<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:41:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:41:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاہ بہار پورٹ پر امریکی پابندی بھارت کیلئے بڑا دھچکا ہے، سردار مسعود خان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277278/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سینئر سفارتکار سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارت کو چاہ بہار پورٹ میں دی گئی چھوٹ واپس لینا بھارت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک میڈیا انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ ایک طرف بھارت امریکہ کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے جبکہ دوسری جانب وہ تیل اور دیگر اشیا ان ممالک سے خرید رہا ہے جو امریکہ مخالف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس پابندی کے نتیجے میں نہ صرف بھارت کی بڑی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی کا خواب بھی خواب ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پابندی صرف ایران کی چاہ بہار پورٹ پر ہی نہیں بلکہ اس پورٹ کو چلانے اور اس کی نگرانی کرنے والوں پر بھی لاگو ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال چاہ بہار پورٹ کی آپریشنل ذمہ داریاں بھارت کی پورٹس گلوبل لمیٹڈ ادا کر رہی ہے، جو بھارت کی وزارت برائے پورٹس و شپنگ کے تحت کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ پورٹ پہلے دن سے ہی بدنیتی پر مبنی منصوبے کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس پورٹ کے پردے میں پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کا اڈہ قائم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حالیہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران بھارت نے اسی جاسوسی اڈے کو ایران کے خلاف بھی استعمال کیا، اور ایرانی حکومت نے اس نیٹ ورک سے منسلک بھارتی شہریوں کو گرفتار بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس پورٹ کو ایران اور پاکستان دونوں کے خلاف دو دھاری تلوار کے طور پر استعمال کیا اور اس دہشت گردی کے اڈے سے بالخصوص بلوچستان میں پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی جانب سے H-1B ویزا فیس کو 100,000 ڈالر تک بڑھانے کے فیصلے پر ایک سوال کے جواب میں سردار مسعود خان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بھی بھارت کو سزا دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑی تعداد میں بھارت کے شہریوں کو امریکہ سے غیر قانونی قیام پر ملک بدر کیا گیا، جس کی بھارت نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سینئر سفارتکار سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارت کو چاہ بہار پورٹ میں دی گئی چھوٹ واپس لینا بھارت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔</strong></p>
<p>ایک میڈیا انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ ایک طرف بھارت امریکہ کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے جبکہ دوسری جانب وہ تیل اور دیگر اشیا ان ممالک سے خرید رہا ہے جو امریکہ مخالف ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس پابندی کے نتیجے میں نہ صرف بھارت کی بڑی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی کا خواب بھی خواب ہی رہے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پابندی صرف ایران کی چاہ بہار پورٹ پر ہی نہیں بلکہ اس پورٹ کو چلانے اور اس کی نگرانی کرنے والوں پر بھی لاگو ہوگی۔</p>
<p>فی الحال چاہ بہار پورٹ کی آپریشنل ذمہ داریاں بھارت کی پورٹس گلوبل لمیٹڈ ادا کر رہی ہے، جو بھارت کی وزارت برائے پورٹس و شپنگ کے تحت کام کرتی ہے۔</p>
<p>سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ پورٹ پہلے دن سے ہی بدنیتی پر مبنی منصوبے کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس پورٹ کے پردے میں پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کا اڈہ قائم کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حالیہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران بھارت نے اسی جاسوسی اڈے کو ایران کے خلاف بھی استعمال کیا، اور ایرانی حکومت نے اس نیٹ ورک سے منسلک بھارتی شہریوں کو گرفتار بھی کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس پورٹ کو ایران اور پاکستان دونوں کے خلاف دو دھاری تلوار کے طور پر استعمال کیا اور اس دہشت گردی کے اڈے سے بالخصوص بلوچستان میں پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دیں۔</p>
<p>امریکہ کی جانب سے H-1B ویزا فیس کو 100,000 ڈالر تک بڑھانے کے فیصلے پر ایک سوال کے جواب میں سردار مسعود خان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بھی بھارت کو سزا دینا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑی تعداد میں بھارت کے شہریوں کو امریکہ سے غیر قانونی قیام پر ملک بدر کیا گیا، جس کی بھارت نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277278</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Sep 2025 10:05:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آئی این پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/22100320fbec34a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/22100320fbec34a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
