<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر آصف علی زرداری کا چین کے کاشغر فری ٹریڈ زون کا دورہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277246/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز کاشغر فری ٹریڈ زون کا دورہ کیا، جو جنوبی سنکیانگ میں اپنی نوعیت کی واحد سہولت اور خطے میں تجارت و لاجسٹکس کا ایک اہم مرکز ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرِ پاکستان کا استقبال کاشغر کے سی پی سی پارٹی سیکریٹری یاو نِنگ نے کیا اور انہیں زون کے 2015 میں قیام کے بعد سے ترقی کے سفر پر بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زون 3.56 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں بانڈڈ ویئر ہاؤسنگ، لاجسٹکس، پروسیسنگ، کسٹمز کلیئرنس اور ایئر فریٹ سروسز شامل ہیں۔ زون کے تجارتی روابط 118 ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں، جہاں سے برآمدات میں الیکٹرک وہیکلز اور بیٹریز سے لے کر سولر سیلز، ہائی ٹیک مصنوعات اور آٹو پارٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری کو بتایا گیا کہ زون سڑک، ریل اور فضائی رابطوں کے ذریعے بیک وقت ایشیا اور یورپ سے جڑا ہوا ہے اور اس کا اپنا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ہے۔ یہ زون سوست پورٹ (گلگت بلتستان) سے صرف 400 کلومیٹر کے فاصلے پر جبکہ گوادر پورٹ سے 2000 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کے ذریعے درآمدات اور برآمدات دونوں کی ترسیل ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرِ مملکت نے مختلف ممالک بشمول وسطی ایشیائی ریاستوں، یورپی ممالک، جنوبی کوریا اور جاپان کے نمائشی اسٹالز اور کیوسک بھی دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بریفنگ میں صدر کو بتایا گیا کہ 2024 میں قائم ہونے والے ڈیجیٹل ٹریڈ سینٹر میں اس وقت 5,400 سے زائد کمپنیاں سرگرم ہیں جبکہ کراس بارڈر ای کامرس ایکزیبیشن سینٹر میں وسطی ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کی ڈیوٹی فری مصنوعات رکھی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری کو ٹو کنٹریز، ٹوئن پارکس منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس میں ازبکستان کا مجاز انڈسٹریل پارک شامل ہے، جو گودام سے گودام تک صرف 72 گھنٹوں میں ترسیل ممکن بناتا ہے، جبکہ کرغیزستان کی معاونت سے آٹو موبائل اسمبلی اور ایل ای ڈی پروڈکشن کے لیے ایک پارک بھی تیار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی صدر کے ہمراہ تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز کاشغر فری ٹریڈ زون کا دورہ کیا، جو جنوبی سنکیانگ میں اپنی نوعیت کی واحد سہولت اور خطے میں تجارت و لاجسٹکس کا ایک اہم مرکز ہے۔</strong></p>
<p>صدرِ پاکستان کا استقبال کاشغر کے سی پی سی پارٹی سیکریٹری یاو نِنگ نے کیا اور انہیں زون کے 2015 میں قیام کے بعد سے ترقی کے سفر پر بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>یہ زون 3.56 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں بانڈڈ ویئر ہاؤسنگ، لاجسٹکس، پروسیسنگ، کسٹمز کلیئرنس اور ایئر فریٹ سروسز شامل ہیں۔ زون کے تجارتی روابط 118 ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں، جہاں سے برآمدات میں الیکٹرک وہیکلز اور بیٹریز سے لے کر سولر سیلز، ہائی ٹیک مصنوعات اور آٹو پارٹس شامل ہیں۔</p>
<p>صدر زرداری کو بتایا گیا کہ زون سڑک، ریل اور فضائی رابطوں کے ذریعے بیک وقت ایشیا اور یورپ سے جڑا ہوا ہے اور اس کا اپنا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ہے۔ یہ زون سوست پورٹ (گلگت بلتستان) سے صرف 400 کلومیٹر کے فاصلے پر جبکہ گوادر پورٹ سے 2000 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کے ذریعے درآمدات اور برآمدات دونوں کی ترسیل ممکن ہے۔</p>
<p>صدرِ مملکت نے مختلف ممالک بشمول وسطی ایشیائی ریاستوں، یورپی ممالک، جنوبی کوریا اور جاپان کے نمائشی اسٹالز اور کیوسک بھی دیکھے۔</p>
<p>مزید بریفنگ میں صدر کو بتایا گیا کہ 2024 میں قائم ہونے والے ڈیجیٹل ٹریڈ سینٹر میں اس وقت 5,400 سے زائد کمپنیاں سرگرم ہیں جبکہ کراس بارڈر ای کامرس ایکزیبیشن سینٹر میں وسطی ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کی ڈیوٹی فری مصنوعات رکھی گئی ہیں۔</p>
<p>صدر زرداری کو ٹو کنٹریز، ٹوئن پارکس منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس میں ازبکستان کا مجاز انڈسٹریل پارک شامل ہے، جو گودام سے گودام تک صرف 72 گھنٹوں میں ترسیل ممکن بناتا ہے، جبکہ کرغیزستان کی معاونت سے آٹو موبائل اسمبلی اور ایل ای ڈی پروڈکشن کے لیے ایک پارک بھی تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی صدر کے ہمراہ تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277246</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Sep 2025 09:57:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2109563448d3995.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2109563448d3995.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
