<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مانیٹری پالیسی اور معاشی زمینی حقائق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 16 ستمبر کو جاری کی گئی اپنی حالیہ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ (ایم پی ایس) میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ سیلاب کے بعد مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی ایس نے بظاہر اپنے فیصلے کو ایک تضاد پر قائم کیا ہے۔ ایک طرف یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ”یہ وقتی لیکن اہم سیلاب سے پیدا ہونے والا سپلائی شاک، خصوصاً زرعی شعبے میں، ہیڈ لائن افراطِ زر کو اوپر لے جا سکتا ہے…“
جس کا مطلب ہے کہ مہنگائی زیادہ تر سیلاب سے پیدا ہونے والے مجموعی سپلائی شاک کے باعث بڑھے گی، لیکن دوسری طرف اس مہنگائی کے دباؤ کو سود کی شرح سے جوڑ دیا گیا ہے، جیسے یہ طلب پر مبنی مہنگائی ہو، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں بیان میں کہا گیا ہے کہ ”…قومی سطح پر طلب میں معتدل اضافہ…“
لیکن بڑے پیمانے پر تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں زرعی معیشت کی بربادی کے باعث اس طلب میں مزید کمی کا امکان ہے؛ جبکہ مجموعی طلب پہلے ہی تقریباً تین سالہ مانیٹری ٹائٹیننگ (مالیاتی سختی) کے نتیجے میں سکڑ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طلب میں اس کمی کے اثرات درمیانی مدت میں کم شرح نمو کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں، جو اوسطاً محض آبادی کی شرح نمو کے برابر رہی ہے۔ اس کے ساتھ بے روزگاری اور غربت کی سطح میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ عدم مساوات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہو، کیونکہ حقیقی معیشت کی کارکردگی سود پر آمدنی حاصل کرنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب معاشی اصلاحات کی کمی اور ضروری مراعات نہ دینے کے باعث حقیقی شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں آ سکی۔ اس کی واضح مثال درمیانی مدت میں بڑے پیمانے کی صنعت اور زرعی شعبے کی نہایت کمزور کارکردگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو معمولی سا معاشی استحکام حاصل ہوا ہے اس کی پائیداری کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے، کیونکہ اقتصادی اداروں/وزارتوں، تنظیموں اور منڈیوں میں اصلاحات کسی بامعنی انداز میں شروع ہی نہیں کی گئیں۔ موجودہ استحکام زیادہ تر اس معاشی ترقی کی قربانی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔ اس کی بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ مانیٹری اور فِسکل کٹوتی رہی، جس نے مجموعی طلب کو دبا دیا اور کاروبار کرنے کی لاگت بڑھا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران زرعی شعبہ اور بالخصوص زرعی صنعت، جس میں برآمدی معیشت کا مرکزی انجن، ٹیکسٹائلز کا شعبہ بھی شامل ہے، سختی اور نیولبرل پالیسی کے اثرات سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ مثال کے طور پر نیولبرل پالیسی کے تحت زرعی منڈیاں، جو اپنی بہترین مارکیٹ کلیئرنگ صلاحیت کے لحاظ سے پہلے ہی غیر ترقی یافتہ تھیں، حال ہی میں گندم کی فصل کے معاملے میں حکومت کی اعلان کردہ قیمت یا حکومت کی خریداری کے بغیر چھوڑ دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کسان بھی نقصان میں رہے اور حکومت کی یہ صلاحیت بھی کمزور ہو گئی کہ وہ ضرورت پڑنے پر گندم کی سپلائی جاری کرکے ناجائز منافع خوری کو کم کر سکے۔ اس کے علاوہ زرعی معیشت کو تباہ کن سیلاب نے مزید نقصان پہنچایا، جبکہ حکومت کے پاس گزشتہ فصل سے گندم کا اتنا ذخیرہ بھی موجود نہیں تھا کہ وہ ایسے وقت میں جاری کر سکے جب منڈی میں بظاہر مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں گندم کی قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے پیمانے کی تباہ کن سیلابی صورتحال کئی دہائیوں میں نظر نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات بڑھتی ہوئی عالمی حدت ہے جس کے نتیجے میں بادل پھٹنے کے واقعات، گلیشیئر کا  تیز رفتار پگھلاؤ اور غیر معمولی طوفانی بارشیں سامنے آئیں۔ اب تک تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ کھڑی فصلوں اور مویشیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ لاکھوں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور ان کے اثاثے سیلابی پانی میں بہہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم معیشت کی اس کمزور اور نازک حالت نے بظاہر مانیٹری پالیسی کی سوچ پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ اس کے برعکس اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ایم پی سی نے مشاہدہ کیا کہ معیشت جاری سیلاب کے منفی اثرات کو برداشت کرنے کے لیے نمایاں طور پر زیادہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں شرح سود کو جوں کا توں رکھنے کے بجائے نمایاں حد تک کم کیا جانا چاہیے تھا، بالخصوص اسٹیٹ بینک نے خود اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ “…کم افراطِ زر کا ماحول، معتدل گھریلو طلب اور عالمی سطح پر اجناس کی نسبتاً سازگار قیمتوں کا رجحان…” موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگست 2024 سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے (یعنی 9.6 فیصد) جبکہ شرح سود اب بھی ڈبل ڈیجٹ پر موجود ہے، جو کسی حد تک حیران کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کو چاہیے تھا کہ مانیٹری پالیسی کو نرم کرتا اور واضح اشارہ دیتا کہ آئندہ یہ شرح سود تیز رفتاری سے کم کرنے کی راہ پر گامزن ہوگی۔ یہ قدم مالیاتی پالیسی کے لیے بروقت معلومات فراہم کرتا تاکہ سیلاب سے متعلق اخراجات اور مجموعی قرضہ جاتی نظم و نسق کو بہتر طریقے سے ترتیب دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود میں بڑی کمی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ حکومت کو مالی گنجائش درکار ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ بحالی اور پائیداری کے چیلنجز سے بروقت نمٹا جا سکے۔ بصورت دیگر بلند شرح سود کے نتیجے میں سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں حکومت کے لیے اخراجات بڑھانے کو مشکل بنا دیں گی، حالانکہ کسانوں کی بحالی اور ملک کی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اخراجات ناگزیر ہیں۔ اگر زرعی شعبہ سہارا نہ پا سکا تو خوراک کی درآمدات میں اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی بڑھ رہی ہیں اور نتیجتاً کمزور کرنٹ اکاؤنٹ کو مزید دباؤ میں ڈالیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کی خودمختاری پر بھی نظرِثانی کی ضرورت ہے تاکہ مانیٹری پالیسی کمیٹی میں حکومت کو زیادہ نمائندگی حاصل ہو۔ سنگاپور کی طرز پر ایسا ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی کو سمجھنے والے بنیادی عوامل کے ساتھ درست توازن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان میں مہنگائی صرف مانیٹری مسئلہ نہیں بلکہ مالیات اور طرزحکمرانی سے جڑا ہوا رجحان ہے۔ مزید یہ کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی پر رسدی عوامل ( وہ تمام عناصر، جو اشیاء اور خدمات کی پیداوار اور فراہمی کو متاثر کرتے اور ان کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے)، کا اثر نمایاں ہو گیا ہے، جو حالیہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات، جیسے سیلاب اور کورونا وبا، کے بعد مہنگائی کے بنیادی محرک بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر، مہنگائی کو کم کرنے کے بجائے یہ لاگت میں اضافے کے ذریعے مہنگائی کو بڑھانے کا سبب بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیولبرلزم کے نظریاتی خول اور ضرورت سے زیادہ کفایت شعاری نے مانیٹری پالیسی کو ایسی راہ پر ڈال دیا ہے جس نے نہ صرف مالیاتی پالیسی کو محدود کر دیا بلکہ سود کی ادائیگیوں کو اس حد تک پہنچا دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، اور این ایف سی ایوارڈ کے نئے ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ صوبوں کی بڑھتی ذمہ داریوں کے ساتھ وسائل کی تقسیم کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ این ایف سی ایوارڈ کی بہتری کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس پر بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیوں کا دباؤ اس امر کا نتیجہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کو نیولبرل اور کفایت شعاری کے زاویے سے ضرورت سے زیادہ جکڑ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 16 ستمبر کو جاری کی گئی اپنی حالیہ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ (ایم پی ایس) میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ سیلاب کے بعد مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ایم پی ایس نے بظاہر اپنے فیصلے کو ایک تضاد پر قائم کیا ہے۔ ایک طرف یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ”یہ وقتی لیکن اہم سیلاب سے پیدا ہونے والا سپلائی شاک، خصوصاً زرعی شعبے میں، ہیڈ لائن افراطِ زر کو اوپر لے جا سکتا ہے…“
