<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف جائزے سے قبل پاکستان کے کارکردگی اہداف پورا ہونے کی توقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277230/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ہفتہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد 25 ستمبر 2025 کو 7 ارب ڈالر کے ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی‘ (ای ایف ایف) کے دوسرے ششماہی جائزے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں ملک سے توقع ہے کہ وہ مارچ اور جون 2025 کی سہ ماہیوں کے لیے تمام سات ’کوانٹیٹیٹو پرفارمنس کرائیٹیریا‘ (کیو پی سی) کو پورا کر چکا ہو گا، جن میں خالص بین الاقوامی ذخائر اور سواپ کی پوزیشنیں شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ جائزہ مارچ اور جون 2025 کی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا اندازہ لگائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کی کامیاب تکمیل سے آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کی راہ ہموار ہوگی، جس کے تحت پاکستان پہلے ہی دو قسطوں میں دو ارب ڈالر سے زائد وصول کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس کے مطابق پاکستان سے توقع ہے کہ وہ تمام کیو پی سی پورے کرے گا جن میں نیٹ انٹرنیشنل ریزرو اور سواپ پوزیشنز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق مالی سال 2025 کے لیے پرائمری بیلنس کے اعدادوشمار پہلے ہی آئی ایم ایف کے ہدف کے مطابق ہیں، اگرچہ حکومت کی ضمانتوں سے متعلق ڈیٹا ابھی تک عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی حالیہ بریفنگ میں میں گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک آنے والے سہ ماہیوں کے لیے اپنی کارکردگی آئی ایم ایف کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا تمام ایس بی پی سے متعلقہ ہدف حاصل کیے گئے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے کہا کہ حالیہ سیلاب کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس جائزے میں مالی سال 2026 کے باقی ہدف پر بھی تفصیلی بحث ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب تک موسلا دھار بارشوں اور فلڈز کے نتیجے میں 972 افراد مارے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں فصلیں، مویشی اور مکانات تباہ کردیے ہیں اورسیلاب اب سندھ میں بھی داخل ہورہا ہے جس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ اور مالی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ حکومت اہم اقتصادی تخمینوں میں ترمیم پر غور کررہی ہے: جی ڈی پی کی شرح نمو ممکنہ طور پر 4 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد کی جائے گی، افراطِ زر 8 فیصد تک بڑھ سکتی ہے اور ایف بی آر کے ٹیکس اہداف 14.13 کھرب روپے سے کم کر کے 13.7–13.9 کھرب روپے کیا جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے پاکستان میں مقیم نمائندے نے نوٹ کیا کہ یہ جائزہ ملک کی مالی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں اہم ہوگا تاکہ اس آفت کے ردعمل کو سنبھالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے زور دیا کہ آنے والا جائزہ سیلاب کے وسیع سماجی اور اقتصادی اثرات کے پیشِ نظر نہایت اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور حکومت اقتصادی تخمینوں پر اتفاق رائے تک پہنچیں گے جس میں ممکنہ طور پر مالی خسارہ اور افراطِ زر کے اہداف میں اضافہ اور جی ڈی پی اور ایف بی آر کے محصولاتی اہداف میں کمی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ہفتہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد 25 ستمبر 2025 کو 7 ارب ڈالر کے ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی‘ (ای ایف ایف) کے دوسرے ششماہی جائزے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں ملک سے توقع ہے کہ وہ مارچ اور جون 2025 کی سہ ماہیوں کے لیے تمام سات ’کوانٹیٹیٹو پرفارمنس کرائیٹیریا‘ (کیو پی سی) کو پورا کر چکا ہو گا، جن میں خالص بین الاقوامی ذخائر اور سواپ کی پوزیشنیں شامل ہیں۔</strong></p>
<p>آئندہ جائزہ مارچ اور جون 2025 کی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا اندازہ لگائے گا۔</p>
<p>اس جائزے کی کامیاب تکمیل سے آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کی راہ ہموار ہوگی، جس کے تحت پاکستان پہلے ہی دو قسطوں میں دو ارب ڈالر سے زائد وصول کر چکا ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس کے مطابق پاکستان سے توقع ہے کہ وہ تمام کیو پی سی پورے کرے گا جن میں نیٹ انٹرنیشنل ریزرو اور سواپ پوزیشنز شامل ہیں۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق مالی سال 2025 کے لیے پرائمری بیلنس کے اعدادوشمار پہلے ہی آئی ایم ایف کے ہدف کے مطابق ہیں، اگرچہ حکومت کی ضمانتوں سے متعلق ڈیٹا ابھی تک عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اپنی حالیہ بریفنگ میں میں گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک آنے والے سہ ماہیوں کے لیے اپنی کارکردگی آئی ایم ایف کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا تمام ایس بی پی سے متعلقہ ہدف حاصل کیے گئے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے کہا کہ حالیہ سیلاب کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس جائزے میں مالی سال 2026 کے باقی ہدف پر بھی تفصیلی بحث ہوگی۔</p>
<p>پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب تک موسلا دھار بارشوں اور فلڈز کے نتیجے میں 972 افراد مارے جاچکے ہیں۔</p>
<p>سیلاب نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں فصلیں، مویشی اور مکانات تباہ کردیے ہیں اورسیلاب اب سندھ میں بھی داخل ہورہا ہے جس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ اور مالی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ حکومت اہم اقتصادی تخمینوں میں ترمیم پر غور کررہی ہے: جی ڈی پی کی شرح نمو ممکنہ طور پر 4 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد کی جائے گی، افراطِ زر 8 فیصد تک بڑھ سکتی ہے اور ایف بی آر کے ٹیکس اہداف 14.13 کھرب روپے سے کم کر کے 13.7–13.9 کھرب روپے کیا جاسکتے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے پاکستان میں مقیم نمائندے نے نوٹ کیا کہ یہ جائزہ ملک کی مالی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں اہم ہوگا تاکہ اس آفت کے ردعمل کو سنبھالا جا سکے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے زور دیا کہ آنے والا جائزہ سیلاب کے وسیع سماجی اور اقتصادی اثرات کے پیشِ نظر نہایت اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور حکومت اقتصادی تخمینوں پر اتفاق رائے تک پہنچیں گے جس میں ممکنہ طور پر مالی خسارہ اور افراطِ زر کے اہداف میں اضافہ اور جی ڈی پی اور ایف بی آر کے محصولاتی اہداف میں کمی متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277230</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 14:44:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/20141039dbd16b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/20141039dbd16b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
