<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں اسکلڈ ورکرز کیلئے ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر سالانہ مقرر، ٹیکنالوجی سیکٹر کیلئے بڑا دھچکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277228/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کمپنیوں سے ایچ ون بی ورک ویزا(یعنی اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں) ہولڈرز کے لیے سالانہ 100,000 ڈالر وصول کرے گی، جو بھارت اور چین سمیت دیگر ممالک سے ماہر کارکنان پر انحصار کرنے والے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر امیگریشن کریک ڈاؤن شروع کیا جس میں قانونی امیگریشن کی بعض شکلوں کو محدود کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ایچ-1 بی ویزا پروگرام کی شکل نو انتظامیہ کی سب سے نمایاں کوشش ہے جو عارضی ملازمت کے ویزوں کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹ نِک نے کہا کہ اگر کسی کو تربیت دینا ہے تو ملک کی معروف یونیورسٹیوں کے حالیہ گریجویٹس میں سے کسی کو تربیت دیں۔ امریکیوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کریں اور بیرونی افراد کو ہماری نوکریاں لینے کے لیے لانا بند کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی ایچ-1 بی ویزا پر کریک ڈاؤن کی دھمکی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے تنازع کا باعث بنی ہے جس نے ان کی صدارتی مہم میں لاکھوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی نظر سے دیکھی گئی داخلی ای میلز کے مطابق مائیکروسافٹ اور جے پی مورگن نے نئے فیس کے اعلان کے بعد ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکہ میں رہیں۔ بیرون ملک موجود ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز کو بھی کہا گیا کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے واپس آئیں تاکہ نئی فیس نافذ ہونے سے پہلے کام جاری رہ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن کے ملازمین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اوگلی ٹری ڈیکنز نے ہدایت دی کہ جو ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز امریکہ میں موجود ہیں، وہ حکومت کی واضح رہنمائی تک بین الاقوامی سفر سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسافٹ، جے پی مورگن اور اوگلی ٹری ڈیکنز نے ابھی تک رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ-1 بی پروگرام کے ناقدین جن میں کئی امریکی ٹیکنالوجی کارکن شامل ہیں کہتے ہیں کہ یہ پروگرام کمپنیوں کو تنخواہیں کم رکھنے اور امریکی کارکنوں کو پسِ پشت ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔ جبکہ ایلون مسک  کہتے ہیں کہ یہ پروگرام انتہائی ماہر کارکنان لاتا ہے جو ٹیلنٹ کے خلا کو پر کرنے اور کمپنیوں کو مقابلے کے قابل رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ایلون مسک خود جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے امریکی شہری ہیں اور انہوں نے ایچ-1 بی ویزا حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کچھ آجر اس پروگرام کا فائدہ اٹھا کر تنخواہیں کم رکھ رہے ہیں، جس سے امریکی ملازمین متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، 2000 سے 2019 کے دوران امریکہ میں غیر ملکی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد دگنی سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 2.5 ملین ہو گئی، جبکہ مجموعی STEM ملازمت میں صرف 44.5 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کمپنیوں سے ایچ ون بی ورک ویزا(یعنی اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں) ہولڈرز کے لیے سالانہ 100,000 ڈالر وصول کرے گی، جو بھارت اور چین سمیت دیگر ممالک سے ماہر کارکنان پر انحصار کرنے والے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر امیگریشن کریک ڈاؤن شروع کیا جس میں قانونی امیگریشن کی بعض شکلوں کو محدود کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ایچ-1 بی ویزا پروگرام کی شکل نو انتظامیہ کی سب سے نمایاں کوشش ہے جو عارضی ملازمت کے ویزوں کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے کی گئی ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹ نِک نے کہا کہ اگر کسی کو تربیت دینا ہے تو ملک کی معروف یونیورسٹیوں کے حالیہ گریجویٹس میں سے کسی کو تربیت دیں۔ امریکیوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کریں اور بیرونی افراد کو ہماری نوکریاں لینے کے لیے لانا بند کریں۔</p>
<p>ٹرمپ کی ایچ-1 بی ویزا پر کریک ڈاؤن کی دھمکی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے تنازع کا باعث بنی ہے جس نے ان کی صدارتی مہم میں لاکھوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی تھی۔</p>
<p>رائٹرز کی نظر سے دیکھی گئی داخلی ای میلز کے مطابق مائیکروسافٹ اور جے پی مورگن نے نئے فیس کے اعلان کے بعد ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکہ میں رہیں۔ بیرون ملک موجود ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز کو بھی کہا گیا کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے واپس آئیں تاکہ نئی فیس نافذ ہونے سے پہلے کام جاری رہ سکے۔</p>
<p>جے پی مورگن کے ملازمین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اوگلی ٹری ڈیکنز نے ہدایت دی کہ جو ایچ-1 بی ویزا ہولڈرز امریکہ میں موجود ہیں، وہ حکومت کی واضح رہنمائی تک بین الاقوامی سفر سے گریز کریں۔</p>
<p>مائیکروسافٹ، جے پی مورگن اور اوگلی ٹری ڈیکنز نے ابھی تک رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ایچ-1 بی پروگرام کے ناقدین جن میں کئی امریکی ٹیکنالوجی کارکن شامل ہیں کہتے ہیں کہ یہ پروگرام کمپنیوں کو تنخواہیں کم رکھنے اور امریکی کارکنوں کو پسِ پشت ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔ جبکہ ایلون مسک  کہتے ہیں کہ یہ پروگرام انتہائی ماہر کارکنان لاتا ہے جو ٹیلنٹ کے خلا کو پر کرنے اور کمپنیوں کو مقابلے کے قابل رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ایلون مسک خود جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے امریکی شہری ہیں اور انہوں نے ایچ-1 بی ویزا حاصل کیا تھا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کچھ آجر اس پروگرام کا فائدہ اٹھا کر تنخواہیں کم رکھ رہے ہیں، جس سے امریکی ملازمین متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، 2000 سے 2019 کے دوران امریکہ میں غیر ملکی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد دگنی سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 2.5 ملین ہو گئی، جبکہ مجموعی STEM ملازمت میں صرف 44.5 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277228</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 14:00:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/2013073624a02e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="440" width="660">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/2013073624a02e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
