<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں جارحانہ خطاب: روس پر تنقید، اسرائیل کی حمایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277360/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے جارحانہ خطاب میں روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے معاملے پر سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں، اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی عالمی کوششوں کو مسترد کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ اقوام متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ  کا پہلا خطاب تھا، جس میں انہوں نے درجنوں عالمی رہنماؤں سے خطاب کیا، جن میں سے کئی اس بات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکہ روایتی اتحادیوں سے دور ہو کر ایک تنہا ”امریکہ سب سے پہلے“ پالیسی اپنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کے لیے ٹرمپ کی تنبیہ میں ایک نیا رخ بھی تھا: انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کے اتحادی بھی وہی سخت اقدامات روس کے خلاف کریں، جو وہ خود تجویز کر رہے ہیں، تاکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یورپ کی دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کئی بار روس پر پابندیوں کے امکان کی وارننگ دی ہے، لیکن اب تک عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ حال ہی میں انہوں نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ روسی تیل کی تمام خریداری روک دی جائے تبھی وہ کارروائی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”اگر روس جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ نہیں تو امریکہ سخت ترین اور موثر پابندیاں عائد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، جو خونریزی کو بہت جلد روک دیں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ان اقدامات کے مؤثر ہونے کے لیے انہوں نے کہا، ”یورپی ممالک، آپ سب کو یہاں، ہمارے ساتھ مل کر بالکل وہی پابندیاں اپنانی ہوں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسی روز یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کا منصوبہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو اقوام متحدہ میں درجنوں عالمی رہنماء فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کے لیے جمع ہوئے، جو ایک تاریخی سفارتی باب ہے لیکن اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی امریکہ کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا موقف اپنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس سے حماس دہشت گردوں کو ان کے جرائم کا انعام ملے گا،“ اور فلسطینی گروپ کے ذریعے اٹھائے گئے یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ دہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ غزہ کے لیے پاکستان اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے جنگ بندی ہو، تاکہ باقی ماندہ یرغمالی زندہ یا مردہ واپس آ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہمیں غزہ کی جنگ فوری طور پر روکنی ہوگی اور فوری امن مذاکرات شروع کرنے ہوں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہاجرین کے خلاف پالیسی پر تنقید&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے دلیل دی کہ دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی ان کی سخت مہاجر پالیسی اپنانی چاہیے، اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود مہاجرین کی گرفتاری اور ملک بدر کرنے کی اپنی کوششوں کا کھل کر دفاع کیا، جسے دنیا کے کئی ملکوں نے شکوک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”یہ آپ کے ملک کو تباہ کر رہا ہے، اور آپ کو عالمی سطح پر اس کا کچھ کرنا ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبل امن انعام جیتنے کی کوشش میں امن پسند کے طور پر خود کو پیش کرنے والے ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر تنقید کی کہ اس نے دنیا بھر میں تنازعات ختم کرنے کی ان کی کوششوں کی حمایت نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اقوام متحدہ کے انفراسٹرکچر پر ذاتی شکایت بھی کی، بتایا کہ وہ اور پہلی خاتون میلیانیا ٹرمپ اقوام متحدہ کی اسکیلیٹر پر کچھ دیر پھنس گئے اور ان کا ٹیلی پرومپٹر شروع میں کام نہیں کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ”یہی دو چیزیں مجھے اقوام متحدہ سے ملیں، ایک خراب اسکیلیٹر اور ایک خراب ٹیلی پرومپٹر،“ اور بتایا کہ میلیانیا ٹرمپ اس وقت تقریباً گر گئیں جب اسکیلیٹر اچانک رکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے امریکی خارجہ پالیسی میں زبردست تبدیلیاں کی ہیں، غیر ملکی امداد میں کٹوتی کی ہے، دوست اور دشمن دونوں پر محصولات عائد کیے ہیں، اور روس کے ساتھ متحرک مگر پیچیدہ تعلقات استوار کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران انہوں نے دنیا کے کچھ پیچیدہ ترین تنازعات کو حل کرنے کی کوشش بھی کی ہے، اگرچہ اب تک محدود کامیابی کے ساتھ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اس ہفتے اقوام متحدہ میں تقریبا 150 سربراہان مملکت یا حکومتوں میں شامل ہیں جو اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وہ دوسرے دور اقتدار کے آٹھ ماہ بعد بولے، جس میں سخت امدادی کٹوتیوں نے انسانی ہمدردی کی فکرمندی کو جنم دیا اور اقوام متحدہ کے مستقبل پر سوالات اٹھائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے منصوبہ بندی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس ہفتے پناہ گزینوں کے حق کو سختی سے محدود کرنے کا مطالبہ کرے گی، اور جنگ عظیم دوم کے بعد سے قائم انسانی حقوق کے تحفظ کے فریم ورک کو بدلنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی اس مزید محدود پالیسی کے تحت پناہ گزینوں کو لازمی ہوگا کہ وہ پہلے ملک میں پناہ کی درخواست کریں جہاں وہ داخل ہوں، نہ کہ اپنی پسند کے کسی دوسرے ملک میں، ایک محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور ٹرمپ کے درمیان رسمی ملاقات متوقع ہے، جو ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی ملاقات ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے جارحانہ خطاب میں روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے معاملے پر سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں، اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی عالمی کوششوں کو مسترد کر دیا۔</strong></p>
