<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 19:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی ایران کے جوہری معاملے پر سفارتی حل کی حمایت، پابندیوں کے خطرات پر اظہارِ تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد ہونے سے روکنے کی غرض سے پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے زور دیا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کا حل جبر کے بجائے سفارتی ذرائع سے نکالا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرارداد، جو 15 رکنی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر، جنوبی کوریا، نے پیش کی، مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی اور ناکام ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں 27 ستمبر سے ایران پر خودکار طور پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ممالک میں پاکستان، روس، چین اور الجزائر شامل تھے، تاہم یہ قرار داد منظوری کے لیے درکار نو ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ نو ارکان نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا جبکہ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا (غیر حاضر رہے یا گریز کیا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر آصف افتخار احمد نے ایران پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق ووٹنگ کے بعد خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ہم ایران کے قریبی ہمسائے اور دوست کے طور پر کسی ایسے اقدام کے حامی نہیں جو اس خطے کو مزید غیر مستحکم کرے، ایک ایسا خطہ جو پہلے ہی کئی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ہمارا خطہ مزید  کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“ مزید کہا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی وقت ہے کہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ ”سفارت کاری اور دھونس ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی تمام سابقہ پابندیوں کی خودکار بحالی ( اسنیپ بیک میکنزم) کی کارروائی شروع کی تھی، جس سے وہ تمام تعزیرات دوبارہ نافذ ہو جاتیں جو جوہری معاہدے سے پہلے لاگو تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پابندیوں میں روایتی ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر قدغن، اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیاں، اور جوہری ٹیکنالوجی کی تیاری پر مکمل ممانعت شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور عشروں پر محیط معاشی بحران سے پہلے ہی سخت دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”ایران اپنے قومی مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، چاہے وہ سفارتی ذرائع سے ہو، اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر آصف افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ ”ہمیں ایران کے ساتھ بامقصد سفارتی روابط جاری رکھنے چاہییں، تاکہ تمام باقی ماندہ مسائل کو باہمی تعاون کے جذبے اور فریقین کی ذمہ داریوں کے مطابق حل کیا جا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں سفارتی راستے کو ترجیح دینی چاہیے اور پرامن، باہمی مفاہمت پر مبنی حل سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں روس نے ایک تکنیکی نکتہ اٹھاتے ہوئے یورپی ممالک کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ روس کے سفیر واسلی نیبینزیا نے کہا کہ ”اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنے یا قرارداد پر ووٹنگ کے لیے نہ تو کوئی قانونی، نہ سیاسی اور نہ ہی کوئی اور طریقہ کار کے مطابق جواز موجود ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2231 اور جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) دونوں کی خلاف ورزی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تینوں یورپی ممالک تنازع کے حل کے طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور اس کے بجائے ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر دیں، جنہیں انہوں نے ”غیر قانونی“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی سفیر نیبینزیا نے کہا کہ ”یورپی ممالک کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ انہیں سابقہ قراردادوں کے تحت تعزیری شقوں کو فعال کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ وہ خود اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں… قابل قبول نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب سفیر فو کونگ نے کہا کہ اس معاملے پر کونسل کے ارکان کے درمیان ”بنیادی نوعیت کے اختلافات“ موجود ہیں، اور خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں کی گئی ووٹنگ ”ریاستی سطح پر محاذ آرائی کو بڑھا سکتی ہے“ اور اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی سفیر باربرا ووڈورڈ نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک (ای 3) کا اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کا فیصلہ ”مکمل طور پر قانونی، جائز، وسیع اور قرارداد 2231 کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 28 اگست کو فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے جمع کرائی گئی نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  اسنیپ بیک کو فعال کرنے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ جے سی پی او اے کا کوئی شریک ملک یہ اطلاع دے کہ اس کے خیال میں ایران نے اپنی ذمہ داریاں نمایاں طور پر پوری نہیں کیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ووٹنگ سے قبل، فرانس نے ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ اس کے کم ہوتے ہوئے تعاون کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی سفیر جیروم بونافونٹ نے کہا کہ ایران نے معاہدے میں طے شدہ حد سے کہیں زیادہ افزودہ یورینیم ذخیرہ کر لیا ہے اور آئی اے ای اے کو اہم تنصیبات تک رسائی محدود کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسنیپ بیک میکانزم کو بین الاقوامی امن و سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد ہونے سے روکنے کی غرض سے پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے زور دیا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کا حل جبر کے بجائے سفارتی ذرائع سے نکالا جائے۔</strong></p>
