<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:23:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:23:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ نے امریکی درآمدات پر عائد اضافی ٹیرف ختم کرنے کا اعلان کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277290/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ نے امریکا سے درآمدات پر عائد اضافی ٹیرف ختم کر دیے ہیں، جو 2018 میں مسافر گاڑیوں سے لے کر پھلوں تک مختلف اشیا پر لگائے گئے تھے۔ یہ اعلان پیر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا، جب صدر طیب اردوان امریکا کے دورے پر موجود تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردوان اس ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں اور جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی ٹیرف جن مصنوعات پر عائد تھے ان میں مسافر گاڑیاں، پھل، چاول، تمباکو، بعض الکوحلک مشروبات، کچھ ٹھوس ایندھن اور بعض کیمیائی مصنوعات شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹیرف 2018 میں اس وقت عائد کیے گئے تھے جب ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکا کی جانب سے ترک مصنوعات پر ٹیرف بڑھایا تھا، اور ترکیہ نے جوابی اقدام کے طور پر یہ فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکیہ نے امریکا سے درآمدات پر عائد اضافی ٹیرف ختم کر دیے ہیں، جو 2018 میں مسافر گاڑیوں سے لے کر پھلوں تک مختلف اشیا پر لگائے گئے تھے۔ یہ اعلان پیر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا، جب صدر طیب اردوان امریکا کے دورے پر موجود تھے۔</strong></p>
<p>اردوان اس ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں اور جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔</p>
<p>اضافی ٹیرف جن مصنوعات پر عائد تھے ان میں مسافر گاڑیاں، پھل، چاول، تمباکو، بعض الکوحلک مشروبات، کچھ ٹھوس ایندھن اور بعض کیمیائی مصنوعات شامل تھیں۔</p>
<p>یہ ٹیرف 2018 میں اس وقت عائد کیے گئے تھے جب ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکا کی جانب سے ترک مصنوعات پر ٹیرف بڑھایا تھا، اور ترکیہ نے جوابی اقدام کے طور پر یہ فیصلہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277290</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Sep 2025 12:31:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/22123028bd8c508.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/22123028bd8c508.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
