<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے پی ٹی نے ناردرن بائی پاس پر ٹرک ٹرمینل کیلئے سندھ حکومت سے 600 ایکڑ زمین مانگ لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277325/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سندھ حکومت سے ناردرن بائی پاس پر ٹرک ٹرمینل کے قیام کے لیے 600 ایکڑ زمین  فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کے اجلاس میں اٹھایا گیا، جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں کمیٹی کے رکن رفیع اللہ نے ماری پور روڈ اور کیماڑی میں بھاری ٹریفک کے باعث بڑھتی ٹریفک جام کی نشاندہی کی، جس پر کے پی ٹی کے چیئرمین نے وضاحت کی کہ اگر شہر میں ٹرمینل قائم کر دیا جائے تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ پر ایک ہی وقت میں 200 سے زائد ڈمپر اور ٹرالرز داخل ہوجاتے ہیں، جس سے نہ صرف شدید ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے بلکہ حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور عوامی اشتعال کے باعث بعض اوقات گاڑیاں نذرِ آتش بھی کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے پی ٹی چیئرمین نے بتایا کہ انہوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ کو شمالی بائی پاس پر 600 ایکڑ زمین کی نشاندہی کر دی ہے، اور اگر زمین فراہم کردی گئی تو دو ماہ میں ٹرمینل کو فعال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ابتدائی طور پر ٹرکوں کو پرچی جاری کر کے اور بعد میں ای-ٹیگ کے ذریعے ہی شہر میں داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ کنسائمنٹ تیار ہونے پر ہی گاڑیاں بندرگاہ تک پہنچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے بتایا کہ کے پی ٹی کے پاس جو زمین موجود ہے وہ پہلے ہی ایک اور پورٹ ٹرمینل کے لیے مختص ہے اور یہ بات سندھ حکومت کو بھی آگاہ کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی نے ٹریفک مسئلے پر کمشنر کراچی کو رپورٹ سمیت طلب کرنے کا فیصلہ کیا اور وزارتِ میری ٹائم کو ہدایت دی کہ شپس بل 2025 کے تحت بنائی جانے والی اتھارٹی کی تشکیل اور اختیارات واضح کرے۔ کمیٹی نے کے پی ٹی اراضی پر قبضہ مافیا کے خلاف جاری آپریشن کی بھی حمایت کی اور اس سلسلے میں قائم کمیٹی میں سندھ رینجرز کے نمائندے کو شامل کرنے سے اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سندھ حکومت سے ناردرن بائی پاس پر ٹرک ٹرمینل کے قیام کے لیے 600 ایکڑ زمین  فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کے اجلاس میں اٹھایا گیا، جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کی۔</strong></p>
<p>اجلاس میں کمیٹی کے رکن رفیع اللہ نے ماری پور روڈ اور کیماڑی میں بھاری ٹریفک کے باعث بڑھتی ٹریفک جام کی نشاندہی کی، جس پر کے پی ٹی کے چیئرمین نے وضاحت کی کہ اگر شہر میں ٹرمینل قائم کر دیا جائے تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ پر ایک ہی وقت میں 200 سے زائد ڈمپر اور ٹرالرز داخل ہوجاتے ہیں، جس سے نہ صرف شدید ٹریفک جام پیدا ہوتا ہے بلکہ حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور عوامی اشتعال کے باعث بعض اوقات گاڑیاں نذرِ آتش بھی کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>کے پی ٹی چیئرمین نے بتایا کہ انہوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ کو شمالی بائی پاس پر 600 ایکڑ زمین کی نشاندہی کر دی ہے، اور اگر زمین فراہم کردی گئی تو دو ماہ میں ٹرمینل کو فعال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ابتدائی طور پر ٹرکوں کو پرچی جاری کر کے اور بعد میں ای-ٹیگ کے ذریعے ہی شہر میں داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ کنسائمنٹ تیار ہونے پر ہی گاڑیاں بندرگاہ تک پہنچ سکیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے بتایا کہ کے پی ٹی کے پاس جو زمین موجود ہے وہ پہلے ہی ایک اور پورٹ ٹرمینل کے لیے مختص ہے اور یہ بات سندھ حکومت کو بھی آگاہ کی جاچکی ہے۔</p>
<p>قائمہ کمیٹی نے ٹریفک مسئلے پر کمشنر کراچی کو رپورٹ سمیت طلب کرنے کا فیصلہ کیا اور وزارتِ میری ٹائم کو ہدایت دی کہ شپس بل 2025 کے تحت بنائی جانے والی اتھارٹی کی تشکیل اور اختیارات واضح کرے۔ کمیٹی نے کے پی ٹی اراضی پر قبضہ مافیا کے خلاف جاری آپریشن کی بھی حمایت کی اور اس سلسلے میں قائم کمیٹی میں سندھ رینجرز کے نمائندے کو شامل کرنے سے اتفاق کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277325</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 09:59:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2309581397ea966.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2309581397ea966.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