<p>جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ اقوام متحدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ  کا پہلا خطاب تھا، جس میں انہوں نے درجنوں عالمی رہنماؤں سے خطاب کیا، جن میں سے کئی اس بات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکہ روایتی اتحادیوں سے دور ہو کر ایک تنہا ”امریکہ سب سے پہلے“ پالیسی اپنا رہا ہے۔</p>
<p>روس کے لیے ٹرمپ کی تنبیہ میں ایک نیا رخ بھی تھا: انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کے اتحادی بھی وہی سخت اقدامات روس کے خلاف کریں، جو وہ خود تجویز کر رہے ہیں، تاکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یورپ کی دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔</p>
<p>امریکی صدر نے کئی بار روس پر پابندیوں کے امکان کی وارننگ دی ہے، لیکن اب تک عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ حال ہی میں انہوں نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ روسی تیل کی تمام خریداری روک دی جائے تبھی وہ کارروائی کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”اگر روس جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ نہیں تو امریکہ سخت ترین اور موثر پابندیاں عائد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، جو خونریزی کو بہت جلد روک دیں گی۔“</p>
<p>لیکن ان اقدامات کے مؤثر ہونے کے لیے انہوں نے کہا، ”یورپی ممالک، آپ سب کو یہاں، ہمارے ساتھ مل کر بالکل وہی پابندیاں اپنانی ہوں گی۔“</p>
<p>انہوں نے اسی روز یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کا منصوبہ بنایا۔</p>
<p>پیر کو اقوام متحدہ میں درجنوں عالمی رہنماء فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کے لیے جمع ہوئے، جو ایک تاریخی سفارتی باب ہے لیکن اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی امریکہ کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا موقف اپنایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس سے حماس دہشت گردوں کو ان کے جرائم کا انعام ملے گا،“ اور فلسطینی گروپ کے ذریعے اٹھائے گئے یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ دہرایا۔</p>
<p>ٹرمپ غزہ کے لیے پاکستان اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے جنگ بندی ہو، تاکہ باقی ماندہ یرغمالی زندہ یا مردہ واپس آ سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہمیں غزہ کی جنگ فوری طور پر روکنی ہوگی اور فوری امن مذاکرات شروع کرنے ہوں گے۔“</p>
<p><strong>مہاجرین کے خلاف پالیسی پر تنقید</strong></p>
<p>ٹرمپ نے دلیل دی کہ دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی ان کی سخت مہاجر پالیسی اپنانی چاہیے، اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود مہاجرین کی گرفتاری اور ملک بدر کرنے کی اپنی کوششوں کا کھل کر دفاع کیا، جسے دنیا کے کئی ملکوں نے شکوک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”یہ آپ کے ملک کو تباہ کر رہا ہے، اور آپ کو عالمی سطح پر اس کا کچھ کرنا ہوگا۔“</p>
<p>نوبل امن انعام جیتنے کی کوشش میں امن پسند کے طور پر خود کو پیش کرنے والے ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر تنقید کی کہ اس نے دنیا بھر میں تنازعات ختم کرنے کی ان کی کوششوں کی حمایت نہیں کی۔</p>
<p>انہوں نے اقوام متحدہ کے انفراسٹرکچر پر ذاتی شکایت بھی کی، بتایا کہ وہ اور پہلی خاتون میلیانیا ٹرمپ اقوام متحدہ کی اسکیلیٹر پر کچھ دیر پھنس گئے اور ان کا ٹیلی پرومپٹر شروع میں کام نہیں کر رہا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ”یہی دو چیزیں مجھے اقوام متحدہ سے ملیں، ایک خراب اسکیلیٹر اور ایک خراب ٹیلی پرومپٹر،“ اور بتایا کہ میلیانیا ٹرمپ اس وقت تقریباً گر گئیں جب اسکیلیٹر اچانک رکا۔</p>
<p>دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے امریکی خارجہ پالیسی میں زبردست تبدیلیاں کی ہیں، غیر ملکی امداد میں کٹوتی کی ہے، دوست اور دشمن دونوں پر محصولات عائد کیے ہیں، اور روس کے ساتھ متحرک مگر پیچیدہ تعلقات استوار کیے ہیں۔</p>
<p>اسی دوران انہوں نے دنیا کے کچھ پیچیدہ ترین تنازعات کو حل کرنے کی کوشش بھی کی ہے، اگرچہ اب تک محدود کامیابی کے ساتھ۔</p>
<p>ٹرمپ اس ہفتے اقوام متحدہ میں تقریبا 150 سربراہان مملکت یا حکومتوں میں شامل ہیں جو اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وہ دوسرے دور اقتدار کے آٹھ ماہ بعد بولے، جس میں سخت امدادی کٹوتیوں نے انسانی ہمدردی کی فکرمندی کو جنم دیا اور اقوام متحدہ کے مستقبل پر سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے منصوبہ بندی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس ہفتے پناہ گزینوں کے حق کو سختی سے محدود کرنے کا مطالبہ کرے گی، اور جنگ عظیم دوم کے بعد سے قائم انسانی حقوق کے تحفظ کے فریم ورک کو بدلنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>ٹرمپ کی اس مزید محدود پالیسی کے تحت پناہ گزینوں کو لازمی ہوگا کہ وہ پہلے ملک میں پناہ کی درخواست کریں جہاں وہ داخل ہوں، نہ کہ اپنی پسند کے کسی دوسرے ملک میں، ایک محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور ٹرمپ کے درمیان رسمی ملاقات متوقع ہے، جو ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی ملاقات ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277360</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 21:40:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2321435823772f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2321435823772f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
