<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور سعودی عرب نے علاقائی سلامتی کا نیا نقشہ وضع کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277236/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ یہ اس وقت سامنے آنے والی ایک نئی علاقائی سیکیورٹی حکمتِ عملی کی علامت ہے، جب دنیا بھر میں تنازعات، غیر یقینی صورتِ حال اور پرانے اتحادوں کے زوال نے نیا عالمی توازن جنم دینا شروع کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ، جس کے تحت کسی ایک ریاست پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، دہائیوں پر محیط عسکری تعاون کو ایک باضابطہ اور تزویراتی ڈھانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ اس کے اثرات صرف پاکستان اور سعودی عرب تک محدود نہیں، بلکہ یہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور حتیٰ کہ عالمی نظام پر بھی مرتب رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی اور تربیتی تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں، تاہم یہ معاہدہ ان روابط کو ایک باقاعدہ اور لازم و ملزوم عہد میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کے طور پر پاکستان سعودی عرب کو ایک موثر دفاعی ڈھال (ڈیٹرنس) فراہم کرتا ہے جبکہ پاکستان کو خلیجی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ صف بندی سے سفارتی وزن حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلسل اقتصادی دباؤ، سیاسی غیر یقینی صورتِ حال اور سرحدی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ایک باقاعدہ دفاعی تعلق نہ صرف سلامتی کے تناظر میں اہم ہے بلکہ یہ پاکستان کے لیے اقتصادی امداد، سرمایہ کاری کے نئے راستے اور توانائی کی فراہمی کے معاہدے حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، جن کی اسلام آباد کو اس وقت سخت ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں سعودی مالیاتی پیکیجز، پاکستان کے بار بار پیش آنے والے زرمبادلہ کے بحرانوں میں ایک طرح سے ”زندگی کی ڈور“ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کی بیرونی سلامتی کو تقویت ملنے کے ساتھ ساتھ، اس کی کمزور اقتصادی بنیادوں کو بھی سہارا ملنے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس نوعیت کی وابستگیوں میں خدشات بھی پوشیدہ ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خلیجی تنازعات میں توازن قائم رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے، خاص طور پر یمن جیسے پیچیدہ تنازعات سے خود کو الگ رکھا۔ لیکن اس معاہدے کے بعد اسلام آباد کے لیے غیرجانبداری کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب کو کسی براہِ راست یا بالواسطہ حملے کا سامنا ہوا، تو پاکستان پر عسکری ردعمل دینے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو اس کی پہلے سے مصروف اور دباؤ کا شکار سیکیورٹی مشینری کے لیے ایک نیا امتحان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ریاض کے لیے یہ معاہدہ متبادل شراکت داروں کی تلاش اور ممکنہ خطرات سے تحفظ کی ایک تدبیر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ روایتی طور پر جب سعودی عرب اپنی سلامتی کی ضمانتوں کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے، تو اب وہ واشنگٹن پر حد سے زیادہ انحصار کی حدود کو بہتر سمجھنے لگا ہے۔ خطے کا غیر مستحکم ماحول، ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے لے کر اسرائیل کی فوجی پوزیشن کی غیر متوقع حرکات تک، سعودی عرب کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ نئے اور قابلِ اعتماد شراکت دار تلاش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دے کر سعودی عرب محض علامتی یکجہتی حاصل نہیں کر رہا؛ بلکہ یہ ایک ایسا پیغام بھی ہے جو مخالف قوتوں کو باور کراتا ہے کہ مملکت ایک ایسے عسکری شراکت دار کو اپنی صف میں رکھتی ہے جو ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے، اگرچہ معاہدے میں جوہری ڈھال (ڈیٹرنس) کا کوئی براہِ راست ذکر نہیں۔ محض اس نوعیت کی وابستگی بھی ممکنہ مخالفین کے حساب کتاب میں ایک مضبوط ڈھال (ڈیٹرنس) کا عنصر شامل کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وقت سعودی عرب اپنی دیگر شراکت داریوں کو نظرانداز نہیں کر رہا۔ وہ بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں میں سرمایہ کاری جاری ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری بھی برقرار ہے۔ چنانچہ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ کسی پرانے اتحاد کا متبادل نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کی سلامتی کو زیادہ خودمختار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں اس معاہدے کا فوری ردِعمل غالباً بھارت کی جانب سے سامنے آئے گا، جہاں نئی دہلی اسے پاکستان کے ساتھ اپنی پرانی رقابت اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے تناظر میں دیکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سعودی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ ریاض پاکستان اور بھارت، دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم اسلام آباد کے ساتھ عسکری صف بندی کا تاثر نئی دہلی میں بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت اس کے جواب میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعلقات کو مزید وسعت دے سکتا ہے یا امریکہ کے ساتھ اپنے پہلے سے مضبوط دفاعی تعاون کو مزید تیز کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران بھی اس معاہدے پر گہری نظر رکھے گا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، لیکن یہ معاہدہ اس نازک مفاہمت کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وسیع تر مسلم دنیا کے لیے یہ معاہدہ یکجہتی کے ایک علامتی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے خود کو اسلامی امور کا ایک نگران اور محافظ کے طور پر پیش کرتا آیا ہے جبکہ سعودی عرب کو مقدس مقامات کا متولی ہونے کے ناطے ایک روحانی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان دونوں ممالک کا دفاعی صف بندی کو باضابطہ شکل دینا اسلامی دنیا کے چھوٹے ممالک میں اجتماعی تحفظ کے احساس کو تقویت دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ وسیع تر جیوپولیٹیکل تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے دور میں یہ اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستیں اب کسی ایک بڑی طاقت پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کا پاکستان کی طرف جھکاؤ اس رجحان کا حصہ ہے، جیسا کہ ترکی کی دفاعی خودمختاری کی کوششوں، یا خلیجی ریاستوں کی جانب سے چین اور روس سے اسلحہ خریدنے کے اقدامات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے لیے یہ پیش رفت ایک مخلوط تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن اس معاہدے کو خلیج میں اپنے سیکیورٹی بوجھ میں ممکنہ کمی کے تناظر میں خوش آئند سمجھ سکتا ہے، لیکن دوسری جانب اس میں موجود، خواہ غیر علانیہ ہی سہی، جوہری پہلو، امریکی تزویراتی حلقوں میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو جوہری پھیلاؤ اور ’ڈیٹرنس‘ کے توازن سے متعلق حساس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین، جو پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ قریبی تزویراتی تعلقات رکھتا ہے، اس معاہدے کو اپنے علاقائی عزائم کے لیے معاون تصور کر سکتا ہے۔ چونکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو چینی معیشت کے دائرے میں لا رہا ہے، ایسے میں ان دو اہم شراکت داروں کے مابین مضبوط سیکیورٹی ربط بیجنگ کے اثرورسوخ کو بالواسطہ طور پر تقویت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ اس تزویراتی صف بندی کو کسی ٹھوس معاشی ریلیف میں کیسے ڈھالا جائے، اور ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ عسکری وسائل کا ضرورت سے زیادہ بیرونی محاذوں پر نہ جھونک دیا جائے۔ سعودی عرب کے لیے ترجیح یہ ہوگی کہ وہ سیکیورٹی شراکت داروں میں تنوع لانے کے ساتھ ساتھ اس تاثر سے بھی بچے کہ وہ ایران یا بھارت کے خلاف صف بندی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں، یہ معاہدہ اتحادوں کی منطق میں تبدیلی کی غمازی کرتا ہے، جو اب سخت گیر نہیں بلکہ زیادہ ’ مفادات پرمبنی‘، لچکدار اور علاقائی بنیادوں پر استوار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ معاہدہ علاقائی استحکام کو مضبوط کرتا ہے یا خطے میں نئی دراڑیں پیدا کرتا ہے، اس کا انحصار نہ صرف اس بات پر ہے کہ اسلام آباد اور ریاض اسے عملی شکل کیسے دیتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ دیگر علاقائی و عالمی طاقتیں اس کا جواب کس انداز میں دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ یہ اس وقت سامنے آنے والی ایک نئی علاقائی سیکیورٹی حکمتِ عملی کی علامت ہے، جب دنیا بھر میں تنازعات، غیر یقینی صورتِ حال اور پرانے اتحادوں کے زوال نے نیا عالمی توازن جنم دینا شروع کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاہدہ، جس کے تحت کسی ایک ریاست پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، دہائیوں پر محیط عسکری تعاون کو ایک باضابطہ اور تزویراتی ڈھانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ اس کے اثرات صرف پاکستان اور سعودی عرب تک محدود نہیں، بلکہ یہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور حتیٰ کہ عالمی نظام پر بھی مرتب رہے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی اور تربیتی تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں، تاہم یہ معاہدہ ان روابط کو ایک باقاعدہ اور لازم و ملزوم عہد میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کے طور پر پاکستان سعودی عرب کو ایک موثر دفاعی ڈھال (ڈیٹرنس) فراہم کرتا ہے جبکہ پاکستان کو خلیجی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ صف بندی سے سفارتی وزن حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلسل اقتصادی دباؤ، سیاسی غیر یقینی صورتِ حال اور سرحدی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ایک باقاعدہ دفاعی تعلق نہ صرف سلامتی کے تناظر میں اہم ہے بلکہ یہ پاکستان کے لیے اقتصادی امداد، سرمایہ کاری کے نئے راستے اور توانائی کی فراہمی کے معاہدے حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، جن کی اسلام آباد کو اس وقت سخت ضرورت ہے۔</p>
<p>ماضی میں سعودی مالیاتی پیکیجز، پاکستان کے بار بار پیش آنے والے زرمبادلہ کے بحرانوں میں ایک طرح سے ”زندگی کی ڈور“ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کی بیرونی سلامتی کو تقویت ملنے کے ساتھ ساتھ، اس کی کمزور اقتصادی بنیادوں کو بھی سہارا ملنے کی امید ہے۔</p>
<p>تاہم اس نوعیت کی وابستگیوں میں خدشات بھی پوشیدہ ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خلیجی تنازعات میں توازن قائم رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے، خاص طور پر یمن جیسے پیچیدہ تنازعات سے خود کو الگ رکھا۔ لیکن اس معاہدے کے بعد اسلام آباد کے لیے غیرجانبداری کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب کو کسی براہِ راست یا بالواسطہ حملے کا سامنا ہوا، تو پاکستان پر عسکری ردعمل دینے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو اس کی پہلے سے مصروف اور دباؤ کا شکار سیکیورٹی مشینری کے لیے ایک نیا امتحان ہوگا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ریاض کے لیے یہ معاہدہ متبادل شراکت داروں کی تلاش اور ممکنہ خطرات سے تحفظ کی ایک تدبیر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ روایتی طور پر جب سعودی عرب اپنی سلامتی کی ضمانتوں کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے، تو اب وہ واشنگٹن پر حد سے زیادہ انحصار کی حدود کو بہتر سمجھنے لگا ہے۔ خطے کا غیر مستحکم ماحول، ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے لے کر اسرائیل کی فوجی پوزیشن کی غیر متوقع حرکات تک، سعودی عرب کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ نئے اور قابلِ اعتماد شراکت دار تلاش کرے۔</p>
</blockquote>
<p>پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دے کر سعودی عرب محض علامتی یکجہتی حاصل نہیں کر رہا؛ بلکہ یہ ایک ایسا پیغام بھی ہے جو مخالف قوتوں کو باور کراتا ہے کہ مملکت ایک ایسے عسکری شراکت دار کو اپنی صف میں رکھتی ہے جو ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے، اگرچہ معاہدے میں جوہری ڈھال (ڈیٹرنس) کا کوئی براہِ راست ذکر نہیں۔ محض اس نوعیت کی وابستگی بھی ممکنہ مخالفین کے حساب کتاب میں ایک مضبوط ڈھال (ڈیٹرنس) کا عنصر شامل کر دیتی ہے۔</p>
<p>اسی وقت سعودی عرب اپنی دیگر شراکت داریوں کو نظرانداز نہیں کر رہا۔ وہ بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں میں سرمایہ کاری جاری ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری بھی برقرار ہے۔ چنانچہ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ کسی پرانے اتحاد کا متبادل نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کی سلامتی کو زیادہ خودمختار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔</p>
