<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی معاہدے کے بعد پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ بھی دفاعی معاہدوں کیلئے پرُعزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277214/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب کے ساتھ تاریخی  دفاعی تعاون کے معاہدے کے بعد پاکستان نے دیگر دوست ممالک کو بھی اسی نوعیت کے دفاعی معاہدوں کی پیشکش کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اور ایٹمی طاقت رکھنے والے پاکستان نے بدھ کی رات ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس سے عشروں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا گیا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کے قطر پر حملوں نے خطے کی سفارتی حکمتِ عملی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی عرب ریاستیں بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار ہیں کہ امریکہ بطور سکیورٹی ضامن کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔ پاکستان واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے اور اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج بھی اسی کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دفاعی معاہدہ دیگر خلیجی ممالک تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارا اس معاہدے کو کسی جارحیت کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن اگر فریقین کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ معاہدہ لازمی طور پر فعال ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جمعہ کو اشارہ دیا کہ اس تاریخی معاہدے کے بعد کچھ ممالک پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن اس پیشرفت کے بعد دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کے معاہدوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، تاہم ایسی چیزیں ایک باقاعدہ عمل سے گزرتی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی اسے طے کرنے میں کئی ماہ لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈار نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ یہ غیر رسمی یقین موجود رہا ہے کہ سعودی عرب کے تحفظ، بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اب اس معاہدے کے بعد یہ بات باضابطہ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک اس معاہدے پر خوش ومطمئن ہیں اور یہ کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ عالمی بحران ہو یا حالیہ معاشی بحران۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب ممالک کو اسرائیل سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر سعودی پاکستان دفاعی معاہدہ پاکستان  اور اس کی ایٹمی چھتری کو خطے کے سکیورٹی حساب کتاب میں شامل کر رہا ہے۔ اگرچہ معاہدے کی تفصیلات کم ہی ظاہر کی گئی ہیں، پاکستان کی سرکاری ایٹمی پالیسی یہ کہتی ہے کہ اس کے ہتھیار صرف اپنے دیرینہ حریف بھارت کے خلاف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سعودی عرب عندیہ دے رہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اسے عملی طور پر ایٹمی تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ ماہرین کے مطابق اسرائیل  جسے مشرقِ وسطیٰ میں واحد ایٹمی ریاست سمجھا جاتا ہے اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے رائٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے میں ایٹمی ہتھیار  زیر غور نہیں  ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی عرب ریاستوں نے کہا کہ اسرائیل نے قطر پر حملے کر کے خود کو براہِ راست خطرہ ثابت کیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی کہا ہے کہ اگر اس کا حریف ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا ہے تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سعودی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جو تمام فوجی ذرائع پر محیط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں امریکہ کے فراہم کردہ سکیورٹی پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز لندن کے ماہر حسن الحسن نے کہا سعودی نقطہ نظر سے یہ معاہدہ اسرائیل کے مقابلے میں اسٹریٹجک اور روایتی دفاعی خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے ایک بیان میں کہا گیا کہ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکومت نے کہا کہ  یہ معاہدہ واضح کرتا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے سعودی سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کے فروغ میں گہری دلچسپی لی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب کے ساتھ تاریخی  دفاعی تعاون کے معاہدے کے بعد پاکستان نے دیگر دوست ممالک کو بھی اسی نوعیت کے دفاعی معاہدوں کی پیشکش کر دی ہے۔</strong></p>
<p>سعودی عرب اور ایٹمی طاقت رکھنے والے پاکستان نے بدھ کی رات ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس سے عشروں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا گیا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کے قطر پر حملوں نے خطے کی سفارتی حکمتِ عملی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔</p>
<p>خلیجی عرب ریاستیں بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار ہیں کہ امریکہ بطور سکیورٹی ضامن کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔ پاکستان واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے اور اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج بھی اسی کے پاس ہے۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دفاعی معاہدہ دیگر خلیجی ممالک تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارا اس معاہدے کو کسی جارحیت کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن اگر فریقین کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ معاہدہ لازمی طور پر فعال ہو جائے گا۔</p>
<p>نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جمعہ کو اشارہ دیا کہ اس تاریخی معاہدے کے بعد کچھ ممالک پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن اس پیشرفت کے بعد دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کے معاہدوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، تاہم ایسی چیزیں ایک باقاعدہ عمل سے گزرتی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ بھی اسے طے کرنے میں کئی ماہ لگے۔</p>
<p>ڈار نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ یہ غیر رسمی یقین موجود رہا ہے کہ سعودی عرب کے تحفظ، بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اب اس معاہدے کے بعد یہ بات باضابطہ ہو گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک اس معاہدے پر خوش ومطمئن ہیں اور یہ کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ عالمی بحران ہو یا حالیہ معاشی بحران۔</p>
<p>عرب ممالک کو اسرائیل سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر سعودی پاکستان دفاعی معاہدہ پاکستان  اور اس کی ایٹمی چھتری کو خطے کے سکیورٹی حساب کتاب میں شامل کر رہا ہے۔ اگرچہ معاہدے کی تفصیلات کم ہی ظاہر کی گئی ہیں، پاکستان کی سرکاری ایٹمی پالیسی یہ کہتی ہے کہ اس کے ہتھیار صرف اپنے دیرینہ حریف بھارت کے خلاف ہیں۔</p>
<p>تاہم سعودی عرب عندیہ دے رہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اسے عملی طور پر ایٹمی تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ ماہرین کے مطابق اسرائیل  جسے مشرقِ وسطیٰ میں واحد ایٹمی ریاست سمجھا جاتا ہے اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے گا۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے رائٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے میں ایٹمی ہتھیار  زیر غور نہیں  ہیں۔</p>
<p>خلیجی عرب ریاستوں نے کہا کہ اسرائیل نے قطر پر حملے کر کے خود کو براہِ راست خطرہ ثابت کیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی کہا ہے کہ اگر اس کا حریف ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا ہے تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔</p>
<p>ایک سینئر سعودی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جو تمام فوجی ذرائع پر محیط ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں امریکہ کے فراہم کردہ سکیورٹی پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔</p>
<p>انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز لندن کے ماہر حسن الحسن نے کہا سعودی نقطہ نظر سے یہ معاہدہ اسرائیل کے مقابلے میں اسٹریٹجک اور روایتی دفاعی خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے۔</p>
<p>سعودی عرب کے ایک بیان میں کہا گیا کہ معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>پاکستانی حکومت نے کہا کہ  یہ معاہدہ واضح کرتا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے سعودی سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کے فروغ میں گہری دلچسپی لی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277214</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 19:21:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19185420f117945.webp" type="image/webp" medium="image" height="436" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19185420f117945.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