<p>یہ قرارداد، جو 15 رکنی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر، جنوبی کوریا، نے پیش کی، مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی اور ناکام ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں 27 ستمبر سے ایران پر خودکار طور پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ممالک میں پاکستان، روس، چین اور الجزائر شامل تھے، تاہم یہ قرار داد منظوری کے لیے درکار نو ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ نو ارکان نے پابندیوں میں نرمی کے خلاف ووٹ دیا جبکہ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا (غیر حاضر رہے یا گریز کیا)۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر آصف افتخار احمد نے ایران پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق ووٹنگ کے بعد خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ہم ایران کے قریبی ہمسائے اور دوست کے طور پر کسی ایسے اقدام کے حامی نہیں جو اس خطے کو مزید غیر مستحکم کرے، ایک ایسا خطہ جو پہلے ہی کئی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ ہمارا خطہ مزید  کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“ مزید کہا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی وقت ہے کہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔“</p>
<p>انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ ”سفارت کاری اور دھونس ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔“</p>
<p>گزشتہ ماہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی تمام سابقہ پابندیوں کی خودکار بحالی ( اسنیپ بیک میکنزم) کی کارروائی شروع کی تھی، جس سے وہ تمام تعزیرات دوبارہ نافذ ہو جاتیں جو جوہری معاہدے سے پہلے لاگو تھیں۔</p>
<p>ان پابندیوں میں روایتی ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر قدغن، اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیاں، اور جوہری ٹیکنالوجی کی تیاری پر مکمل ممانعت شامل تھیں۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور عشروں پر محیط معاشی بحران سے پہلے ہی سخت دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>ایران کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”ایران اپنے قومی مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، چاہے وہ سفارتی ذرائع سے ہو، اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔“</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر آصف افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ ”ہمیں ایران کے ساتھ بامقصد سفارتی روابط جاری رکھنے چاہییں، تاکہ تمام باقی ماندہ مسائل کو باہمی تعاون کے جذبے اور فریقین کی ذمہ داریوں کے مطابق حل کیا جا سکے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں سفارتی راستے کو ترجیح دینی چاہیے اور پرامن، باہمی مفاہمت پر مبنی حل سے کبھی دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔“</p>
<p>سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں روس نے ایک تکنیکی نکتہ اٹھاتے ہوئے یورپی ممالک کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ روس کے سفیر واسلی نیبینزیا نے کہا کہ ”اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنے یا قرارداد پر ووٹنگ کے لیے نہ تو کوئی قانونی، نہ سیاسی اور نہ ہی کوئی اور طریقہ کار کے مطابق جواز موجود ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2231 اور جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) دونوں کی خلاف ورزی کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تینوں یورپی ممالک تنازع کے حل کے طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور اس کے بجائے ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر دیں، جنہیں انہوں نے ”غیر قانونی“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>روسی سفیر نیبینزیا نے کہا کہ ”یورپی ممالک کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ انہیں سابقہ قراردادوں کے تحت تعزیری شقوں کو فعال کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ وہ خود اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں… قابل قبول نہیں۔“</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب سفیر فو کونگ نے کہا کہ اس معاملے پر کونسل کے ارکان کے درمیان ”بنیادی نوعیت کے اختلافات“ موجود ہیں، اور خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں کی گئی ووٹنگ ”ریاستی سطح پر محاذ آرائی کو بڑھا سکتی ہے“ اور اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دے گی۔</p>
<p>برطانیہ کی سفیر باربرا ووڈورڈ نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک (ای 3) کا اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کا فیصلہ ”مکمل طور پر قانونی، جائز، وسیع اور قرارداد 2231 کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔“</p>
<p>انہوں نے 28 اگست کو فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے جمع کرائی گئی نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  اسنیپ بیک کو فعال کرنے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ جے سی پی او اے کا کوئی شریک ملک یہ اطلاع دے کہ اس کے خیال میں ایران نے اپنی ذمہ داریاں نمایاں طور پر پوری نہیں کیں۔“</p>
<p>ووٹنگ سے قبل، فرانس نے ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ اس کے کم ہوتے ہوئے تعاون کا حوالہ دیا۔</p>
<p>فرانسیسی سفیر جیروم بونافونٹ نے کہا کہ ایران نے معاہدے میں طے شدہ حد سے کہیں زیادہ افزودہ یورینیم ذخیرہ کر لیا ہے اور آئی اے ای اے کو اہم تنصیبات تک رسائی محدود کر دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اسنیپ بیک میکانزم کو بین الاقوامی امن و سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277238</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 19:53:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/20192943e6f7304.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/20192943e6f7304.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