جس کا مطلب ہے کہ مہنگائی زیادہ تر سیلاب سے پیدا ہونے والے مجموعی سپلائی شاک کے باعث بڑھے گی، لیکن دوسری طرف اس مہنگائی کے دباؤ کو سود کی شرح سے جوڑ دیا گیا ہے، جیسے یہ طلب پر مبنی مہنگائی ہو، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>مزید برآں بیان میں کہا گیا ہے کہ ”…قومی سطح پر طلب میں معتدل اضافہ…“
لیکن بڑے پیمانے پر تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں زرعی معیشت کی بربادی کے باعث اس طلب میں مزید کمی کا امکان ہے؛ جبکہ مجموعی طلب پہلے ہی تقریباً تین سالہ مانیٹری ٹائٹیننگ (مالیاتی سختی) کے نتیجے میں سکڑ چکی تھی۔</p>
<p>مجموعی طلب میں اس کمی کے اثرات درمیانی مدت میں کم شرح نمو کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں، جو اوسطاً محض آبادی کی شرح نمو کے برابر رہی ہے۔ اس کے ساتھ بے روزگاری اور غربت کی سطح میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ عدم مساوات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہو، کیونکہ حقیقی معیشت کی کارکردگی سود پر آمدنی حاصل کرنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور رہی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>دوسری جانب معاشی اصلاحات کی کمی اور ضروری مراعات نہ دینے کے باعث حقیقی شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں آ سکی۔ اس کی واضح مثال درمیانی مدت میں بڑے پیمانے کی صنعت اور زرعی شعبے کی نہایت کمزور کارکردگی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>مزید یہ کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو معمولی سا معاشی استحکام حاصل ہوا ہے اس کی پائیداری کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے، کیونکہ اقتصادی اداروں/وزارتوں، تنظیموں اور منڈیوں میں اصلاحات کسی بامعنی انداز میں شروع ہی نہیں کی گئیں۔ موجودہ استحکام زیادہ تر اس معاشی ترقی کی قربانی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔ اس کی بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ مانیٹری اور فِسکل کٹوتی رہی، جس نے مجموعی طلب کو دبا دیا اور کاروبار کرنے کی لاگت بڑھا دی۔</p>
<p>اسی دوران زرعی شعبہ اور بالخصوص زرعی صنعت، جس میں برآمدی معیشت کا مرکزی انجن، ٹیکسٹائلز کا شعبہ بھی شامل ہے، سختی اور نیولبرل پالیسی کے اثرات سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ مثال کے طور پر نیولبرل پالیسی کے تحت زرعی منڈیاں، جو اپنی بہترین مارکیٹ کلیئرنگ صلاحیت کے لحاظ سے پہلے ہی غیر ترقی یافتہ تھیں، حال ہی میں گندم کی فصل کے معاملے میں حکومت کی اعلان کردہ قیمت یا حکومت کی خریداری کے بغیر چھوڑ دی گئیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کسان بھی نقصان میں رہے اور حکومت کی یہ صلاحیت بھی کمزور ہو گئی کہ وہ ضرورت پڑنے پر گندم کی سپلائی جاری کرکے ناجائز منافع خوری کو کم کر سکے۔ اس کے علاوہ زرعی معیشت کو تباہ کن سیلاب نے مزید نقصان پہنچایا، جبکہ حکومت کے پاس گزشتہ فصل سے گندم کا اتنا ذخیرہ بھی موجود نہیں تھا کہ وہ ایسے وقت میں جاری کر سکے جب منڈی میں بظاہر مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں گندم کی قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>ایسے پیمانے کی تباہ کن سیلابی صورتحال کئی دہائیوں میں نظر نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات بڑھتی ہوئی عالمی حدت ہے جس کے نتیجے میں بادل پھٹنے کے واقعات، گلیشیئر کا  تیز رفتار پگھلاؤ اور غیر معمولی طوفانی بارشیں سامنے آئیں۔ اب تک تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ کھڑی فصلوں اور مویشیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ لاکھوں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور ان کے اثاثے سیلابی پانی میں بہہ گئے۔</p>
