<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موجودہ امریکی ویزا ہولڈرز نئی فیس سے مستثنیٰ ہونگے، ترجمان وائٹ ہاؤس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277255/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں ایچ 1 بی ویزے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی نئی فیس اتوار سے نافذالعمل ہو گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیس ہر نئی  درخواست  پر وصول کی جائے گی، تاہم موجودہ ویزا ہولڈرز کے ملک میں دوبارہ داخلے پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ہفتے کو بتایا  کہ یہ کوئی سالانہ فیس نہیں بلکہ صرف ایک بار وصول کی جانے والی رقم ہے جو صرف نئی پٹیشن پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایچ 1بی ویزا رکھنے والے افراد بغیر کسی اضافی فیس کے حسبِ معمول امریکا چھوڑ اور دوبارہ داخل ہو سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کمرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک نے جمعے کو کہا تھا کہ یہ فیس سالانہ بنیاد پر لی جائے گی۔ لٹنک کے بیان کے بعد مائیکروسافٹ، جے پی مورگن اور ایمیزون سمیت بڑی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو اندرونِ ملک قیام کا مشورہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی فیس کا مقصد امریکی کارکنوں کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا اور کم تنخواہوں پر غیر ملکی ورکرز کی جگہ لینے کے رجحان کو ختم کرنا ہے،تاہم بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ناسی کوم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی عالمی سرگرمیوں کو متاثر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو جاری  ایک فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست کو  قومی مفاد کے تحت سمجھا جائے تو اسے بغیر فیس کے بھی منظور کیا جا سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آئی ٹی شعبے میں ایچ 1 بی ویزا ہولڈرز کا تناسب 2003 میں 32 فیصد سے بڑھ کر حالیہ برسوں میں 65 فیصد سے زائد ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے دستخط شدہ حکم نامے میں محنت اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکموں کو ویزا پروگرام کی سخت نگرانی، آڈٹ اور سزاؤں کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ محنت کے سیکریٹری کو اجرتی شرحوں میں نظرِثانی اور زیادہ ہنرمند و زیادہ تنخواہ پانے والے ورکرز کو ترجیح دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے اعلان کے بعد کارپوریٹ امریکا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور کئی ویزا ہولڈرز نے جلدی میں امریکا واپسی شروع کر دی۔ چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ریڈ نوٹ  پر بعض افراد نے بتایا کہ وہ بیرونِ ملک پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ہی واپس لوٹ آئے ،تاکہ ممکنہ اضافی فیس سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے ،تاکہ ویزا پروگرام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور امریکی ورکرز کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں ایچ 1 بی ویزے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی نئی فیس اتوار سے نافذالعمل ہو گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیس ہر نئی  درخواست  پر وصول کی جائے گی، تاہم موجودہ ویزا ہولڈرز کے ملک میں دوبارہ داخلے پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔</strong></p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ہفتے کو بتایا  کہ یہ کوئی سالانہ فیس نہیں بلکہ صرف ایک بار وصول کی جانے والی رقم ہے جو صرف نئی پٹیشن پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایچ 1بی ویزا رکھنے والے افراد بغیر کسی اضافی فیس کے حسبِ معمول امریکا چھوڑ اور دوبارہ داخل ہو سکیں گے۔</p>
<p>یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کمرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک نے جمعے کو کہا تھا کہ یہ فیس سالانہ بنیاد پر لی جائے گی۔ لٹنک کے بیان کے بعد مائیکروسافٹ، جے پی مورگن اور ایمیزون سمیت بڑی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو اندرونِ ملک قیام کا مشورہ دیا تھا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی فیس کا مقصد امریکی کارکنوں کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا اور کم تنخواہوں پر غیر ملکی ورکرز کی جگہ لینے کے رجحان کو ختم کرنا ہے،تاہم بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ناسی کوم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی عالمی سرگرمیوں کو متاثر کرے گا۔</p>
<p>ہفتے کو جاری  ایک فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست کو  قومی مفاد کے تحت سمجھا جائے تو اسے بغیر فیس کے بھی منظور کیا جا سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آئی ٹی شعبے میں ایچ 1 بی ویزا ہولڈرز کا تناسب 2003 میں 32 فیصد سے بڑھ کر حالیہ برسوں میں 65 فیصد سے زائد ہو چکا ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے دستخط شدہ حکم نامے میں محنت اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکموں کو ویزا پروگرام کی سخت نگرانی، آڈٹ اور سزاؤں کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ محنت کے سیکریٹری کو اجرتی شرحوں میں نظرِثانی اور زیادہ ہنرمند و زیادہ تنخواہ پانے والے ورکرز کو ترجیح دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔</p>
<p>جمعے کے اعلان کے بعد کارپوریٹ امریکا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور کئی ویزا ہولڈرز نے جلدی میں امریکا واپسی شروع کر دی۔ چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ریڈ نوٹ  پر بعض افراد نے بتایا کہ وہ بیرونِ ملک پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ہی واپس لوٹ آئے ،تاکہ ممکنہ اضافی فیس سے بچ سکیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے ،تاکہ ویزا پروگرام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور امریکی ورکرز کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277255</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Sep 2025 12:27:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/21121230f3df79b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/21121230f3df79b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
