<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا ایس سی اوز فریم ورک میں اصلاحات کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277219/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز (بی او ڈیز) کی تقرری اور ان کی نگرانی کے موجودہ نظام کا ازسرِ نو جائزہ لے کر اسے مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ اسی طرح سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) کی تقرری کے طریقہ کار میں ایک نیا مرحلہ بھی شامل کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ، احد خان چیمہ کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان میں سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل، سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخر اے عالم عرفان، سیکریٹری فنانس ڈویژن امداد اللہ بوسال، سیکریٹری کامرس جواد پال، وزیراعظم کے اسپیشل سیکریٹری شکیل احمد منجنیجو، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو رشید محمود لنگڑیال، سی ای او کارنداز وقاص الحسن، ایڈیشنل سیکریٹری II پی ایم او، ایڈیشنل سیکریٹری (IF&amp;amp;I) فنانس ڈویژن قمر سرور عباسی اور لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کے لیجسلیٹو ایڈوائزر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں  کے بورڈز میں ڈائریکٹرز کی تقرری سے متعلق موجودہ فریم ورک میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ اس عمل میں مزید شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اپنے ٹرمز آف ریفرنس کی روشنی میں اس تجویز کے فوائد اور نقصانات پر غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد موجودہ فریم ورک میں درج ذیل مسائل کی نشاندہی کی:(i) گورننس، فنانس، قانون اور انتظام کے شعبوں میں پیشہ ور افراد کی محدود دستیابی۔(ii) ایکس آفیشیو اراکین کی بامعنی شراکت کے لیے وزارتوں کے اندر ’پروفیشنل سپورٹ یونٹ‘ کی عدم دستیابی۔(iii) ایکس آفیشیو  نامزدگیاں صرف پیرنٹ وزارت تک محدود ہیں، وسیع مہارت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔(iv) ڈائریکٹرز کے لیے کارکردگی کی تشخیص کے نظام کی عدم موجودگی۔(v) طویل چار درجاتی تقرری کا عمل جو تاخیر کا باعث بنتا ہے۔(vi) CCoSOEs کی سطح پر بہت کم ویلیو ایڈیشن۔(vii) بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی کام جاری رکھنے کی مثالیں۔(viii) وزارتوں کی جانب سے بورڈز کی تنظیم نو میں غیر معمولی تاخیر۔(ix) سی ای اوز کی تقرری میں بے ضابطگیاں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اداروں  کے بورڈز میں ڈائریکٹرز کی تقرری کے موجودہ فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے، کمیٹی نے درج ذیل تجاویز کو حتمی شکل دی ہے:(i) متعلقہ وزارتوں کے غور و خوض کے لیے تکنیکی، مالیاتی، اور قانونی ماہرین کا ایک پول بنانا۔(ii) آزاد ڈائریکٹرز کے لیے ڈائریکٹرز ٹریننگ پروگرام کے معیار کو بہتر بنانا اور ایس ایم سی/این ایم سی میں سول سرونٹس کے لیے ایک ماڈیول شامل کرنا۔(iii) سول سرونٹس کے لیے ایک آن لائن ڈائریکٹرز ٹریننگ پروگرام متعارف کرانا۔(iv) جانچ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے ایک مقررہ ردعمل کا وقت۔(v) اس کی افادیت کو بڑھانے کے لیے پورے فریم ورک میں CCoSOEs کے کردار کا جائزہ لینا۔(vi) وزارتوں میں ایک خصوصی یونٹ کا قیام جو تقرری کے عمل اور ڈائریکٹرز کی کارکردگی کی نگرانی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی تقرری کے عمل پر کمیٹی نے سرکاری اداروں کے سی ای اوز کی تقرری کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی جائزے کے بعد کمیٹی نے درج ذیل سفارشات پیش کیں:(i) اگر ممکن ہو تو شفافیت اور میرٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے تقرری کے عمل میں ایک اضافی مرحلہ شامل کیا جائے۔ فنانس ڈویژن کو سی ای اوز کی تقرری کے حوالے سے عالمی بہترین طریقۂ کار کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی؛ اور(ii) بورڈ آف ڈائریکٹرز  متعلقہ وزارت کو حتمی انتخاب کے لیے تین امیدواروں کا پینل پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز (بی او ڈیز) کی تقرری اور ان کی نگرانی کے موجودہ نظام کا ازسرِ نو جائزہ لے کر اسے مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ اسی طرح سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) کی تقرری کے طریقہ کار میں ایک نیا مرحلہ بھی شامل کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ، احد خان چیمہ کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان میں سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل، سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخر اے عالم عرفان، سیکریٹری فنانس ڈویژن امداد اللہ بوسال، سیکریٹری کامرس جواد پال، وزیراعظم کے اسپیشل سیکریٹری شکیل احمد منجنیجو، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو رشید محمود لنگڑیال، سی ای او کارنداز وقاص الحسن، ایڈیشنل سیکریٹری II پی ایم او، ایڈیشنل سیکریٹری (IF&amp;I) فنانس ڈویژن قمر سرور عباسی اور لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کے لیجسلیٹو ایڈوائزر شامل ہیں۔</p>
<p>کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں  کے بورڈز میں ڈائریکٹرز کی تقرری سے متعلق موجودہ فریم ورک میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ اس عمل میں مزید شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>کمیٹی نے اپنے ٹرمز آف ریفرنس کی روشنی میں اس تجویز کے فوائد اور نقصانات پر غور کیا۔</p>
<p>کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد موجودہ فریم ورک میں درج ذیل مسائل کی نشاندہی کی:(i) گورننس، فنانس، قانون اور انتظام کے شعبوں میں پیشہ ور افراد کی محدود دستیابی۔(ii) ایکس آفیشیو اراکین کی بامعنی شراکت کے لیے وزارتوں کے اندر ’پروفیشنل سپورٹ یونٹ‘ کی عدم دستیابی۔(iii) ایکس آفیشیو  نامزدگیاں صرف پیرنٹ وزارت تک محدود ہیں، وسیع مہارت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔(iv) ڈائریکٹرز کے لیے کارکردگی کی تشخیص کے نظام کی عدم موجودگی۔(v) طویل چار درجاتی تقرری کا عمل جو تاخیر کا باعث بنتا ہے۔(vi) CCoSOEs کی سطح پر بہت کم ویلیو ایڈیشن۔(vii) بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی کام جاری رکھنے کی مثالیں۔(viii) وزارتوں کی جانب سے بورڈز کی تنظیم نو میں غیر معمولی تاخیر۔(ix) سی ای اوز کی تقرری میں بے ضابطگیاں۔</p>
<p>سرکاری اداروں  کے بورڈز میں ڈائریکٹرز کی تقرری کے موجودہ فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے، کمیٹی نے درج ذیل تجاویز کو حتمی شکل دی ہے:(i) متعلقہ وزارتوں کے غور و خوض کے لیے تکنیکی، مالیاتی، اور قانونی ماہرین کا ایک پول بنانا۔(ii) آزاد ڈائریکٹرز کے لیے ڈائریکٹرز ٹریننگ پروگرام کے معیار کو بہتر بنانا اور ایس ایم سی/این ایم سی میں سول سرونٹس کے لیے ایک ماڈیول شامل کرنا۔(iii) سول سرونٹس کے لیے ایک آن لائن ڈائریکٹرز ٹریننگ پروگرام متعارف کرانا۔(iv) جانچ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے ایک مقررہ ردعمل کا وقت۔(v) اس کی افادیت کو بڑھانے کے لیے پورے فریم ورک میں CCoSOEs کے کردار کا جائزہ لینا۔(vi) وزارتوں میں ایک خصوصی یونٹ کا قیام جو تقرری کے عمل اور ڈائریکٹرز کی کارکردگی کی نگرانی کرے۔</p>
<p>چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی تقرری کے عمل پر کمیٹی نے سرکاری اداروں کے سی ای اوز کی تقرری کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔</p>
<p>تفصیلی جائزے کے بعد کمیٹی نے درج ذیل سفارشات پیش کیں:(i) اگر ممکن ہو تو شفافیت اور میرٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے تقرری کے عمل میں ایک اضافی مرحلہ شامل کیا جائے۔ فنانس ڈویژن کو سی ای اوز کی تقرری کے حوالے سے عالمی بہترین طریقۂ کار کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی؛ اور(ii) بورڈ آف ڈائریکٹرز  متعلقہ وزارت کو حتمی انتخاب کے لیے تین امیدواروں کا پینل پیش کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277219</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 10:55:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/201051599a4d027.webp" type="image/webp" medium="image" height="515" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/201051599a4d027.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