<p>تاہم معیشت کی اس کمزور اور نازک حالت نے بظاہر مانیٹری پالیسی کی سوچ پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ اس کے برعکس اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ایم پی سی نے مشاہدہ کیا کہ معیشت جاری سیلاب کے منفی اثرات کو برداشت کرنے کے لیے نمایاں طور پر زیادہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔”</p>
<p>ایسے حالات میں شرح سود کو جوں کا توں رکھنے کے بجائے نمایاں حد تک کم کیا جانا چاہیے تھا، بالخصوص اسٹیٹ بینک نے خود اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ “…کم افراطِ زر کا ماحول، معتدل گھریلو طلب اور عالمی سطح پر اجناس کی نسبتاً سازگار قیمتوں کا رجحان…” موجود ہے۔</p>
<p>مزید برآں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگست 2024 سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے (یعنی 9.6 فیصد) جبکہ شرح سود اب بھی ڈبل ڈیجٹ پر موجود ہے، جو کسی حد تک حیران کن ہے۔</p>
<p>ایس بی پی کو چاہیے تھا کہ مانیٹری پالیسی کو نرم کرتا اور واضح اشارہ دیتا کہ آئندہ یہ شرح سود تیز رفتاری سے کم کرنے کی راہ پر گامزن ہوگی۔ یہ قدم مالیاتی پالیسی کے لیے بروقت معلومات فراہم کرتا تاکہ سیلاب سے متعلق اخراجات اور مجموعی قرضہ جاتی نظم و نسق کو بہتر طریقے سے ترتیب دیا جا سکے۔</p>
<p>شرح سود میں بڑی کمی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ حکومت کو مالی گنجائش درکار ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ بحالی اور پائیداری کے چیلنجز سے بروقت نمٹا جا سکے۔ بصورت دیگر بلند شرح سود کے نتیجے میں سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں حکومت کے لیے اخراجات بڑھانے کو مشکل بنا دیں گی، حالانکہ کسانوں کی بحالی اور ملک کی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اخراجات ناگزیر ہیں۔ اگر زرعی شعبہ سہارا نہ پا سکا تو خوراک کی درآمدات میں اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی بڑھ رہی ہیں اور نتیجتاً کمزور کرنٹ اکاؤنٹ کو مزید دباؤ میں ڈالیں گی۔</p>
<p>ایس بی پی کی خودمختاری پر بھی نظرِثانی کی ضرورت ہے تاکہ مانیٹری پالیسی کمیٹی میں حکومت کو زیادہ نمائندگی حاصل ہو۔ سنگاپور کی طرز پر ایسا ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی کو سمجھنے والے بنیادی عوامل کے ساتھ درست توازن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>یہ امر بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان میں مہنگائی صرف مانیٹری مسئلہ نہیں بلکہ مالیات اور طرزحکمرانی سے جڑا ہوا رجحان ہے۔ مزید یہ کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی پر رسدی عوامل ( وہ تمام عناصر، جو اشیاء اور خدمات کی پیداوار اور فراہمی کو متاثر کرتے اور ان کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے)، کا اثر نمایاں ہو گیا ہے، جو حالیہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات، جیسے سیلاب اور کورونا وبا، کے بعد مہنگائی کے بنیادی محرک بن گئے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر، مہنگائی کو کم کرنے کے بجائے یہ لاگت میں اضافے کے ذریعے مہنگائی کو بڑھانے کا سبب بنے گا۔</p>
<p>نیولبرلزم کے نظریاتی خول اور ضرورت سے زیادہ کفایت شعاری نے مانیٹری پالیسی کو ایسی راہ پر ڈال دیا ہے جس نے نہ صرف مالیاتی پالیسی کو محدود کر دیا بلکہ سود کی ادائیگیوں کو اس حد تک پہنچا دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، اور این ایف سی ایوارڈ کے نئے ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ صوبوں کی بڑھتی ذمہ داریوں کے ساتھ وسائل کی تقسیم کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔</p>
<p>اگرچہ این ایف سی ایوارڈ کی بہتری کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس پر بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیوں کا دباؤ اس امر کا نتیجہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کو نیولبرل اور کفایت شعاری کے زاویے سے ضرورت سے زیادہ جکڑ دیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277208</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 16:43:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19160614d702e2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19160614d702e2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
