<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ممتاز ماہرینِ معیشت کا عوامی مفاد کیلئے کام کرنے والے میڈیا کے زوال پر انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277338/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی اور یورپی جامعات کے ممتاز ماہرینِ معیشت، جن میں نوبیل انعام یافتہ جوزف اسٹیگلٹز اور ڈیرن ایسیماگلو بھی شامل ہیں، نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ عوامی مفاد میں کام کرنے والا میڈیا زوال کا شکار ہے اور حکومتوں کو معیاری صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 ماہرینِ معیشت کے اس گروپ نے اپنا مشترکہ بیان فورم آن انفارمیشن اینڈ ڈیموکریسی کے ذریعے جاری کیا، جو رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور فرانسیسی حکومت کے اشتراک سے قائم کیا گیا ایک پلیٹ فارم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ میڈیا صنعت کو نوکریوں کے خاتمے، آمدنی میں کمی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے خطرے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں دنیا بھر میں اے آئی کو ترقی کا ذریعہ سمجھ رہی ہیں لیکن آزاد اور قابلِ تصدیق معلومات جیسے بنیادی اثاثے پر سرمایہ کاری نہیں کر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، روایتی اشتہارات پر مبنی ماڈل انٹرنیٹ کے بعد تباہ ہو گیا ہے، جب کہ میٹا اور گوگل جیسے پلیٹ فارمز نے اشتہاری آمدن پر قبضہ کر لیا۔ اب نئی اے آئی چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی اور جمنائی نے خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس پر قارئین کی آمد کو مزید کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے زور دیا کہ حکومتوں کو عوامی مفاد کے میڈیا کی مالی معاونت اور اس کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے، ورنہ صحافت کا زوال جمہوریت اور معیشت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی اور یورپی جامعات کے ممتاز ماہرینِ معیشت، جن میں نوبیل انعام یافتہ جوزف اسٹیگلٹز اور ڈیرن ایسیماگلو بھی شامل ہیں، نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ عوامی مفاد میں کام کرنے والا میڈیا زوال کا شکار ہے اور حکومتوں کو معیاری صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔</strong></p>
<p>11 ماہرینِ معیشت کے اس گروپ نے اپنا مشترکہ بیان فورم آن انفارمیشن اینڈ ڈیموکریسی کے ذریعے جاری کیا، جو رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور فرانسیسی حکومت کے اشتراک سے قائم کیا گیا ایک پلیٹ فارم ہے۔</p>
<p>ماہرین نے بتایا کہ میڈیا صنعت کو نوکریوں کے خاتمے، آمدنی میں کمی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے خطرے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں دنیا بھر میں اے آئی کو ترقی کا ذریعہ سمجھ رہی ہیں لیکن آزاد اور قابلِ تصدیق معلومات جیسے بنیادی اثاثے پر سرمایہ کاری نہیں کر رہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق، روایتی اشتہارات پر مبنی ماڈل انٹرنیٹ کے بعد تباہ ہو گیا ہے، جب کہ میٹا اور گوگل جیسے پلیٹ فارمز نے اشتہاری آمدن پر قبضہ کر لیا۔ اب نئی اے آئی چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی اور جمنائی نے خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس پر قارئین کی آمد کو مزید کم کر دیا ہے۔</p>
<p>ماہرین نے زور دیا کہ حکومتوں کو عوامی مفاد کے میڈیا کی مالی معاونت اور اس کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے، ورنہ صحافت کا زوال جمہوریت اور معیشت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277338</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 12:25:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/231223287a17c9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/231223287a17c9f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
