<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:23:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:23:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطری ثالثی کے بعد طالبان نے برطانوی جوڑے کو رہا کر دیا، عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277213/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;طالبان کی جانب سے رواں سال فروری میں افغانستان میں گرفتار کیے گئے   معمر برطانوی جوڑے کو قطری ثالثی کے بعد جمعہ کو رہا کر دیا گیا اور وہ دوحہ کے لیے روانہ ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا باربی اور پیٹر رینالڈز کے اہلِ خانہ ان کی صحت اور طالبان کی قید میں ان کے زندہ رہنے  کے حوالے سے تشویش کا شکار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے پر سوار ہونے سے قبل 76 سالہ باربی رینالڈز نے کہا کہ وہ اور ان کے 80 سالہ شوہر  اگر ممکن ہوا تو واپس آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ افغان شہری ہیں،تاہم فی الحال وہ  اپنے بچوں اور اہلِ خانہ سے دوبارہ ملنے  کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر اور طالبان کے درمیان کئی ماہ مذاکرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق قطر نے طالبان حکام کے ساتھ کئی ماہ تک برطانیہ اور جوڑے کے اہلِ خانہ کی مشاورت سے مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آٹھ ماہ کی قید کے دوران  انہیں زیادہ تر الگ الگ رکھا گیا،تاہم  کابل میں قطری سفارت خانے نے انہیں اہم سہولتیں فراہم کیں، جن میں ڈاکٹر تک رسائی، ادویات کی فراہمی اور اہلِ خانہ سے باقاعدہ رابطہ شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں گرفتار غیر ملکیوں کی رہائی کے لیے کام کیا  اور صرف اس سال کم از کم تین امریکیوں کو رہا کرایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وزارتِ خارجہ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اس جوڑے نے افغان قوانین کی خلاف ورزی کی تھی، تاہم کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ وزارت نے کہا کہ افغانستان  غیر ملکی شہریوں سے متعلق معاملات کو سیاسی یا لین دین کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ لنڈسے نے کہا یہ تو ظاہر ہے کہ حکام پر منحصر ہے کہ وہ کیوں گرفتار ہوئے، لیکن ہم بہت شکر گزار ہیں کہ آج کم از کم ایک عظیم انسانی دن ہے  کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے دوبارہ مل سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی جوڑا 18 برس سے افغانستان میں مقیم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اس جوڑے کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے حکام کو اطلاع دیے بغیر ایک طیارے کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وہ 18 برس سے افغانستان میں مقیم تھے اور ایک فلاحی پروگرام چلا رہے تھے، جس کی طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد منظوری دی تھی۔ برطانیہ کے  سنڈے ٹائمز  کے مطابق وہ اسکولوں میں منصوبے  پر کام کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جوڑا اپنے ایک چینی نژاد امریکی دوست فی ہال اور اپنے تربیتی ادارے کے ایک مترجم کے ساتھ گرفتار ہوا تھا، برطانوی خبر رساں ادارے  پی اے نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی ہال کو مارچ میں اسی طرح قطری ثالثی کے ذریعے رہا کر دیا گیا تھا، تاہم مترجم کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع  نہیں  مل سکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی ممالک بشمول برطانیہ اور امریکا نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے سفارت خانے بند کر دیے اور سفارتکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال برطانیہ اپنے شہریوں کو افغانستان سفر کرنے سے باز رکھتا ہے کیونکہ وہاں گرفتاری کا خطرہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>طالبان کی جانب سے رواں سال فروری میں افغانستان میں گرفتار کیے گئے   معمر برطانوی جوڑے کو قطری ثالثی کے بعد جمعہ کو رہا کر دیا گیا اور وہ دوحہ کے لیے روانہ ہو گئے۔</strong></p>
<p>ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا باربی اور پیٹر رینالڈز کے اہلِ خانہ ان کی صحت اور طالبان کی قید میں ان کے زندہ رہنے  کے حوالے سے تشویش کا شکار تھے۔</p>
<p>طیارے پر سوار ہونے سے قبل 76 سالہ باربی رینالڈز نے کہا کہ وہ اور ان کے 80 سالہ شوہر  اگر ممکن ہوا تو واپس آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ افغان شہری ہیں،تاہم فی الحال وہ  اپنے بچوں اور اہلِ خانہ سے دوبارہ ملنے  کے منتظر ہیں۔</p>
<p><strong>قطر اور طالبان کے درمیان کئی ماہ مذاکرات</strong></p>
<p>عہدیدار کے مطابق قطر نے طالبان حکام کے ساتھ کئی ماہ تک برطانیہ اور جوڑے کے اہلِ خانہ کی مشاورت سے مذاکرات کیے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آٹھ ماہ کی قید کے دوران  انہیں زیادہ تر الگ الگ رکھا گیا،تاہم  کابل میں قطری سفارت خانے نے انہیں اہم سہولتیں فراہم کیں، جن میں ڈاکٹر تک رسائی، ادویات کی فراہمی اور اہلِ خانہ سے باقاعدہ رابطہ شامل تھا۔</p>
<p>قطر نے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں گرفتار غیر ملکیوں کی رہائی کے لیے کام کیا  اور صرف اس سال کم از کم تین امریکیوں کو رہا کرایا ہے۔</p>
<p>افغان وزارتِ خارجہ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اس جوڑے نے افغان قوانین کی خلاف ورزی کی تھی، تاہم کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ وزارت نے کہا کہ افغانستان  غیر ملکی شہریوں سے متعلق معاملات کو سیاسی یا لین دین کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا۔</p>
<p>دوسری جانب افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ لنڈسے نے کہا یہ تو ظاہر ہے کہ حکام پر منحصر ہے کہ وہ کیوں گرفتار ہوئے، لیکن ہم بہت شکر گزار ہیں کہ آج کم از کم ایک عظیم انسانی دن ہے  کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے دوبارہ مل سکیں گے۔</p>
<p><strong>برطانوی جوڑا 18 برس سے افغانستان میں مقیم</strong></p>
<p>بی بی سی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اس جوڑے کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے حکام کو اطلاع دیے بغیر ایک طیارے کا استعمال کیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وہ 18 برس سے افغانستان میں مقیم تھے اور ایک فلاحی پروگرام چلا رہے تھے، جس کی طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد منظوری دی تھی۔ برطانیہ کے  سنڈے ٹائمز  کے مطابق وہ اسکولوں میں منصوبے  پر کام کررہے تھے۔</p>
<p>یہ جوڑا اپنے ایک چینی نژاد امریکی دوست فی ہال اور اپنے تربیتی ادارے کے ایک مترجم کے ساتھ گرفتار ہوا تھا، برطانوی خبر رساں ادارے  پی اے نے رپورٹ کیا۔</p>
<p>فی ہال کو مارچ میں اسی طرح قطری ثالثی کے ذریعے رہا کر دیا گیا تھا، تاہم مترجم کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع  نہیں  مل سکی ہے۔</p>
<p>مغربی ممالک بشمول برطانیہ اور امریکا نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے سفارت خانے بند کر دیے اور سفارتکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔</p>
<p>فی الحال برطانیہ اپنے شہریوں کو افغانستان سفر کرنے سے باز رکھتا ہے کیونکہ وہاں گرفتاری کا خطرہ موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277213</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 18:39:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19182443737d8cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19182443737d8cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