<p>خطے میں اس معاہدے کا فوری ردِعمل غالباً بھارت کی جانب سے سامنے آئے گا، جہاں نئی دہلی اسے پاکستان کے ساتھ اپنی پرانی رقابت اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے تناظر میں دیکھے گا۔</p>
<p>اگرچہ سعودی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ ریاض پاکستان اور بھارت، دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم اسلام آباد کے ساتھ عسکری صف بندی کا تاثر نئی دہلی میں بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت اس کے جواب میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعلقات کو مزید وسعت دے سکتا ہے یا امریکہ کے ساتھ اپنے پہلے سے مضبوط دفاعی تعاون کو مزید تیز کر سکتا ہے۔</p>
<p>ایران بھی اس معاہدے پر گہری نظر رکھے گا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، لیکن یہ معاہدہ اس نازک مفاہمت کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم وسیع تر مسلم دنیا کے لیے یہ معاہدہ یکجہتی کے ایک علامتی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے خود کو اسلامی امور کا ایک نگران اور محافظ کے طور پر پیش کرتا آیا ہے جبکہ سعودی عرب کو مقدس مقامات کا متولی ہونے کے ناطے ایک روحانی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان دونوں ممالک کا دفاعی صف بندی کو باضابطہ شکل دینا اسلامی دنیا کے چھوٹے ممالک میں اجتماعی تحفظ کے احساس کو تقویت دے سکتا ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ وسیع تر جیوپولیٹیکل تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے دور میں یہ اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستیں اب کسی ایک بڑی طاقت پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کا پاکستان کی طرف جھکاؤ اس رجحان کا حصہ ہے، جیسا کہ ترکی کی دفاعی خودمختاری کی کوششوں، یا خلیجی ریاستوں کی جانب سے چین اور روس سے اسلحہ خریدنے کے اقدامات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>امریکہ کے لیے یہ پیش رفت ایک مخلوط تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن اس معاہدے کو خلیج میں اپنے سیکیورٹی بوجھ میں ممکنہ کمی کے تناظر میں خوش آئند سمجھ سکتا ہے، لیکن دوسری جانب اس میں موجود، خواہ غیر علانیہ ہی سہی، جوہری پہلو، امریکی تزویراتی حلقوں میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو جوہری پھیلاؤ اور ’ڈیٹرنس‘ کے توازن سے متعلق حساس ہیں۔</p>
<p>چین، جو پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ قریبی تزویراتی تعلقات رکھتا ہے، اس معاہدے کو اپنے علاقائی عزائم کے لیے معاون تصور کر سکتا ہے۔ چونکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو چینی معیشت کے دائرے میں لا رہا ہے، ایسے میں ان دو اہم شراکت داروں کے مابین مضبوط سیکیورٹی ربط بیجنگ کے اثرورسوخ کو بالواسطہ طور پر تقویت دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ اس تزویراتی صف بندی کو کسی ٹھوس معاشی ریلیف میں کیسے ڈھالا جائے، اور ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ عسکری وسائل کا ضرورت سے زیادہ بیرونی محاذوں پر نہ جھونک دیا جائے۔ سعودی عرب کے لیے ترجیح یہ ہوگی کہ وہ سیکیورٹی شراکت داروں میں تنوع لانے کے ساتھ ساتھ اس تاثر سے بھی بچے کہ وہ ایران یا بھارت کے خلاف صف بندی کر رہا ہے۔</p>
<p>ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں، یہ معاہدہ اتحادوں کی منطق میں تبدیلی کی غمازی کرتا ہے، جو اب سخت گیر نہیں بلکہ زیادہ ’ مفادات پرمبنی‘، لچکدار اور علاقائی بنیادوں پر استوار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ معاہدہ علاقائی استحکام کو مضبوط کرتا ہے یا خطے میں نئی دراڑیں پیدا کرتا ہے، اس کا انحصار نہ صرف اس بات پر ہے کہ اسلام آباد اور ریاض اسے عملی شکل کیسے دیتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ دیگر علاقائی و عالمی طاقتیں اس کا جواب کس انداز میں دیتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277236</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 16:40:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/201559371355670.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/201559371355670.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
