، لیکن اس کمی کے باعث اب پاکستان کو 150 ملین ڈالر کی چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ مافیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ چینی کی قیمت 210 روپے فی کلو سے کم کی گئی ہے، تاہم کمیٹی رکن رانا حیات نے سوال اٹھایا کہ گندم کی طرح چینی کی قیمتوں کو کیوں قابو میں نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس موقع پر چینی درآمد کرنے سے آئندہ کرشنگ سیزن میں کسان متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تمباکو کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ اس شعبے کو بھی مناسب تحفظ فراہم کیا جائے اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے فنڈز تحقیق و ترقی کے ساتھ ساتھ کسانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں۔ کمیٹی نے وزارت خوراک سے کہا کہ حالیہ سیلاب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔ اس موقع پر وزارت نے نیشنل ایگریکلچر بایوٹیکنالوجی پالیسی 2025 پر بریفنگ دی اور کہا کہ جدید بیجوں کی تیاری اور جینیاتی طور پر ترمیم شدہ فصلوں کی تحقیق مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے گندم کے لیے سالانہ کم از کم امدادی قیمت  کی  بحالی کے معاملے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس پالیسی کے خاتمے نے پیداوار پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ وہ یہ بات منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں بتا رہے تھے، جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی سید حسین تارڑ نے کی۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ خوراک سے متعلقہ معاملات میں لچک کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈی پر حکومتی کنٹرول میں کمی سے گندم کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی گندم پالیسی کا اعلان کرے گی تاکہ کسانوں اور عوام دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ رانا تنویر نے خبردار کیا کہ اگر رواں برس گندم کی پیداوار میں مزید 6 فیصد کمی ہوئی تو ملک کو ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کی گندم درآمد کرنا پڑے گی جس سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔</p>
<p>کمیٹی کے اجلاس میں چینی کی درآمد و برآمد کے مسائل پر بھی غور ہوا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں 7.6 ملین ٹن چینی پیدا ہوئی تھی جبکہ ملکی ضرورت 6.3 ملین ٹن تھی، یوں 1.3 ملین ٹن اضافی پیداوار سامنے آئی۔ تاہم اس سال تخمینہ 7.2 ملین ٹن لگایا گیا تھا مگر اصل پیداوار صرف 5.8 ملین ٹن رہی، جس کے باعث قلت پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بغیر کسی سبسڈی کے چینی برآمد کی گئی جس سے 450 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، لیکن اس کمی کے باعث اب پاکستان کو 150 ملین ڈالر کی چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ مافیا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ چینی کی قیمت 210 روپے فی کلو سے کم کی گئی ہے، تاہم کمیٹی رکن رانا حیات نے سوال اٹھایا کہ گندم کی طرح چینی کی قیمتوں کو کیوں قابو میں نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس موقع پر چینی درآمد کرنے سے آئندہ کرشنگ سیزن میں کسان متاثر ہوں گے۔</p>
<p>اجلاس میں تمباکو کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ اس شعبے کو بھی مناسب تحفظ فراہم کیا جائے اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے فنڈز تحقیق و ترقی کے ساتھ ساتھ کسانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں۔ کمیٹی نے وزارت خوراک سے کہا کہ حالیہ سیلاب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔ اس موقع پر وزارت نے نیشنل ایگریکلچر بایوٹیکنالوجی پالیسی 2025 پر بریفنگ دی اور کہا کہ جدید بیجوں کی تیاری اور جینیاتی طور پر ترمیم شدہ فصلوں کی تحقیق مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277363</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Sep 2025 08:50:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فضل شیر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/240849399d7d3b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/240849399d7d3b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
