<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:38:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:38:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا تین کھاد فیکٹریوں کیلئے 222 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس مختص کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر پٹرولیم  کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے کھاد کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور درآمدی بل میں کمی لانے کے لیے مقامی گیس سے 222 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کھاد کی تین فیکٹریوں کو مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گیس ماری گیس فیلڈ کے غزج/شوال ذخیرے سے فراہم کی جائے گی، جس کی قیمت اوگرا کے مقررہ ویلہیڈ ریٹ پر وصول کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی نے یہ فیصلہ حتمی شکل دی جسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماری انرجیز لمیٹڈ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع ماری گیس فیلڈ کا آپریٹر ہے جو چار ذخائر سے گیس پیدا کرتا ہے۔ ان میں حبب راہی لائم اسٹون (ایچ آر ایل)، سوئی اپر/مین لائم اسٹون (ایس یو ایل/ایس ایم ایل)، غزج/شوال اور گورو بی ڈیپ شامل ہیں۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فاطمہ فرٹیلائزر (شیخوپورہ)، ایگری ٹیک (ڈاؤد خیل) اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی پورٹ قاسم پلانٹ (کراچی) کو غزج/شوال سے گیس فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی اسکیم کے تحت ایف ایف سی پورٹ قاسم کو 104 ایم ایم سی ایف ڈی، فاطمہ فرٹیلائزر کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ ایگری ٹیک کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کی گئی ہے۔ گیس فیکٹری سائٹس تک پہنچانے کیلئے متعلقہ کمپنیوں کو اپنے اخراجات پر گیس پراسیسنگ اور کمپریشن پلانٹس لگانے ہوں گے۔ اس مقصد کیلئے 200 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق گیس کی یہ تقسیم موجودہ الاٹمنٹ کو متاثر نہیں کرے گی۔ دیگر سات کھاد فیکٹریوں کو پہلے ہی ماری فیلڈ سے گیس فراہم کی جارہی ہے اور ان کے معاہدے 2029 تک نافذالعمل ہیں۔ ان میں اینگرو انوین، اینگرو بیس پلانٹ، تین ایف ایف سی پلانٹس اور دو فاطمہ گروپ پلانٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کے فیصلے کے بعد ماری فیلڈ سے کھاد فیکٹریوں کو مجموعی طور پر 597.5 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے گی، جبکہ 58 ایم ایم سی ایف ڈی ایس ایم ایل/سوئی لائم اسٹون اور 222 ایم ایم سی ایف ڈی غزج/شوال سے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کھاد کی مقامی پیداوار مستحکم رہے گی، یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے گا اور زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی غیر فعال اور پرانے بجلی گھروں کے لیے مختص 110 ایم ایم سی ایف ڈی ایچ آر ایل گیس کو بھی ختم کرکے اینگرو فرٹیلائزر بیس پلانٹ کو منتقل کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت غزج/شوال سے صرف 48 ایم ایم سی ایف ڈی پیداوار حاصل ہورہی ہے جو ایس این جی پی ایل کو دی جارہی ہے، تاہم آئندہ 24 ماہ میں اس ذخیرے سے مکمل 222 ایم ایم سی ایف ڈی صلاحیت دستیاب ہوگی۔ اس دوران فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو عارضی بنیاد پر مساوی مقدار میں 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر پٹرولیم  کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے کھاد کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور درآمدی بل میں کمی لانے کے لیے مقامی گیس سے 222 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کھاد کی تین فیکٹریوں کو مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گیس ماری گیس فیلڈ کے غزج/شوال ذخیرے سے فراہم کی جائے گی، جس کی قیمت اوگرا کے مقررہ ویلہیڈ ریٹ پر وصول کی جائے گی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی نے یہ فیصلہ حتمی شکل دی جسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>ماری انرجیز لمیٹڈ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع ماری گیس فیلڈ کا آپریٹر ہے جو چار ذخائر سے گیس پیدا کرتا ہے۔ ان میں حبب راہی لائم اسٹون (ایچ آر ایل)، سوئی اپر/مین لائم اسٹون (ایس یو ایل/ایس ایم ایل)، غزج/شوال اور گورو بی ڈیپ شامل ہیں۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فاطمہ فرٹیلائزر (شیخوپورہ)، ایگری ٹیک (ڈاؤد خیل) اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی پورٹ قاسم پلانٹ (کراچی) کو غزج/شوال سے گیس فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>نئی اسکیم کے تحت ایف ایف سی پورٹ قاسم کو 104 ایم ایم سی ایف ڈی، فاطمہ فرٹیلائزر کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ ایگری ٹیک کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کی گئی ہے۔ گیس فیکٹری سائٹس تک پہنچانے کیلئے متعلقہ کمپنیوں کو اپنے اخراجات پر گیس پراسیسنگ اور کمپریشن پلانٹس لگانے ہوں گے۔ اس مقصد کیلئے 200 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق گیس کی یہ تقسیم موجودہ الاٹمنٹ کو متاثر نہیں کرے گی۔ دیگر سات کھاد فیکٹریوں کو پہلے ہی ماری فیلڈ سے گیس فراہم کی جارہی ہے اور ان کے معاہدے 2029 تک نافذالعمل ہیں۔ ان میں اینگرو انوین، اینگرو بیس پلانٹ، تین ایف ایف سی پلانٹس اور دو فاطمہ گروپ پلانٹس شامل ہیں۔</p>
<p>ای سی سی کے فیصلے کے بعد ماری فیلڈ سے کھاد فیکٹریوں کو مجموعی طور پر 597.5 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے گی، جبکہ 58 ایم ایم سی ایف ڈی ایس ایم ایل/سوئی لائم اسٹون اور 222 ایم ایم سی ایف ڈی غزج/شوال سے دی جائے گی۔</p>
<p>حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کھاد کی مقامی پیداوار مستحکم رہے گی، یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے گا اور زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی غیر فعال اور پرانے بجلی گھروں کے لیے مختص 110 ایم ایم سی ایف ڈی ایچ آر ایل گیس کو بھی ختم کرکے اینگرو فرٹیلائزر بیس پلانٹ کو منتقل کیا جارہا ہے۔</p>
<p>فی الوقت غزج/شوال سے صرف 48 ایم ایم سی ایف ڈی پیداوار حاصل ہورہی ہے جو ایس این جی پی ایل کو دی جارہی ہے، تاہم آئندہ 24 ماہ میں اس ذخیرے سے مکمل 222 ایم ایم سی ایف ڈی صلاحیت دستیاب ہوگی۔ اس دوران فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو عارضی بنیاد پر مساوی مقدار میں 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277269</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Sep 2025 08:47:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/220841062a4186d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/220841062a4186d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
