<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ، حکومت کا پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277317/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے پیر کے روز اپنے اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے پر 29 ستمبر کو پارلیمنٹ کو بریفنگ دے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے اور حکومت پر اپوزیشن سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے جواب میں کیا گیا ہے، جس میں بڑے خارجہ اور دفاعی پالیسی فیصلوں پر شفافیت اور پارلیمانی کردار کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف کے گزشتہ ہفتے کے دورۂ ریاض کے دوران طے پانے والے اس معاہدے سے قبل مشاورت نہ کیے جانے پر حکومت کو تنقید کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی نے باقاعدہ طور پر شکایات ظاہر کی ہیں کہ اسے مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ پارٹی ترجمان ندیم افضل چن نے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم معاملات میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو حکومت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، مشکلات میں گھری پی ٹی آئی نے بھی حکومت سے مکمل وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات عوام کے اعتماد اور پارلیمانی نگرانی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سامنے لائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق، اجلاس 29 ستمبر کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں اراکین کو معاہدے کی شقوں اور اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔ وزارتِ پارلیمانی امور نے وزیرِاعظم کے دفتر کو ایک سمری بھجوائی ہے جس میں اجلاس شام 5 بجے شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے توقع ہے کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں پالیسی بیان دیں گے اور اس دوطرفہ معاہدے کی اہم شقوں کی وضاحت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کا اجلاس دو ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے جس میں دیگر قانون سازی اور حکومتی امور بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پی ٹی آئی پچھلے اجلاس کے دوران صرف علامتی طور پر شریک ہوئی تھی اور عمومی طور پر قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔ اس بات کا تعین ابھی باقی ہے کہ آیا پی ٹی آئی سعودی عرب کے معاہدے پر بحث کے لیے بائیکاٹ ختم کرے گی یا پھر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپنے عوامی پارلیمنٹ کے ذریعے اس معاملے کو اٹھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال خاموشی اختیار کی گئی ہے جبکہ پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم سے اس بارے میں رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ 18 ستمبر کو ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان طے پایا تھا۔ سرکاری مشترکہ بیان کے مطابق، یہ معاہدہ دوطرفہ دفاعی تعاون کو مستحکم کرنے اور مشترکہ فوجی تیاری کو بڑھانے کے لیے ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام میں کردار ادا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان پر کوئی بھی حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور ہوگا اور سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ مانا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ معاہدے کا مکمل متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم حکومتی حکام نے اسے اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سیکیورٹی تعلقات کو باضابطہ بنانے میں ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے پیر کے روز اپنے اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے پر 29 ستمبر کو پارلیمنٹ کو بریفنگ دے گی۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے اور حکومت پر اپوزیشن سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے جواب میں کیا گیا ہے، جس میں بڑے خارجہ اور دفاعی پالیسی فیصلوں پر شفافیت اور پارلیمانی کردار کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف کے گزشتہ ہفتے کے دورۂ ریاض کے دوران طے پانے والے اس معاہدے سے قبل مشاورت نہ کیے جانے پر حکومت کو تنقید کا سامنا تھا۔</p>
<p>پیپلز پارٹی نے باقاعدہ طور پر شکایات ظاہر کی ہیں کہ اسے مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ پارٹی ترجمان ندیم افضل چن نے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم معاملات میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو حکومت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، مشکلات میں گھری پی ٹی آئی نے بھی حکومت سے مکمل وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات عوام کے اعتماد اور پارلیمانی نگرانی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سامنے لائی جائیں۔</p>
<p>قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق، اجلاس 29 ستمبر کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں اراکین کو معاہدے کی شقوں اور اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔ وزارتِ پارلیمانی امور نے وزیرِاعظم کے دفتر کو ایک سمری بھجوائی ہے جس میں اجلاس شام 5 بجے شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے توقع ہے کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں پالیسی بیان دیں گے اور اس دوطرفہ معاہدے کی اہم شقوں کی وضاحت کریں گے۔</p>
<p>قومی اسمبلی کا اجلاس دو ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے جس میں دیگر قانون سازی اور حکومتی امور بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پی ٹی آئی پچھلے اجلاس کے دوران صرف علامتی طور پر شریک ہوئی تھی اور عمومی طور پر قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔ اس بات کا تعین ابھی باقی ہے کہ آیا پی ٹی آئی سعودی عرب کے معاہدے پر بحث کے لیے بائیکاٹ ختم کرے گی یا پھر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپنے عوامی پارلیمنٹ کے ذریعے اس معاملے کو اٹھائے گی۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال خاموشی اختیار کی گئی ہے جبکہ پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم سے اس بارے میں رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ 18 ستمبر کو ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان طے پایا تھا۔ سرکاری مشترکہ بیان کے مطابق، یہ معاہدہ دوطرفہ دفاعی تعاون کو مستحکم کرنے اور مشترکہ فوجی تیاری کو بڑھانے کے لیے ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام میں کردار ادا کیا جا سکے۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان پر کوئی بھی حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور ہوگا اور سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ مانا جائے گا۔</p>
<p>اگرچہ معاہدے کا مکمل متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم حکومتی حکام نے اسے اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سیکیورٹی تعلقات کو باضابطہ بنانے میں ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277317</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 08:57:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/230856511f434a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/230856511f434a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
